• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

PSM خسارے میں 1355 فیصد کا زبردست اضافہ، 245.9 ارب تک پہنچ گیا، آڈیٹر جنرل

اسلام آباد (قاسم عباسی) آڈیٹر جنرل کا کہنا ہے PSM خسارے میں 1355فیصد کا زبردست اضافہ، 245.9ارب تک پہنچ گیا، 106 ارب بیل آؤٹ استعمال، بحران کا شکار ادارے کی تنظیمِ نو، سی ای او تقرری اور سرکاری و نجی شراکت داری کی سفارش، پی ٹی اے کی مجموعی آمدنی تین سال میں 62 فیصد سے زائد کم ہو کر 35.3 ارب روپے رہ گئی۔پاکستان اسٹیل ملز کارپوریشن لمیٹڈ (پی ایس ایم) شدید مالی بحران کا شکار ہے، جس کی نمایاں علامت اس کے جمع شدہ خساروں میں 2008-09 میں 16,914 ملین روپے (16.9 ارب روپے) سے بڑھ کر مالی سال 2023-24 تک 245,948 ملین روپے (245.9 ارب روپے) تک پہنچ جانا ہے، یعنی 1,355 فیصد سے زائد اضافہ، جیسا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے۔ آڈٹ کی جھلک میں نظامی ناکامیوں کی ایک پوری فہرست پیش کی گئی ہے، جن میں مالی سال 2023-24 اور 2024-25 کے مالی بیانات کو حتمی شکل نہ دینا شامل ہے، جس نے مالی شفافیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آڈیٹرز نے 11,053 ملین روپے (11 ارب روپے) مالیت کی ایکویٹی کو مالی ریکارڈ میں ظاہر نہ کیے جانے اور غلط طور پر درج کیے جانے، 1,675 ایکڑ اراضی کے ملکیتی ریکارڈ کو مناسب طور پر اپ ڈیٹ نہ کرنے، اور ایس او ای ایکٹ کی دفعات 16 اور 17 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک غیر مجاز انتظامی تقرری کا انکشاف کیا۔ مزید برآں، اگرچہ 2015 سے ادارے کی تمام آپریشنل سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں، تاہم 17,617.57 ملین روپے (17.6 ارب روپے) مالیت کا تیار شدہ مصنوعات کا ذخیرہ تقریباً ایک دہائی سے غیر استعمال شدہ اور فروخت نہ ہونے کی حالت میں پڑا ہے۔ وسیع نتائج کے مطابق، کارپوریشن کی انتہائی کمزور مالی حالت نے نقدی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے حوالے سے سنگین مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ حل نہ ہونے والی چوری، اثاثوں کے غلط انتظام اور 1,929 رہائشی یونٹس پر غیر مجاز قبضے کے باعث بڑے پیمانے پر مالی نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے علاوہ، پانی کی فراہمی کے اخراجات میں بار بار سامنے آنے والے فرق کے باعث سالانہ 1,126.440 ملین روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ مالی بیانات کے تفصیلی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2008-09 سے 2023-24 تک مل کو اوسطاً ہر سال 25,541 ملین روپے (25.5 ارب روپے) کا خالص نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس دوران صرف مالی سال 2021-22 ہی منافع بخش رہا، تاہم یہ منافع مکمل طور پر اثاثوں کی دوبارہ قیمت کے تعین (ری ویلیوایشن) کا نتیجہ تھا، نہ کہ حقیقی کاروباری سرگرمیوں کا۔ اس دم توڑتے ادارے کو زندہ رکھنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے 2013 سے 2025 کے درمیان مجموعی طور پر 106,207 ملین روپے (106 ارب روپے) کے قرضے فراہم کیے۔ سالانہ رجحانات کا مزید جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ادارے نے مالی سال 2023-24 کے اپنے غیر آڈٹ شدہ مالی بیان میں ٹیکس کے بعد 25,541 ملین روپے کا خالص نقصان ریکارڈ کیا۔ مسلسل ادا کی جانے والی تنخواہوں، یوٹیلٹی بلوں اور قرضوں کی ادائیگی سے پیدا ہونے والے بلند مقررہ اخراجات قومی خزانے پر مالی بوجھ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ آپریشنل تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ بند ہونے کے باعث فروخت کی لاگت 2008-09 میں 59,036 ملین روپے سے کم ہو کر 2023-24 میں 7,449 ملین روپے رہ گئی۔ اس دوران انتظامی اخراجات مسلسل بڑھتے ہوئے 2,179 ملین روپے سے 7,378 ملین روپے تک پہنچ گئے۔ تقسیمی اخراجات 367 ملین روپے سے کم ہو کر 40.8 ملین روپے رہ گئے، جبکہ قرض لینے کی لاگت بڑھنے کے باعث مالی اخراجات 464 ملین روپے سے بڑھ کر 20,039 ملین روپے ہو گئے۔ آمدنی کے ذرائع مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ ادارے نے 2008-09 سے 2014-15 کے درمیان 122,381 ملین روپے کی آمدنی حاصل کی، تاہم بندش کے بعد 2015-16 سے 2023-24 کے دوران آمدنی صرف 14,233 ملین روپے رہی، جو صرف بچ جانے والے ذخیرے، جیسے بلیٹس اور سلیبز، کی فروخت سے حاصل ہوئی۔ اسی دوران تجارتی واجبات میں 236 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 2023 میں 5.23 ملین روپے سے بڑھ کر مالی سال 2024 میں 27,600 ملین روپے تک پہنچ گئے، جبکہ مشکوک واجبات کے لیے مختص رقم 3,500 ملین روپے پر برقرار رہی۔ بیلنس شیٹ کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2023-24 میں مجموعی ایکویٹی 495,445 ملین روپے تھی، جو جون 2021 میں 243,938 ملین روپے تھی، تاہم یہ اضافہ بڑی حد تک اراضی کی دوبارہ قیمت کے تعین کی وجہ سے مصنوعی نوعیت کا ہے۔ مجموعی واجبات 2016-17 میں 177,411 ملین روپے سے مسلسل بڑھ کر 2023-24 میں 357,985 ملین روپے تک پہنچ گئے، جس کے باعث کمپنی شدید نقدی قلت کا شکار ہو گئی۔ آخر میں، حکومت کی جانب سے دیے گئے بیل آؤٹس کی سالانہ تفصیلات 2013 سے 2025 تک فراہم کیے گئے 106,207 ملین روپے کے سرکاری قرض کی مکمل پیش رفت بیان کرتی ہیں۔ سال 2020 میں سب سے زیادہ 37,894 ملین روپے کی مالی معاونت دی گئی، اس کے بعد 2014 میں 14,764 ملین روپے اور 2013 میں 11,330 ملین روپے فراہم کیے گئے، جبکہ آخری قسطیں کم ہو کر 2024 میں 824 ملین روپے اور 2025 میں 2,871 ملین روپے رہ گئیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مزید اربوں روپے کے نقصانات کو روکنے کے لیے فوری طور پر ادارے کی تنظیمِ نو، مستقل چیف ایگزیکٹو افسر کی تقرری، اور سرکاری و نجی شراکت داری یا اثاثوں کو لیز پر دینے سے منسلک ایک جامع بحالی منصوبہ نافذ کرنے کی بھرپور سفارش کی ہے۔

اہم خبریں سے مزید