ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایئر کنڈیشنر (اے سی) کے سامنے طویل وقت گزارنا خصوصاً دمے کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے جلد، آنکھوں اور جسم پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اے سی کمرے کی نمی کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں جلد اپنی قدرتی نمی کھو دیتی ہے، اس سے جلد خشک اور کھردری ہو سکتی ہے، ہونٹ پھٹ سکتے ہیں اور حساس جلد والے افراد میں ایگزیما جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خشک ہوا آنکھوں میں جلن، خارش، چبھن اور تکلیف کا باعث بھی بن سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو کانٹیکٹ لینسز استعمال کرتے ہیں، بعض صورتوں میں عارضی طور پر دھندلا دکھائی دینے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایئر کنڈیشنر کی صفائی اور دیکھ بھال باقاعدگی سے نہ کی جائے تو اس کے فلٹرز میں جمع گرد، پولن اور پھپھوندی کے ذرات ہوا میں پھیل سکتے ہیں، جو دمے کے دورے یا دیگر سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا ہے کہ مسلسل اے سی والے ماحول میں رہنے سے جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) بھی ہو سکتی ہے، جس کے باعث سر درد، پٹھوں میں درد، جسمانی تھکن اور اکڑاؤ محسوس ہو سکتا ہے، خاص طور پر دفاتر یا ہوٹلوں میں زیادہ وقت گزارنے والے افراد میں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو، اے سی والے ماحول میں جانے سے پہلے جلد پر ایسا موئسچرائزر استعمال کریں جس میں گلیسرین یا ہائیلورونک ایسڈ جیسے نمی برقرار رکھنے والے اجزاء موجود ہوں۔
اگر ممکن ہو تو کمرے میں ہیومیڈیفائر استعمال کریں یا گھر کے اندر پودے رکھیں تاکہ ہوا میں نمی برقرار رہے۔
گھر یا دفتر کے ایئر کنڈیشنر کے فلٹرز کی باقاعدگی سے صفائی اور دیکھ بھال کریں تاکہ گرد، پولن اور پھپھوندی کے ذرات گردش نہ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ایئر کنڈیشنر کے ممکنہ منفی اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، خصوصاً دمے اور الرجی کے مریضوں کو اس حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔