ایرانی سپریم لیڈر یا رہبر آیت اللہ سید علی خامنائی کی نماز جنازہ تہران، قم، کربلا اور نجف اشرف کے بعد مشہد مقدس میں ادا کر دی گئی ہے، شیعہ بارہ آئمہ میں سے ایک حضرت امام علی رضا کے احاطہء مزار میں تدفین بھی ہو گئی ہے۔ کربلا و نجف اشرف کے حوالے سے تو سب کو معلوم ہے کہ سرزمین عراق میں شیعان علی کے نزدیک کتنے مقدس مقامات ہیں، جہاں سیدنا امام حسین ؓ اور سیدنا علی ؓ کے مزارات ہیں، جبکہ ایران میں مشہد مقدس کے بعد قم کو بھی اس حوالے سے دوسری خصوصی حیثیت حاصل ہے کہ یہاں بی بی معصومہ کا مزار مبارک ہے۔ یہ بشمول امام خمینی آیت اللہ صاحبان کی علمی آماجگاہ یا حوضہء علمی ہے۔ ان تمام مقدس مقامات پر بلا شبہ لاکھوں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا، بالخصوص تہران میں تو یہ ہجوم میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص سنی اقوام اور اہل مغرب کے لیے اتنا بڑا عوامی سوگ اور گریہ و ماتم، وہ بھی کسی کی وفات کے پورے چار مہینوں بعد، باعث حیرت تھا۔ شاید اسی لیے امریکی صدر ٹرمپ نے ان لوگوں کو اپنے محبوب لیڈر کے لیے روتے دیکھ کر کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ڈکٹیٹر کی موت کے سو دن بعد بھی لوگ سچ مچ اس کے لیے رو رہے ہوں۔ امریکی صدر کو اس مذہبی تقدس کا اندازہ نہیں جو شیعہ حضرات اپنی مذہبی قیاتوں سے رکھتے ہیں، ورنہ وہ ہرگز یہ نہ کہتا کہ یہ سب جعلی مناظر ہیں یا یہ لوگ اصلی نہیں نقلی رو رہے ہیں۔ کاش اسے کوئی بتلائے کہ شیعان مولا علی تو چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی خاندان نبوت کے قتل و خون ریزی کو نہیں بھولے ہیں اور اولاد علی کو لگنے والے زخم آج بھی ان کے سینوں میں تازہ بہ تازہ ہیں۔ جسے شک ہے وہ آج بھی کربلا معلا میں عاشورہء محرم کے ماتم کا نظارہ کر لے بلکہ پوری دنیا میں یہ ماتم ہوتا دیکھ لے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی یہ کتنی بری بات ہے کہ جنازے اور تدفین کے موقع پر بھی اس نوع کا بیان دے دیا کہ ہم کتنے اچھے لوگ ہیں کہ ہم نے اپنی دشمن ایرانی رجیم کو جنازے اور سوگ کے لیے ہفتے بھر کا ٹائم دیا ہے، ورنہ ہم چاہتے تو اس پر حملہ کر سکتے تھے۔ درویش کی نظر میں یہ پینتیس کروڑ امریکی عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ ٹرمپ کی وہ سوچ بول رہی ہے جس کے مظاہر وہ ایپسٹن اسکینڈل کی صورت دبائے یا چھپائے بیٹھے ہیں۔ جارج واشنگٹن سے شروع ہو جائیں، جیفرسن، ابراہم لنکن سے ہوتے ہوئے کارٹر، ریگن، کلنٹن، اوباما اور کمزور ترین پریزیڈنٹ بائیڈن تک آ جائیں۔ کہیں کوئی ایک بھی ایسی اپروچ نہیں ملے گی، جس کا مظاہرہ پوری دنیا آج ٹرمپ کی صورت ملاحظہ کر رہی ہے۔ یہ کیسی زبان ہے کہ میں آپ کی صدیوں پرانی ایرانی تہذیب مٹا دوں گا؟ میں ایرانی پل اور انفراسٹرکچر اڑا دوں گا؟ کیوں بھائی؟ آپ کو اس کا حق کس نے دیا ہے کہ آپ سویلین انفراسٹرکچر پر حملہ کریں؟ کیا امریکی آئین و قانون آپ کو ایسی بات کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے؟ کیا جنیوا کنونشنز میں طےشدہ جنگی ضوابط آپ کو کسی بھی ایسی حرکت کی اجازت دیتے ہیں؟ امریکی آئین جس عظمت کا دنیا بھر میں علمبردار ہے، یو این ہیومن رائٹس چارٹر کا اصل منبع و سرچشمہ خود امریکا اور اس کے مدبر صدور و قائدین رہے ہیں۔ کیا آپ نے عظمت کے اس امریکی ورثے کو کبھی ایک نظر پڑھا بھی ہے؟ آپ کس طرح یہ کہہ رہے ہیں کہ میں مجتبی خامنائی کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کرنا چاہتا ہوں؟ کس برتے پر؟؟آپ کے بقول اگر ان کے مرحوم باپ نے خطے میں کوئی ناروا رویہ اپنایا تھا تو بھی معاملہ ان کی ذات تک رکھتے، مجتبی کی ماں کا قصور کیا تھا؟ علی خامنائی کی بیوی بہو اور چودہ ماہ کی پوتی کا کیا قصور تھا؟ دو سو کے قریب اسکول کی جو معصوم بچیاں دوران جنگی جنونیت کی بھینٹ چڑھی ہیں، ان پر جنیوا کنونشنز کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ ان تمام جنگی جرائم کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیا انہیں وجوہ سے امریکی عوام میں آپ کی قبولیت کم ترین سطح تک نہیں گر چکی ہے؟ آپ کے تمام مغربی اتحادی کیا آپ سے منہ نہیں موڑ چکے ہیں؟ آپ مشرقی ہی نہیں مغربی تہذیبی اقدار کو بھی جوابدہ ہیں۔
درویش کو تو حیرت ان معززین پر ہے جو آپ کے ان تمام جرائم کے باوجود بھی آپ کیلئے خوش گمانی رکھتے ہیں۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اہل مغرب کے لیے ایرانی سپریم لیڈر کو اتنا بڑا پروٹوکول ناقابل فہم کیوں ہے؟ کوئی شک نہیں کہ گزشتہ سینتالیس برسوں سے ایران میں ولایت فقیہ کی طاقت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکا۔ اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس رجیم کے خلاف بارہا ملکی سطح پر شدید ترین احتجاج ہو چکے ہیں، جو بالآخر ناکام ثابت ہوئے۔پیہم امریکی بندشوں کے باعث تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ایرانی قوم مہنگائی اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس سے بڑا ثبوت کیا ہے کہ پندرہ لاکھ ایرانی ریال سے محض ایک امریکی ڈالر خریدا جا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ منتخب ایرانی صدر کو ولایت فقیہ کے سامنے یہ درخواست کرنی پڑی کہ امن ڈیل قبول فرما لیں بصورت دیگر میں صدارتی عہدے کو چھوڑتا ہوں۔
ٹرمپ کی زیادتی یہ ہے کہ اس نے ولایت فقیہ پر بم پھوڑ کر اسے عوامی نظروں میں نئی ہمدردی اور نئی زندگی بخش دی ہے۔ لوگ خامنائی کی معصوم پوتی اور اسکول کی ایک سو ساٹھ بچیوں کی شہادت کو کتنے دکھ سے دیکھ رہے ہیں تمہارے ظالمانہ بیرونی حملے نے اسے نئی عظمتوں سے روشناس کروا دیا ہے۔