• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قدامت پسند یعنی سیاہ پوش اور کمیونسٹ یعنی سرخ پوش توشاہ ایران کیخلاف تھے ہی مگر محمد رضا شاہ پہلوی کے توسیع پسندانہ عزائم نے انکے دوستوں کو بھی دشمنوں کی صف میں دھکیل دیا۔ شاہ ایران ریاست فارس کے احیا کے خواب دیکھنے لگے ،وہ ایران کو عالمی طاقت بنانے کے خواہاں تھے۔ شہنشاہیت کا اڑھائی ہزار سالہ جشن مناکر وہ خود کو سرزمین فارس کے قدیم اور عظیم شہنشاہوںکا ہم پلہ سمجھنے لگے ۔شاہ ایران ’’آبنائے ہرمز ‘‘کی اہمیت کو سمجھ گئے ،یہاں اپنا کنٹرول قائم کرنے کیلئے شارجہ اور راس الخیمہ کے زیر انتظام دو اہم جزیروں پرقابض ہوگئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ امریکیوں سے سخت لہجے میں بات کرنے لگے تو انکی رسی کھینچ لی گئی ؟یہ سب کیسے ہوا؟ آج ہم یہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مصدق کے ایوان اقتدار سے رخصت ہوجانے کے بعد ایران میں امریکی عمل دخل اور اثر ورسوخ میں اضافہ ہوگیا۔28 اکتوبر 1964 ء کو ایک قانون کی منظوری دی گئی جسکے تحت ایران میں امریکی فوجی مشن کے تمام افراد کو سفارت کاروں کے ہم پلہ قرار دے دیا گیا یعنی امریکی فوجیوں کو ایران میں ویانا کنونشن کے تحت یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ جو چاہیں کر لیں اُن پر ایران کا کو ئی قانون لاگو نہیں ہو گا۔امریکی کیمپ میں جانے کے بعد ایران پرامریکی ڈالروںاور نوازشات کی برسات ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی آئل کی ایکسپورٹ سے دولت کی ریل پیل ہونے لگی ۔معروف مصنف Dilip Hiro اپنی کتاب Iran under the ayatollahsمیں لکھتے ہیں کہ اگست 1953ء سے دسمبر1956ء کے دوران امریکہ نے ایران کو 414ملین ڈالر عسکری اور معاشی امدادفراہم کی۔امریکی امداد کے ساتھ ہی ہزاروں امریکی بھی ایران آئے ،جس پر ایرانی قوم پرستوں ، سیکولر اور مذہبی طبقے نے افسوس کا اظہار کیا۔ 1954-55ء میں ایران کو تیل سے حاصل ہونیوالی رقم 34ملین ڈالر تھی جو دو سال بعد بڑھ کر 181ملین ڈالر ہوگئی۔ ایران میں ایک طرف مذہبی طبقے کی اجارہ داری تھی،یہ اصحاب جبہ و دستار سیاہ پوش تھے تو دوسری طرف سرخ پوش یعنی اشراکیت سے متاثر ہ افراد سرگرم تھے۔ اس تناظر میں شاہ ایران نے 6نکاتی وائٹ ریولیوشن یعنی سفید انقلاب برپا کرنیکا فیصلہ کیا۔اس میں جہالت کے خاتمے ،خواتین کو ووٹ کا حق دینے، جنگلات کو حکومتی تحویل میں لینے ،سرکاری فیکٹریاں نجی شعبہ کو فروخت کرنے اورصنعتوں میں مزدوروں کو شیئر ہولڈر بنانے کا وعدہ کیا گیا ۔اس کے علاوہ شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی نے پاکستان کے پہلے فوجی حکمران ایوب خان کی طرح زرعی اصلاحات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے اسی طرح کا ریفرنڈم کروایا گیا جس طرح پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر کرواتے رہے ہیں۔ اس سے قبل منوچہر اقبال کے دورِحکومت میں دسمبر 1959ء کوزرعی اصلاحات کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ ان اصلاحات کی وجہ یہ تھی کہ ایران کی نصف سے زائد اراضی ان جاگیرداروں کی ملکیت تھی جو وہاں رہتے ہی نہیں تھے ۔ان زرعی اصلاحات کے تحت ذاتی ملکیت کی زیادہ سے زیادہ حد ایک گائوں مقرر کردی گئی اور 5لاکھ ایکٹر زمین جاگیرداروں سے واپس لیکر 25ہزار کسانوں میں تقسیم کردی گئی۔آیت اللہ العظمیٰ حسین طبع طبائی برو جردی نے ان اصلاحات کی مخالفت کی اور انہیں شریعت کے منافی قرار دیا۔مذہبی طبقے کی مخالفت کے باوجود شاہ ایران نے ملک کو ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن کرنے کی بھرپور کوشش کی۔تیسرے ترقیاتی منصوبے میں تعلیم کیلئے 45ارب ریال مختص کئے گئے، 1968ء سے 1972ء کے دوران چوتھے ترقیاتی منصوبے میں تعلیمی بجٹ بڑھا کر 172ارب ریال جبکہ پانچویں ترقیاتی منصوبے میں ایجوکیشن بجٹ 551ارب ریال ہوگیا۔1978ء میں پیش کئے گئے چھٹے ترقیاتی منصوبے میں شعبہ تعلیم کیلئے2500ارب روپے رکھے گئے۔شاہ ایران کے دور میں شجر کاری مہم چلائی گئی، ڈیم بنائے گئے ،مقامی صنعتوں کو فروغ دیا گیا۔لوگوں کو حکومت کی طرف سے گھر بناکردینے کی اسکیم شروع کی گئی۔شاہ ایران کے دور میں فی کس آمدن میں کئی گنا اضافہ ہوا۔مزدور کی اوسط آمدن جو 2000ریال یا 30ڈالر ہوا کرتی تھی ،بڑھ کر 10 ہزار ریال ہوگئی۔ دنیا کے بیشتر اقتصادی ماہرین کا خیال تھا کہ ایران آئندہ چند دہائیوں میں دنیا کا امیر ترین ملک بن جائیگا۔ معروف مصنفہ اوریانہ فلاشی نے اکتوبر 1973ء میں شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کا انٹرویو کیا جو ان کی تصنیف ’’Interview With History‘‘کا حصہ ہے ۔اس انٹرویو کے دوران شاہ ایران نے کہا کہ ایران بہت جلد ’’ورلڈ پاور‘‘بننے جارہا ہے جس پر اوریانہ فلاشی نے معاشی ماہرین کی پیشگوئی کا حوالہ دیا تو شاہ ایران نے کہا کہ یہ کہنا توشاید مبالغہ آرائی کے مترادف ہوگا کہ ایران دنیا کا امیر ترین ملک بننے جا رہا ہے لیکن یہ بات بے جا نہ ہوگی کہ ایران دنیا کے پانچ عظیم اور طاقتورترین ممالک میں شمار ہوگا۔لہٰذا ایران امریکہ ،سوویت یونین ،جاپان اور فرانس کے ساتھ ایک ہی مقام پر کھڑا ہوگا۔ میں نے چین کا ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ امیر ملک نہیں اورپیشگوئی کے مطابق اگر یہ اگلے 25برس میں واقعی ایک ارب 25کروڑ انسانوں کا ملک بن جاتا ہے تو کبھی امیر نہیں ہوسکتا۔ شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی نے جو سلطنت ورثے میں حاصل کی تھی ،وہ مفلس ،قلاش اور غیر ملکی طاقتوں کی محتاج تھی مگر اب جب حالات نے پلٹا کھایا تو انہوں نے فارس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے خواب دیکھنا شروع کردیئے۔ شاہ ایران کا یہ تزک و احتشام اور کروفر بے جا نہ تھا۔دسمبر 1973ء میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ایران کی تقدیر بدل چکی تھی۔ 1972ء میں جو ایران 3بلین ڈالر کا مقروض تھا،1974ء میں نہ صرف اس نے قرضوں سے نجات حاصل کرلی بلکہ اس کے خزانہ میں 19بلین ڈالر کی خطیر رقم موجود تھی۔شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی اب اپنی کھوئی ہوئی عظمت پانے اور خطے کی سپر پاور بننے کے منصوبے بنا رہے تھے ،انہوں نے آئندہ چند برس کے دوران 4سے8بلین ڈالر سالانہ دفاعی ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کا منصوبہ بنالیا۔

تازہ ترین