• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل عدم موجودگی پر قیاس آرائیاں، عوام میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے

—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای شہید کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ متعدد ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود رہے، تاہم ان تقریبات میں موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے عوام اور مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ فروری کے آخر میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے، اس حملے میں ان کے والد علی خامنہ ای، اہلیہ زہرا حداد عادل اور خاندان کے دیگر افراد شہید ہوئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی عوامی تقریبات میں عدم شرکت کی وجہ ان کی جان کو لاحق مسلسل سیکیورٹی خطرات ہیں، تاہم علی خامنہ ای کے دیگر صاحبزادوں، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور غیر ملکی وفود کی جنازے میں موجودگی کے باعث عوامی حلقوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سیکیورٹی کی صورتِ حال سرکاری مؤقف سے زیادہ سنگین تو نہیں؟

عوامی خدشات

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تہران میں جنازے میں شریک 26 سالہ معصومہ نے کہا کہ رہبرِ اعلیٰ کی عدم موجودگی سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کی عوامی موجودگی ملک کے استحکام اور سیکیورٹی کی علامت سمجھی جاتی تھی، موجودہ صورتِ حال سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ایران کی سابقہ سیکیورٹی فضا برقرار نہیں رہی۔

دوسری جانب 35 سالہ فائزہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کا عوامی سطح پر سامنے نہ آنا ان کی حفاظت کے لیے ضروری ہو سکتا ہے، جس طرح سابق رہبر کو نشانہ بنایا گیا، اسی طرح نئے رہبر کو بھی خطرات لاحق ہیں، اس لیے احتیاط ناگزیر ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا بیان

دریں اثناء اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنازے کے جلوس کے موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ علی خامنہ ای کو اسرائیل نے اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ اسرائیل کے خلاف منصوبوں کی قیادت کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کوئی ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف ایسے اقدامات کرے گا تو اسے بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

صحت سے متعلق قیاس آرائیاں

مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر حاضری کے باعث ان کی صحت سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں انہیں چہرے اور ٹانگوں پر شدید زخم آئے، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کی عدم موجودگی نے حکومتی شفافیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں، جبکہ بعض کے مطابق موجودہ سیکیورٹی صورتِ حال میں ان کا منظرِ عام پر نہ آنا ایک احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی روزانہ عوامی موجودگی روایت نہیں رہی، تاہم قومی بحرانوں اور اہم مذہبی یا سرکاری مواقع پر ان کی عوامی موجودگی ریاستی استحکام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ غیر معمولی حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی قابلِ فہم ہے، تاہم طویل عرصے تک عوامی منظر سے دور رہنا اندرونِ ملک قیاس آرائیوں اور خدشات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید