• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج 16جولائی ہے 14اگست قریباََ ایک ماہ دور ہے ۔الحمدللہ یہ 80واں یوم آزادی ہوگا۔ لاکھوں انسانوں کی قربانیوں سے حاصل کیے گئے آزاد وطن کی 80 ویں سالگرہ ۔ہم آگ اور خون کے 79سال عبور کر کے 80ویں سال میں داخل ہوں گے۔ ایک ایک پل جدوجہد میں گزرا ہے۔ آزادی اور آزادئ کامل مسلسل تگ و دو مانگتی ہے۔ اور ہر پاکستانی نے ان کوششوں میں دن رات بھر پور حصہ لیا ہے۔

میر تقی میر یاد آتے ہیں

شعر میرے ہیں گو خواص پسند

گفتگو پر مجھے عوام سے ہے

شاہ لطیف ۔بلھے شاہ۔ سلطان باہو اور دیگر صوفیائے کرام سب کے مخاطب بھی عوام ہی رہے ہیں کیونکہ عوام ہی کسی اقلیم کے مالک ہوتے ہیں۔ حکمران تو اپنے جبر اپنی رعونت اپنا دبدبہ دکھا کر لوگوں کی نفرتیں اپنے نام کر کےابدی نیند سو جاتے ہیں۔میں ہمیشہ اپنے ہم وطنوں۔ خاک نشینوں۔ پھٹے کرتے والوں ۔کھردرے ہاتھ والوں اور اپنے لیے دودھ کی نہر روزانہ کھودنے والوں سے ہی ہم کلام ہوتا ہوں ۔آج بھی مجھے واہگہ سے گوادر تک زندگی کی گاڑی مشکل سے کھینچنے والوں سے ہی باتیں کرنا ہے۔

پھر محسوس ہو رہا ہے کہ اس اکثریت کو ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوششیں زوروں پر ہیں ۔پہلے شہروں کی مارکیٹیں بازار یونیورسٹیاں کالج یہ احساس دلاتے تھے۔ اب سوشل میڈیا خطرے کی گھنٹیاں بجاتا ہے۔ کتنی بد قسمتی ہے کہ انسانی دانش کی برسوں کی تحقیق سے ایجاد ہونے والے یہ تیز رفتار اظہار یے جدید دور کے یہ نقارے بہار کی آمد آمدکی اطلاع دینے کے بجائے ایک دوسرے کو للکارنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ زبانیں شیرینی کے بجائے زہر بانٹ رہی ہیں۔ ہم سب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مملکت خداداد کو آزادی اور خود مختاری کے 79 سال کے بعد جس اشتراک ۔اخوت۔ ہم آہنگی اور اتحاد کے شبستانوں میں ہونا چاہیے تھا۔ اور زندگی کی جتنی آسانیاں ۔ایک جیسے انسانی حقوق۔ اپنے وسائل پر اپنائیت کا جتنا احساس ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے۔ قومی سیاسی پارٹیوں کو یہ سب ابتری دیکھ کر اپنے جو لائحہ عمل پیش کرنے چاہئے تھے وہ سامنے نہیں لائے جا رہے۔ماہرین کو جو غیر جانبدارانہ تحقیقی جائزے معروضی انداز میں مرتب کرنےچاہئےتھے وہ نہیں کیے جا رہے ۔اس لیے سب اسلام آباد کی طرف دیکھتے ہیں اور اسلام آباد کسی اور سمت ۔80واں یوم آزادی 29 دن دور ہے۔ اس وقت جو انبساط جوش جذبہ نظر آنا چاہیے تھا ۔وہ بدقسمتی سے نہیں ہے ۔ہمارے حکمرانوں کے بیانات سے قوم میں جو بیداری اور آگہی پیدا کی جانی چاہیے تھی وہ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ کوششیں باہر سے بھی ہو رہی ہیں اندر سے بھی کہ سوئے ہوئے علاقائی لسانی صوبائی نسلی اور مسلکی تعصبات کو بھڑکایا جائے ۔

پاکستان کا قیام گزشتہ صدیوں کے واقعات۔ حقائق۔ نسلی ارتقا ۔سماجی پیشرفت اور عمرانی رجحانات کا ایک منطقی اور تاریخی تسلسل تھا ۔اس کا بین احساس آپ پاکستان کے پہلے 10سال 1947ء سے 1957ء تک دیکھ لیں ۔ ایک طرف وہ محترم اور معزز لوگ تھے جو پہلے سے ان علاقوں میں رہتے تھے جو پاکستان میں شامل ہوئے۔ دوسری طرف وہ لوگ جو غلام علاقوں سے آزاد علاقوں میں آئے ۔ان دونوں میں قدر مشترک یہ تھی کہ دونوں نے انگریز راج اور رام راج کے خلاف لڑ کر آزادی حاصل کی تھی اور ان دنوں دونوں پر یہ دھن سوار تھی کہ ہمیں اس الگ آزاد وطن کو انسانوں کیلئے ایک خود مختار خود کفیل اور خود دار ملک بنانا ہے۔ بنگال پنجاب سرحد سندھ بلوچستان سب علاقوں میں یہی جذبہ جلوہ گر تھا۔ پہلے عشرے کے ہمارے پاس تو مشاہدات ہیں یگانگت مشترکہ اقدامات سیاسی جماعتوں میں مقامی اور مہاجروں کی اکٹھی مساعی ہم نے خود دیکھی ہے ۔

نئی نسلیں ان دنوں کی لکھی گئی کتابیں پڑھ لیں مقامی خواتین و حضرات کی آپ بیتیاں ملاحظہ کر لیں ۔سندھ کے نامی گرامی اہل قلم کی، بلوچستان کے محترم اور معزز دانشوروں کی، سرحد کے مہربان قصہ خوانوں کی ،پنجاب کے مشفق بزرگوں کی خود نوشتیں دیکھ لیں مشرقی پاکستان ہو یا مغربی ہر جگہ ایک جذبہ تھا اس کشتی کو آگے لے چلنے کا۔ 1970 ءکے الیکشن کے بعد جب بھٹو صاحب کے ساتھ مجیب الرحمٰن سے مذاکرات کے لیے ایک صحافی کے طور پر جانے کا اتفاق ہوا سائیکلون سے متاثر بدحال ہم وطنوں کو بھی ’ایک پاکستان ‘کی خواہش ظاہر کرتے دیکھا ۔

اس عظیم سانحے پر سرکاری عدالتی رپورٹیں آ چکی ہیں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ ہماری من حیث القوم سیاسی ناکامی بھی تھی اور عسکری بھی ۔اس سے سبق ہمارے عوام نے تو سیکھا لیکن خواص نے نہیں ۔

عوام تو اب بھی انہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں قانون کی یکساں حکمرانی سے اکثریت محروم ہے۔ چاہے وہ بلوچستان کی ہو سندھ کی خیبر پختون خواکی یا پنجاب کی آزاد جموں کشمیر کی یا گلگت بلتستان کی کہیں بھی اطمینان سکون نہیں ہے ۔سخت بے چینی ہے۔ اللہ تعالی ٰنے ان سب علاقوں کو اور اسلام آباد کی وفاقی حدود کو وسائل سے مالا مال کیا ہے۔ قدرتی وسائل بھی ہیں معدنی دولت بھی اور بہت جفا کش افرادی قوت بھی ۔ہر علاقے کے عام پاکستانی کی سوچ کا مرکز پاکستانی فلاح و بہبود ہے۔ ہر زبان بولنے والا پاکستانی اپنے ملک کو آزاد خود مختار خود کفیل اور خود دار دیکھنے کا خواہش مند ہے اور اس کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ ان مختلف علاقوں کے عام لوگوں کو جب بھی کہیں آپس میں ملنے کا موقع ملتا ہے تو وہ لازوال پیار محبت کا مظاہرہ ہی کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ پنجاب کا محنت کش فخر کرتا ہے کہ اب صرف پنجاب ہی نہیں واہگہ سے گوادر تک اس کا ہے ۔اس طرح سندھ کے عام آدمی کو بھی یہ مسرت ہے کہ صرف سندھ ہی نہیں گلگت سے چھان تک ساری وادئ سندھ اس کی ہے۔ بلوچستان کابلوچ ہو یا پشتون اسے بھی یہ احساس ہے کہ اب صرف بلوچستان ہی نہیں پورا پاکستان اس کا ہے ۔کے پی کے کا انسان پورے پاکستان کو اپنا خیال کرتا ہے۔ یہ پاکستانی آپس میں کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ رشتہ داریاں بھی ہیں اور وہ دل کی گہرائی سے محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ایک مخصوص طبقہ آپس میں لڑواتا ہے ۔ان دنوں سوشل میڈیا پر نئے نئے اکاؤنٹ کھل رہے ہیں۔ تعصبات کو ہوا دینے کے لیے جھوٹے قصےگھڑے جا رہے ہیں ۔مصنوعی ذہانت جیسی تخلیقی قوت کو تخریبی طاقت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے عام لوگ اب ان قوتوں کو ان دشمنوں کو پہچان گئے ہیں۔ ان کے بہکاوے میں نہیں آ رہے ہیں۔ ایک آزاد خود مختار خود دار ملک کے شہریوں کو جو حقوق حاصل ہونے چاہئیں وہ ان کے لیے آواز بلند کرتے ہیں ۔جو طبقے ادارے سیاسی جماعتیں مذہبی تنظیمیں اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں گی دوام ان کو ہی حاصل ہوگا ۔پاکستان ایک حقیقت ہے اس کے معدنی وسائل بھی ایک حقیقت ہیں اس میں رہنے والے بھی اور اس کو اپنانے والے بھی ۔ان حقائق سے ٹکرانے والے پہلے بھی رسوا ہوتے رہے ہیں اب بھی رسوائی ہی ان کا مقدر ہے۔

تازہ ترین