• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپ میں شدید گرمی: اسپین میں 1028 افراد ہلاک، فرانس میں بھی 1 ہزار اموات ریکارڈ ہوئیں

یورپ کے مختلف ملکوں میں شدید گرمی، برطانیہ میں 1884 سے شروع ہونے والے ریکارڈ میں جون اب تک کا گرم ترین ماہ جون بن گیا، اسپین میں شدید گرمی کے باعث 1028 اور فرانس میں ایک ہزار اموات ہوئیں، شدید ترین ہیٹ ویو کے باعث تقریباً 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے۔

برطانیہ، اسپین، جرمنی، اٹلی، سوئٹزرلینڈ میں آئندہ ہفتے ایک اور شدید ہیٹ ویو آنے کا خدشہ ہے، پرتگال میں بھی شدید گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا، امریکا میں بھی خطرناک گرمی کی وارننگ جاری کردی گئی، واشنگٹن میں 4 جولائی 1930 سے اب تک کا گرم ترین دن ہونے کا امکان ہے۔

فرانس کے بورڈو سے لے کر بوڈاپیسٹ تک کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ شدید گرمی سے بچنے کے لیے مختلف شہروں میں غیر معمولی اقدامات کیے گئے۔ پیرس میں لوگ رات پارکوں میں گزارنے لگے، برلن میں پولیس نے شہریوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے واٹر کینن استعمال کیے، جبکہ ایمسٹرڈیم میں لوگوں نے سورج کی تپش روکنے کے لیے گھروں کی کھڑکیوں کے باہر پردے لٹکا دیے۔تاہم ہر شخص کے لیے ایسے اقدامات ممکن نہیں تھے۔

برطانیہ میں ایئرکنڈیشنڈ کمرے والے ہوٹلوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ پیرس کے بعض امیر مضافاتی علاقوں میں مقامی سوئمنگ پولز میں دوسرے علاقوں سے آنے والوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ جرمنی میں ایک عوامی جھیل پر ایسے افراد کو واپس بھیج دیا گیا جو جرمن زبان نہیں بولتے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ لہر دراصل آنے والے وقت کی ایک جھلک ہے، آئندہ برسوں کی گرمیاں اس سے بھی زیادہ سخت ہوں گی، عالمی ادارہ صحت نے 6 جولائی کو یورپ میں گرمی کی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ہنگامی اجلاس بلا لیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں شدید گرمی کے اثرات غربت کا شکار افراد پر کہیں زیادہ پڑتے ہیں، رواں ہفتے یورپ میں ریکارڈ کی شدید ترین ہیٹ ویو کے باعث تقریباً 15 کروڑ افراد متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق فرانس کے تقریباً نصف گھروں میں شدید گرمی سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود نہیں۔ بہت سے لوگ ایسے اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں جہاں کنکریٹ کی بہتات اور سبزہ نہ ہونے کے باعث گرمی زیادہ محسوس ہوتی ہے، جبکہ روزانہ سفر کے لیے گرم اور بھیڑ بھری پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا پڑتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کم آمدنی والے افراد کو مناسب طبی سہولیات تک رسائی بھی محدود ہوتی ہے، جبکہ تعمیرات، زراعت اور دیگر کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدور شدید گرمی کے باعث زیادہ صحت کے خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔

ماحولیاتی تنظیم فرینڈز آف دی ارتھ کے چیف ایگزیکٹو اسد رحمان کا کہنا ہے کہ شدید گرمی انسان کی پہلے سے موجود ہر کمزوری کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ، جو دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، اب بھی شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔حالیہ تحقیق کے مطابق شدید گرمی اور معاشی عدم مساوات کا امتزاج یورپ میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد اموات کا سبب بن سکتا ہے، مزید برآں یورپ میں ہر سال گرمی سے ہونے والی اموات کی تعداد قتل کے واقعات سے تقریباً دس گنا زیادہ ہے۔

فرانس کی قومی صحت ایجنسی کے مطابق 24 سے 27 جون کے درمیان ملک میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ اسپین کے ایک سرکاری ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ حالیہ ہیٹ ویو 600 سے زائد اموات سے منسلک ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہیٹ ویو نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی بحران نہیں بلکہ ایک سماجی اور معاشی چیلنج بھی ہے، جس کے اثرات سب سے زیادہ کمزور اور کم آمدنی والے طبقات پر مرتب ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید