جو ارضِ کربلا سے بہشتِ بریں گئے
دنیا سے کُوچ کر گئے، دل سے نہیں گئے
ہوگا ضرور اوجِ شہادت ہمیں نصیب
مقتل اِس اعتماد سے اہلِ یقیں گئے
کوثر کی آرزو میں تھے پیاسے فرات پر
جانے کا اشتیاق جہاں تھا، وہیں گئے
جو باوفا ہوں، ساتھ نہیں چھوڑتے کبھی
حُر یا حبیب ابنِ مظاہر کہیں گئے؟
زینب کے پائوں چُھو کے علَمدارِ نامدار
خیمے سے دل گرفتہ و اندوہگیں گئے
بیمار احترام میں اُٹھ بھی نہیں سکا
عابد کے سامنے جب امامِ حزیں گئے
رَن میں گئے حُسین تو کوئی نہیں تھا پاس
کس بیکسی سے خسروِ دُنیا و دیں گئے
معراجِ بندگی ہے کہ اللہ کے حضور
سجدے میں سر جُھکائے وہ روشن جبیں گئے
آغوشِ کربلا میں سمائے جو اے شعورؔ
بالائے آسماں کہ وہ زیرِ زمیں گئے!