• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ کا دن تھا۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں گہما گہمی تھی۔ حکومتی اراکین اپنی نشستوں پر مطمئن دکھائی دے رہے تھے اپوزیشن اپنی تنقید کی تیاری کر رہی تھی اور وزیر خزانہ آنے والے مالی سال کی ترجیحات بیان کر رہے تھے۔ اعداد و شمار کی ایک لمبی فہرست تھی ترقیاتی منصوبے تھے۔سب کچھ منظم اور پُرامید دکھائی دے رہا تھامگر اسی لمحے اسمبلی سے دور ایک عام گھر میں ایک اور قسم کا بجٹ زیر بحث تھا، ایسا بجٹ جس میں اربوں اور کھربوں کا ذکر نہیں تھا بلکہ آٹے چینی بجلی گیس کرائے دوا اور اسکول فیس کا حساب تھا۔اس گھر کے سربراہ نے شام کو دفتر سے واپسی پر بجلی کا بل میز پر رکھا اور خاموش ہو گیا،کچھ دیر بعد گفتگو شروع ہوئی تو موضوع بجٹ نہیں بلکہ اخراجات تھے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ حکومت نے کس شعبےکیلئے کتنے ارب مختص کیے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ اس ماہ اور کون سی ضرورت مؤخر کی جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومی بجٹ اور گھریلو بجٹ ایک دوسرے سے الگ دکھائی دیتے ہیں۔ہمارے ہاں ہر سال بجٹ آتا ہے اور امیدوں کا ایک نیا باب بھی کھلتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ترقی کی رفتار بڑھے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری ہوگی اور عوام کو سہولتیں میسر آئیں گی۔ عام آدمی کی زندگی میں مگر بجٹ کی کامیابی کا پیمانہ کچھ اور ہوتا ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اسکی زندگی میں کیا بدلا ہے۔ ایک مزدور صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے شام کو واپسی پر وہ بجٹ تقریر کے اہم نکات نہیں دہراتا، وہ صرف یہ سوچتاہے کہ آج کی کمائی سے گھر کا خرچ پورا ہوگا یا نہیں۔ اسے معاشی اصطلاحات سے زیادہ اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ بچوں کے لیے دودھ آئے گا یا نہیں، گیس کا بل وقت پر جمع ہوگا یا نہیں اور اگر کوئی بیمار ہو گیا تو علاج کیسے ہو گا۔غریب آدمی کیلئے بجٹ شاید ایک خبر سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں کئی بجٹ آتے اور جاتے دیکھے ہیں۔ اس کیلئے اصل سوال یہ نہیں کہ بجٹ کا حجم کتنا ہے بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے گھر کا چولہا نسبتاً آسانی سے جل سکے گا، بچوں کیلئے تعلیم کا حصول کچھ آسان ہوگا،علاج اسکی پہنچ میں رہے گی۔ اگر ان سوالوں کے جواب میں بہتری محسوس نہ ہو تو بجٹ کی ضخیم دستاویز اس کیلئے زیادہ معنی نہیں رکھتی۔اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ صورتحال سفید پوش طبقے کی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ خود کو غریب کہتا ہے اور نہ امیر، بس عزت کے ساتھ جینے کی کوشش کرتا ہے، مہنگائی کا سب سے خاموش حملہ اسی طبقے پر ہوتا ہے۔ یہ احتجاج نہیں کرتا مگر آہستہ آہستہ اپنی ضروریات کم کرتا جاتا ہے، بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر کرتا ہے اور بچوں کی خواہشات کو سمجھا بجھا کر ٹال دیتا ہے۔ باہر سے سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے لیکن اندر ایک مسلسل جدوجہد جاری رہتی ہے۔شاید غربت کی سب سے تکلیف دہ شکل وہ نہیں جو نظر آ جاتی ہے بلکہ وہ ہے جو خاموشی سے انسان کے خواب چھین لیتی ہے۔ جب ایک نوجوان تعلیم جاری رکھنے کے بجائے گھر کے اخراجات اٹھانے کیلئے ملازمت پر مجبور ہو جائے،یا جب ایک ماں اپنے علاج کو بچوں کی ضروریات پر قربان کر دے تو یہ صرف معاشی مسائل نہیں رہتے بلکہ معاشرتی مسائل بن جاتے ہیں۔ہر بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کا ذکر ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ سڑکیں، ہسپتال، سکول اور دیگر منصوبے کسی بھی معاشرے کی ضرورت ہیں۔ ایک سوال مگرہمیشہ باقی رہتا ہے۔ کیا ترقی صرف عمارتوں اور منصوبوں کا نام ہے یا اس کا تعلق انسانوں کی زندگیوں سے بھی ہے؟ اگر ایک طرف بڑے منصوبے مکمل ہو رہے ہوں اور دوسری طرف عام آدمی کی بنیادی پریشانیاں کم نہ ہو رہی ہوں تو ترقی کی تصویر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔پنجاب کا بجٹ بھی گزشتہ کئی بجٹوں کی طرح مختلف شعبوں کیلئے ترجیحات متعین کرتا ہے۔ اس میں یقیناً بہت سی مثبت چیزیں ہونگی اور کئی ایسے منصوبے بھی ہونگے جنکے نتائج آنیوالے برسوں میں سامنے آئیں گے۔ اس کے باوجود ایک عام آدمی کے ذہن میں وہی سوال گردش کرتا رہے گا۔ کیا میری زندگی کچھ آسان ہوگی؟ کیا میرے بچوں کا مستقبل زیادہ محفوظ ہوگا؟ کیا میری محنت کی کمائی پہلے سے زیادہ وقعت رکھے گی؟رات گئے جب شہر کی روشنیاں مدھم ہونے لگتی ہیں تو ہزاروں گھرانوں میں لوگ اپنے اپنے حساب کتاب میں مصروف ہوتے ہیں۔ کوئی بجلی کا بل دیکھ رہا ہوتا ہے، کوئی راشن کی فہرست بنا رہا ہوتا ہے اور کوئی اگلے مہینے کے اخراجات کا اندازہ لگا رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کسی بھی بجٹ کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ اگر ان گھروں میں امید پیدا ہو جائے تو بجٹ کامیاب ہے۔ اگر وہاں پریشانیوں کا بوجھ بڑھ جائے تو اعداد و شمار کی چمک زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔بجٹ ہر سال آئیگا، تقریریں بھی ہونگی ، تعریف اور تنقید بھی ہوگی، نئی اسکیمیں بھی متعارف کرائی جائیں گی۔ مگر ایک ریاست کی اصل کامیابی اس دن ثابت ہوگی جب ایک عام آدمی بجٹ سن کر یہ نہ سوچے کہ اب کون سا خرچ کم کرنا ہے بلکہ یہ سوچے کہ شاید اس سال اسکی زندگی واقعی پہلے سے بہتر ہونے جا رہی ہے۔ کیونکہ قومیں صرف ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتیں، وہ اس اعتماد سے بنتی ہیں جو ایک عام شہری اپنے مستقبل کے بارے میں محسوس کرتا ہے۔ اور جب تک یہ اعتماد ہر گھر تک نہیں پہنچتا تب تک بجٹ اسمبلی کی دستاویز تو بن سکتا ہے مگر عام آدمی کی امید نہیں۔

تازہ ترین