بھارتی شہر حیدرآباد میں تعینات معطل تحصیل دار اور جوائنٹ سب رجسٹرار تھمَاکما سچریتا ایک بڑے مالی اسکینڈل میں پھنس گئیں۔
انسداد بدعنوانی بیورو نے ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا مقدمہ درج کرتے ہوئے چھاپوں میں مجموعی طور پر 5.05 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے برآمد کیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون افسر پہلے ہی 30 لاکھ روپے کے رشوت کیس میں گرفتار ہو چکی ہے اور وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن کی تازہ کارروائی کے دوران تھمَاکما کی رہائش گاہ اور رشتے داروں و قریبی افراد سے منسلک مقامات پر تلاشی لی گئی۔
اس دوران 2.17 ایکڑ زرعی زمین، حیدرآباد میں 3 فلیٹس، 2 پلاٹس، ایک ووکس ویگن گاڑی، ایک ہنڈائی کریٹا، 1.2 کروڑ روپے مالیت کے سونے اور ہیرے کے زیورات، 12 لاکھ روپے نقد اور 38 لاکھ روپے بینک میں ہونے کی تصدیق ہوئی۔
حکام کے مطابق تھمَاکما سچریتا پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی سرکاری ملازمت کے دوران مبینہ طور پر اپنی آمدن سے کہیں زیادہ جائیدادیں بنائیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ معطل خاتون افسر کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں۔