• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جاپان کی لگژری برف مرکز نگاہ بن گئی

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

 جاپان کے تاریخی شہر کنزاوا میں ماہر کاریگر برف کے بڑے بڑے بلاکس کو نہایت مہارت سے تراش کر ایسے خوبصورت اور شفاف ٹکڑوں میں تبدیل کرتے ہیں، جو مختلف مشروبات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

یہ کاریگر جاپانی کمپنی کُراموتو آئس سے وابستہ ہیں، جو تقریباً ایک صدی سے ایشیکاوا کے علاقے میں پریمیم معیار کی برف تیار کر رہی ہے۔

 جاپان میں ایسی انتہائی شفاف اور اعلیٰ معیار کی برف تیار کرنے والی درجنوں کمپنیاں موجود ہیں۔

جاپانی کاک ٹیل کلچر میں اس برف کو خاص اہمیت حاصل ہے اور صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ عام برف کے مقابلے میں زیادہ دیر تک پگھلتی نہیں، جس کے باعث مشروبات میں پانی کی مقدار کم شامل ہوتی ہے۔

جاپان میں مقبولیت کے بعد یہ لگژری برف امریکا سے آسٹریلیا تک بیرونِ ملک بھی پہنچ رہی ہے، جہاں ایک برف کے ٹکڑے کی قیمت 200 ین تک ادا کی جاتی ہے۔

کُراموتو آئس ان چند جاپانی کمپنیوں میں شامل ہے جو یہ برف بیرونِ ملک برآمد کرتی ہے۔

کمپنی کے مطابق 2019ء میں برآمدات شروع ہونے کے بعد سے اس کی مجموعی فروخت دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

کمپنی کے سربراہ کازوہیکو کُراموتو کے مطابق معیاری برف تیار کرنے کے لیے پانی کو آہستہ آہستہ منجمد کیا جاتا ہے اور اس دوران اسے مسلسل حرکت میں رکھا جاتا ہے۔

جاپانی ماہرین برف تیار کرنے کے لیے ایک ایسا طریقہ استعمال کرتے ہیں جو اصل میں امریکا سے متعارف ہوا تھا۔ اس طریقے میں پانی کو مکمل طور پر جمنے میں 48 سے 72 گھنٹے لگتے ہیں، جبکہ عام گھریلو برف چند گھنٹوں اور صنعتی مشینوں میں تقریباً 30 منٹ میں تیار ہو جاتی ہے۔

جمنے کے عمل کے دوران پانی میں موجود مختلف ذرات اور آلودگیاں برف کے مرکز کی جانب منتقل ہو جاتی ہیں، ماہرین اس پانی کو نکال کر تازہ پانی شامل کرتے ہیں، جبکہ مسلسل ہلانے سے ہوا کے بلبلے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔

اس عمل کے نتیجے میں انتہائی شفاف برف تیار ہوتی ہے جسے جاپانی زبان میں ’جن پیو‘ کہا جاتا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید