• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’جنت کے ننھے مہمان‘‘ معصوم بچوں کی اللہ سے فریاد

پیارے اللہ میاں آپ کتنے مہربان ہیں۔ کتنے رحیم اور کریم ہیں آپ نے ہم چودہ بچوں کو اپنے پاس بلا لیا۔ بس ذرا تکلیف زیادہ ہوئی کیونکہ ہم بہت کمزور تھے۔ نہ تو ہم چیخ سکتے تھے اور نہ ہی ہاتھ ہلا سکتے تھے اور نہ ہی خود سے بھاگ سکتے تھے دھواں بڑھتا گیا آگ بھڑکتی گئی اور سانسیں رکتی گئیں۔ کوئی فوری مدد کو نہیں آیا۔

ہماری مائیں نرسری کے باہر تڑپتی رہیں اور ہم نرسری کے اندر۔ پیارے اللہ میاں! ہماری ماؤں کے دلوں پر ہاتھ رکھ دیجیے۔ ان کے سلگتے سینوں کو ٹھنڈک سے بھر دیجیے۔ ان کے دلوں سے ہمیں گود میں لینے، ماتھا چومنے اور سینے سے لگانے کی خواہش کو ختم کر دیجیے۔ ان کے سینوں میں ہمارے نام کے اترتے دودھ کو خشک کر دیجیے۔ ان کی آنکھوں سے ہمارے بڑے ہونے، کھیلنے کودنے کے خوابوں کو مٹا دیجیے۔ ہمارے باپوں کے دلوں کو صبر سے اتنا بھر دیجیے کہ ہماری محبت کی جگہ ختم ہو جائے۔

ہمارے والدین کے دماغوں میں یہ بات ڈال دیجیے کہ وہ آپ کی رضا پر راضی ہو جائیں۔ پیارے اللہ میاں! آپ تو جانتے ہیں مگر ہمارے ماں باپ کو کہاں معلوم کہ میرا پیارا ملک نومولود بچوں کی اموات کے لحاظ سے ایک خطرناک ملک ہے جہاں 675 نومولود بچے روزانہ فوت ہو کر آپ کے پاس آ جاتے ہیں۔ مگر ان کی اموات کی وجوہات میں نرسری میں لگی آگ سے جھلس کر مرنا نہیں تھا۔ پیارے اللہ میاں! ہم چودہ بچے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری اٹھائیس (28) آنکھوں کو آپ کی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا کے بدصورت لوگوں کو دیکھنے سے بچا لیا۔

آسمان پر حوریں ہمیں بتاتی تھیں کہ تمہارے ماں باپ بہت خوبصورت ہیں۔ مگر ہمیں تو ان کی شکلیں ٹھیک طرح سے سمجھ ہی نہیں آئیں کیونکہ ہم تو لمس کی زبان سمجھتے تھے، لمس بھی چند لمحوں کا، پھر تو ہم نرسری میں آ گئے تھے۔ ہمیں تو حیران آنکھوں سے دنیا دیکھنی تھی، پھول پتے، روشنی، چاند ستارے دیکھنے تھے، مگر اب تو ہماری آنکھیں جھلس چکی ہیں۔

پیارے اللہ میاں! ہمارے اٹھائیس (28) کانوں کو اپنی ماؤں کی میٹھی آواز سننی تھی، لوری سننی تھی، چڑیوں کی چچہاہٹ، ہوا کی سرسراہٹ اور پتوں کی تالیاں سننی تھیں مگر اب تو کان جھلس چکے ہیں۔ ہمارے اٹھائیس ہاتھوں کو اپنی ماؤں کو محسوس کرنا تھا، ان کی محبت بھری گرمی اور نرماہٹ کو جذب کرنا تھا مگر ہمارے ہاتھ تو ہمارے ساتھ ہی سلگ گئے۔

ہمارے پیروں کو ماں باپ کے لائے ہوئے جوتے پہننے تھے، ان کی انگلی پکڑ کر چلنا تھا، تتلیوں کے پیچھے بھاگنا تھا، مگر اب انہیں کوئی افسوس نہیں۔ پیارے اللہ میاں! آپ کتنے مہربان ہیں۔ آپ نے ہمارے ننھے ننھے ہاتھوں کو اس مشقت سے بچا لیا جو بچہ مزدور، چائے خانے، ہوٹل اور بھٹے پر کام کرتا ہے۔ آپ نے ہمارے پیروں کو بھاگتے ہوئے کھلے مین ہولز، تالابوں اور گندے نالوں میں گر کر مرنے سے بچا لیا۔ آپ نے ہمیں اسکول، مدرسوں، گلی بازاروں اور گھر میں ریپ، زیادتی اور بدفعلی کا شکار ہونے سے بچالیا۔

آپ نے ہمیں اغوا اور قتل کے بعد بوری میں بند ہو کر کنواں، تالاب، گڑھے یا نالے میں پھینکے جانے سے بچا لیا،بے قابو گاڑیوں اور اسکوٹروں کی ٹکر سے معذور ہونے سے بچا لیا، غذائی قلت سے بچا لیا اور ہمیں کمزور، ناتواں ماؤں سے دودھ کی فرمائش کرنے سے بچا لیا۔ آپ کو تو معلوم ہے، دنیا میں بھیجے جانے سے پہلے آسمان پر حوریں ہمیں بتاتی تھیں کہ دنیا بہت خوبصورت ہے، تم لوگوں کو وہاں جانا ہے، وہاں تمہارے ماں باپ تم سے بہت زیادہ پیار کریں گے۔ وہ تو کرتے ہیں، اب بھی کریں گے، اسی لیے تو وہ اسپتال کے باہر بیٹھے روتے بلکتے، سسکتے ہماری جھلسی ہوئی لاشوں کا انتظار کر رہے تھے۔

پیارے اللہ میاں! ہمارے ماں باپ بہت غریب ہیں، تب ہی تو انہوں نے ہمیں سرکاری اسپتال کی نرسری میں داخل کروایا، نہیں تو ہم بھی اشرافیہ کے بچوں کے ساتھ 30-40 ہزار روپے روزانہ کے خرچے پر کسی شاندار نرسری میں محفوظ علاج کے ساتھ بڑے ہوتے۔ پیارے اللہ میاں! بس ایک آخری گزارش کہ ہماری ماؤں کے آنسو خشک کر دیں اور انہیں بتا دیں کہ ہم انہیں جنت میں ملیں گے۔

امیدیں، حسرتیں، وفائیں اور سکون

انا للہ وانا الیہ راجعون