• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا نام بے نامی سے شہرت کی عالمی منزلوں پر پہنچ چکا ہے اسکے باوجود، پاکستان کے اندرونی مسائل کی بدرنگی اس قدر پھیل چکی ہے اور گنجلک مسائل روزبروز بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ گلگت اور بلتستان میں الیکشن کے دوران اور بعد ازاں کنگھی سلجھتی نظر نہیں آرہی۔ بنیادی مسئلہ، علاقے میں قبائلی طرز زندگی ہے جس میں اہمیت اور مرکزیت مرد کو حاصل ہے۔ وہ بھی صدیوں پہلے کا مذہبی آہنگ۔تعلیم اور دانش کے فروغ کے متعلق اولیت اور اہمیت گزشتہ80سال میں روشن دماغی اور عورت اور مرد کے رابطے کو انسانی سطح پر، نفرتوں سے مبرا رکھاجائے، ایسی کوئی کاوش کی ہی نہیں گئی۔ اب جبکہ گلگت میں الیکشن ہونے کے بعد کابینہ بھی حلف لے چکی ہے۔ اب ہنگامہ کشمیر کے علاقے میں جاری ہے۔ کوئی کہتاہے کہ یہ ہنگامے انڈین ایجنٹ کرارہے ہیں۔ کشمیر میں چونکہ آئندہ مہینے الیکشن ہونے ہیں اسلئے کچھ لوگ کشمیر ایکشن کمیٹی کو غیر فعال کرنا چاہتے ہیں۔مگر حکومت اس تحریک کے خلاف ہے، توقع ہے کہ بلاول کی توجہ انسانی حقوق کی تعلیم کے توسط،اسکولوں اور مدرسوں کے نئے نصاب کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق پر ہوگی جس سے وہ عورتوں اور بچوں کے حقوق کی مرکز یت کی شناخت اور روزمرہ میں تہذیب کے علمی تجربوں سے کم ازکم گھروں اور اسکولوں میں ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کو ممکن بنا سکیں اور کشمیر میں الیکشن کسی قسم کی رسوائی کے بغیر ہوجائیں تاکہ حالات بہتر ہوسکیں۔

اب رہا پاکستان میں الیکشن کا انعقاد،ہر چند موجودہ حکومت تو پنجاب میں خاص طور پر مقامی کونسلوں کے الیکشن پر بھی خاص توجہ نہیں دے رہی ہے۔ کراچی میں روز شعلہ اٹھتا ہے۔ روز برباد ہوتا ہے ، کراچی کسی سے بھی سنبھل نہیں رہا۔

ہر دوماہ بعد، ہوائی اڑائی جاتی ہے کہ 9مئی کے واقعات کے مجرمان کو دوسال کی سزا کافی ہے اور اب بانی تحریک انصاف اور حکومتی حلقے نیک نیتی سے ماحول ایسا بنائیں کہ پارٹی کے لوگوں بالعموم عوام کے ذہن میں یہ خلجان دور ہوکہ برما کی فوجی بادشاہت کی طرح ہمارے ملک میں بھی سارے صوبوں میں مشاورت اور باہمی رضامندی سے مسئلے حل کیے جائیں۔ پانی کا مسئلہ، بجلی کی مساوی تقسیم اور الیکشن میں دوتہائی تعداد میں خواتین بھی منتخب ہوکر پاکستان کی ترقی، خاص طور پر، آبادی میں کمی ہو اور غیر ممالک کے مقابلے میں پاکستانی اشیا کی تعداد بڑھے ، تعلیمی اور فنی تعلیم کو نوجوان نسل ایسے حاصل کرے کہ نوجوانوں کے دلوں سے باہر جانے کا جنون ختم ہوجائے۔

ایران، امریکہ لڑائی کی بنیاد، تیل کی فراہمی کے علاوہ، ٹرمپ کا خبث باطن بھی تھا۔ اسکے خیال میں کیا ایران اور کیا پاکستان اور دیگر وسطیٰ بحر عرب کے کونوں میں چھوٹے چھوٹے ممالک تیل اور امریکی چھتری میں عیش کررہے تھے۔اب ایران کے ڈرونر کے دھماکوں کو سن کر ، خلیجی ممالک بھی اپنی شناخت اور حیثیت کے بارے میں خود شناسی سے آگاہ ہوکر ، اپنی اپنی کابینہ بنارہے ہیں۔ سعودی عرب والوں نے بھی خاص اجلاس بلایاہے اور سب ریاستوں نے اپنے اپنے علاقوں کی خلقت کی جانب بھی توجہ دینا شروع کردی ہے۔ پہلے تو عرب امارات میں سارے پاکستانی مزدوروں کو خارج کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ ڈر لگنے لگا تھا کہ 30ہزار مزدور،ملک میں واپس آکر کیا کرینگے۔ شکر ہے یہ خدشہ بھی دور ہوگیا ہے۔

لگتا ہے کہ اب طاقت کا توازن، مشرق کی طرف منتقل ہورہا ہے۔ چین نے پاکستان کو پیغام بھیجا ہے کہ افغانستان کے مولویوں کو راہ راست پر لائیں اور تعلقات بہتر کریں۔ مگر کل ایک جوان لڑکی کو جو غیر ملکی ایجنسی میں کام کررہی تھی۔ سڑک پہ چلتے ہوئے گولی مار دی گئی۔ ادھر ایک نوٹس جاری ہوا ہے کہ تمام مردوں کی داڑھیاں، ایک مٹھی لمبی ہونی چاہئیں۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیمی ادارے سو فی صد کھلے رکھنے کے اعلانات ، یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ، بارہا کرتے رہے ہیں۔ اب چین نے پاکستان کا ہاتھ پکڑ کر اللہ کے ہاتھ میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کچھ غیر ملکیوں نےافغانستان حکومت کو سمجھانے کیلئےدورے کیے ہیں۔ مگر یہاں آپ مذہبیات والے ایک کان سے سن کر، دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ نفرتیں، انڈیا میں کیا سوڈان جیسے ممالک میں غربت کے باوجود نہ علم بڑھ رہا ہے اور نہ غربت کم ہورہی ہے۔ اسلئے ایران کو بھی اپنا اسلوب بدلنا پڑےگا۔

تازہ ترین