عباس تابش کا شمار اس وقت غزل کے صف اول کے نمائندہ شعراء میں ہوتا ہے۔ ان کا سارا ادبی سفر میری آنکھوں کے سامنے ہے ۔انکے اشعار میں زبان زد عام ہونے کی بھر پور صلاحیت ہے شاعری کی اسی خوبی نے ان کو عالمی سطح پہ مقبول کر دیا ہے لیکن آج میں ان کی شاعری پہ نہیں بلکہ بحیثیت منتظم مجلس ترقی ادب عباس تابش کی کار کردگی پہ بات کروں گا۔ایک شاعر جب کسی ادبی ادارے کی قیادت سنبھالتا ہے تو اس سے صرف تخلیقی ذوق ہی نہیں بلکہ انتظامی حکمت اور علمی ترجیحات کے حوالے سے بھی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔ مجلسِ ترقیِ ادب ایک تاریخی ادارہ ہے جس نے اردو زبان و ادب کی ترویج میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دی ہیں، لیکن ہر ادارے کی زندگی میں ایسے ادوار بھی آتے ہیں جب اسے نئی سوچ اور فعال قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عباس تابش نے بحیثیت ناظم اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ادارے کو محض روزمرہ انتظامی امور تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک متحرک ادبی مرکز بنانے کی کوشش کی ہے۔
ان کی نمایاں کامیابیوں میں سب سے اہم مجلسِ ترقیِ ادب کے ترقیاتی منصوبے (اے ڈی پی) کی منظوری ہے۔جس کے تحت سو نشستوں پر مشتمل جدید آڈیٹوریم، ادبی چائے خانہ اور پوڈکاسٹ اسٹوڈیو قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبہ اس امر کی علامت ہے کہ ادارہ روایتی علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی اور عصری تقاضوں کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کر رہا ہے۔مالی استحکام کے میدان میں بھی عباس تابش کی کاوشیں قابلِ ذکر ہیں۔ جس ادارے کا سالانہ بجٹ تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے تھا۔اسے مسلسل کوششوں کے نتیجے میں چھ کروڑ روپے تک پہنچانا ایک بڑی انتظامی کامیابی ہے۔ کسی بھی علمی و ادبی ادارے کی ترقی کا انحصار اس کے مالی وسائل پر ہوتا ہےاور اس اضافے نے مجلسِ ترقیِ ادب کے لیے نئے منصوبوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ادبی کام کے حوالے سے انہوں نے ’’لاہور نمبر‘‘ جیسے عظیم الشان منصوبے کی منظوری حاصل کی۔جس کے تحت لاہور کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، شاعری، مصوری، فنِ تعمیر، موسیقی اور دیگر علمی و فنی جہات پر الگ الگ تحقیقی شمارے شائع کیے جائیں گے۔ اس منصوبے سے لاہور کی تہذیبی شناخت کو ایک مستند علمی دستاویز کی صورت میں محفوظ کرنے میں مدد ملے گی۔مجلسِ ترقیِ ادب کی ادبی سرگرمیوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جشنِ آزادی مشاعرے، معرکۂ حق مشاعرے، نعتیہ مشاعرے، علمی و ادبی مکالمے، مذاکرے اور مختلف ادبی ورکشاپس کے انعقاد نے مجلس کو اہلِ قلم، طلبہ اور ادب دوست حلقوں کے لیے ایک فعال علمی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔اشاعتی میدان میں بھی ان کی کارکردگی متاثر کن ہے۔ صرف تین برس کے عرصے میں ستاون نئی کتابوں کی اشاعت ایک قابلِ ذکر ریکارڈ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کلاسیکی اردو ادب کے سرمایۂ افتخار کو محفوظ کرنے کے لیے متعدد شعرا کے کلیات کو جدید نوری نستعلیق رسم الخط میں منتقل کرکے ازسرِ نو شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔جس سے نئی نسل کے لیے اس نادر ادبی سرمائے تک رسائی آسان ہوئی۔بین الاقوامی ادبی روابط کے فروغ کے لیے جدید عربی ادب کے تراجم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ بکر پرائز یافتہ عربی ناول نگار جوحہ الحارثی کے ناول ’بنات القمر‘، فلسطینی مزاحمتی شاعری اور جدید عربی شاعری کے تراجم کی اشاعت اس سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔ جنہوں نے اردو قارئین کو معاصر عربی ادب سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔جدید اردو ادب کے معتبر شعرا کے کلیات کی تدوین و اشاعت بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ثروت حسین، اسلم انصاری اور احمد مشتاق جیسے ممتاز شعرا کے کلیات شائع کرکے ان کے ادبی سرمائے کو ایک جامع اور مستند شکل میں محفوظ کیا گیا ہے۔اکیسویں صدی کے ادبی رجحانات اور نئی اصناف پر خصوصی لیکچرز اور علمی نشستوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔جن میں بالخصوص جدید ناول اور اس کی فکری و فنی جہات پر گفتگو نے نوجوان لکھنے والوں اور محققین کو نئے زاویۂ نظر سے روشناس کرایا۔اردو کے نامور ادیبوں اور شاعروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کی سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ شہزاد احمد، خالد احمد، جون ایلیا، مرتضیٰ برلاس اور راقم کے حوالے سے منعقدہ پروگراموں نے نئی نسل کو ان شخصیات کے علمی و ادبی کارناموں سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔مجلسِ ترقیِ ادب کے قدیم اشاعتی مشن کو بھی نئی زندگی ملی۔ عرصۂ دراز سے نایاب اور ناپید کتابوں کی اشاعت کے منصوبے کے تحت کلیاتِ سراج اورنگ آبادی، خم خانۂ جاوید، بحرالفصاحت، انتخابِ میر، انتخابِ داغ اور انتخابِ نظیر (مرتبہ ناصر کاظمی) سمیت دو درجن سے زائد اہم کتابیں دوبارہ شائع کی گئیں، جو اردو کے کلاسیکی سرمائے کی حفاظت کی ایک اہم کوشش ہے۔ادبی جریدہ صحیفہ کی اشاعت میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اس کے تحت میر تقی میر نمبر، افتخار عارف نمبر اور ناصر کاظمی نمبر شائع کیے جا چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر خورشید رضوی نمبر کی تیاری جاری ہے۔ یہ خصوصی شمارے نہ صرف متعلقہ شخصیات کی ادبی خدمات کا جامع تعارف پیش کرتے ہیں بلکہ محققین اور طلبہ کے لیے مستند حوالہ جاتی مواد بھی فراہم کرتے ہیں۔ عباس تابش نے بطور ناظم مجلسِ ترقیِ ادب صرف انتظامی ذمہ داریاں ہی ادا نہیں کیں بلکہ ادارے کو مالی، اشاعتی، تحقیقی، ثقافتی اور ادبی ہر سطح پر ایک نئی جہت دینے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ادارہ ان کی نگرانی میں مزید فعال کردار ادا کرے گا۔