تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) حماس نے تقریباً20سال بعد غزہ میں اپنی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی ہےجبکہ ایران کے سابق سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای شہیدکا جسدخاکی پیرکی شام مقدس شہر قم پہنچادیاگیاہے ‘اس سے پہلے تہران میں خامنہ ای شہیدکے جنازے کاجلوس نکالاگیا جس میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی جبکہ سڑکوں‘چوک اورچوراہوں پر عوام کا جم غفیرجمع ہوگیا جو امریکا اور اسرائیل سےبدلے کے نعرے لگا رہے تھے۔ جسدخاکی کوآج قم سے عراقی شہر نجف منتقل کیا جائے گا‘خامنہ ای کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای‘ صدر پزشکیان اور اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی نجف جائیں گے اور نمازجنازہ میں شرکت کریں گے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نےایک بار پھر فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہاہےکہ امریکا یا تو ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جائے گا یا پھر کام تمام کر دے گا‘ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا مشکل نہیں ہو گا۔دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کےنئے سربراہ محمدباقرذوالقدر نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ ایرانی عوام سے عزت سے بات کرو ورنہ ہم دوسری زبان میں جواب دیں گے‘اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ہرزہ سرائی کی ہے کہ خامنہ ای کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ اسرائیل کو تباہ کرنے کے پروگرام کی قیادت کر رہے تھے‘کوئی بھی ایرانی رہنما جو دوبارہ اسرائیل کو تباہ کرنے کے منصوبوں پر چلنے کی کوشش کرے گا وہ بھی مارا جائے گا۔صدرپزشکیان کا کہنا ہےکہ ایرانی عوام ملکی عزت‘ ترقی اور عظمت کے راستے پر گامزن رہیں گے۔خامنہ ای نے سب کو یہ سکھایا کہ ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے عوام اور ان کا اتحاد ہے۔ تفصیلات کے مطابق تہران میں پیرکو خامنہ ای کی آخری رسومات کا جلوس نکالاگیا ۔ سرکاری حکام کے مطابق ایرانی پرچم میں لپٹے آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ ان کے اہل خانہ کے ان افراد کے تابوت بھی ایک خصوصی ٹرک پر رکھے گئے جو جنگ کے آغاز پر فضائی حملے میں شہیدہو گئے تھے ۔ان تابوتوں کو تقریباً 12 گھنٹے طویل سفر کے دوران تہران کی مختلف سڑکوں سے گزاراگیا۔