عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل معمول پر واپس نہ آئی تو عالمی توانائی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فاتح بیرول نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پوری دنیا کو تشویش ہونی چاہیے کیونکہ تیل کی فراہمی اب بھی عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے مسلسل چھٹی رات ایران کے مختلف علاقوں بشمول بندر عباس، اہواز اور ایرانشہر میں حملے کیے جبکہ ایک ایسے جہاز کو بھی نشانہ بنایا جس پر ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
جواباً ایران نے خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، ایران کی جانب سے کویت، بحرین اور اردن کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا جبکہ قطر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل نہیں کیا۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی، امریکا کو خطے سے دستبردار ہونا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کی وجہ ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں اور مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی بھی جاری ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اب تک 3 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، ایک جہاز کو ناکہ بندی نہ ماننے پر ناکارہ بنایا گیا، جبکہ ایک جہاز کی تلاشی لے کر ناکہ بندی پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا۔
امریکی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری راستے کھلے ہیں، تاہم ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب بھی تنازع کے سفارتی حل کی امید ظاہر کی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کشیدگی عالمی تیل منڈیوں اور توانائی کی فراہمی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہے، خصوصاً اس لیے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔