کراچی(سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی پالیسی سازی سے وابستہ 10لاکھ روپے ماہانہ لینے والے چار اہم عہدوں پر تقرریوں کے عمل میں کوٹے کی سنگین خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے اور تین عہدوں پر پنجاب کے ڈومسائل کے حامل افراد اور ایک پر خیبر پختون خوا کے ڈومسائل کے حامل شخص کا تقرر کردیا ہے جب کہ کہ سندھ اور بلوچستان کو مکمل نظر انداز کردیا گیا ہے جس سے اس تقرری کے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 20فروری 2026کو ممبر اسٹریٹجک پلاننگ پنجاب کوٹہ، ممبر کوالٹی ایشورنس پنجاب کوٹہ، ممبر ریسرچ و ڈویلپمنٹ سندھ کوٹہ، ممبر اکیڈمک پنجاب کوٹہ اور منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل اکیڈمی میرٹ کے لیے اشتہار دیا گیا تاہم بعد میں خاموشی سے ایک اشتہار کے زریعے تصیحح کی گئی اور ساری آسامیوں کو میرٹ پر کردیا گیا جس کے بعد ڈاکٹر ناصر محمود خان کو ممبر کوالٹی ایشورنس، ڈاکٹر شفیق الرحمن کو ممبر اسٹریٹجک پلاننگ، ڈاکٹر نور آمنہ ملک کو منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) اور ڈاکٹر سید حبیب علی بخاری کو ممبر ریسرچ، ڈویلپمنٹ اینڈ انوویشن مقرر کردیا گیا تقرری پانے والے تینوں امیدواروں کا ڈومسائل پنجاب جب کہ ایک امیدوار کا ڈومیسائل خبرپختون خواہ سے بتایا جاتا ہے۔ جب کہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو نظر انداز کردیا گیا اس خاموش تبدیلی نے متعدد قانونی اور انتظامی سوالات کو جنم دیا ہے کہ ہر عہدے کے لیے کتنی درخواستیں موصول ہوئیں؟ سرچ اینڈ سلیکشن کمیٹی کے ارکان کون تھے اور اس کی منظوری کس مجاز اتھارٹی نے دی؟ ہر عہدے کے لیے کتنے امیدوار شارٹ لسٹ کیے گئے؟ صوبائی کوٹے کو میرٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کس فورم نے کیا؟ اور کیا اس تبدیلی سے کسی امیدوار کی اہلیت یا انتخاب کے امکانات متاثر ہوئے؟ ان سوالات پر جب چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز سے مؤقف لیا گیا تو انہوں نے معاملہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی ضیاالحق کو بھجوانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جواب وہ فراہم کریں گے۔ تاہم دو دن گزرنے کے باوجود ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے موقف نہیں دیا اور نہ ہی ان سے ٹیلی فون پر رابطہ ممکن ہو سکا اس معاملے نے اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر لی جب سرچ اینڈ سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، انکشاف کیا کہ کمیٹی کو یہ آگاہ ہی نہیں کیا گیا تھا کہ مذکورہ تین عہدے ابتدا میں صوبائی کوٹے کی بنیاد پر مشتہر کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق کمیٹی نے امیدواروں کا جائزہ اس بنیاد پر لیا کہ تمام نشستیں میرٹ پر ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ صوبائی کوٹے سے میرٹ میں تبدیلی کب، کس مجاز اتھارٹی کی منظوری سے اور کس مرحلے پر کی گئی، اور کیا سرچ اینڈ سلیکشن کمیٹی کو اس بنیادی تبدیلی سے باقاعدہ آگاہ بھی کیا گیا تھا؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 262 سے زائد جامعات اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے وابستہ ان اہم عہدوں پر ہونے والی تقرریوں کے حوالے سے مکمل ریکارڈ، بشمول موصولہ درخواستوں کی تعداد، شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کی فہرست، سرچ اینڈ سلیکشن کمیٹی کی تشکیل، انٹرویو کے طریقہ کار اور صوبائی کوٹے کو میرٹ میں تبدیل کرنے کی منظوری، فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے۔ تعلیمی و قانونی حلقوں نے وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور ایچ ای سی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ تقرریوں کے اس پورے عمل کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے تاکہ تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔