• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم رضوان ملغانی

وہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں کے مکینوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی تھی۔گھروں کی عورتیں بھی اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لئے مردوں کے شانہ بہ شانہ کام کرتی تھیں اور دال روٹی سے گزر بسر ہو جاتی تھی۔ شادُو کسان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی وہ دس سال سے اولاد کی آس لگائے ہوئے تھا۔

اس کی مراد بر آئی تو اس نے اپنے کچے کمرے میں رکھی صندوق سے اپنی ساری جمع پونجی نکال کر مٹھائیاں تقسیم کی آس پڑوس کے بستی والوں کو بھی یاد رکھا۔ شادُو نے بیٹے کا نام جمال رکھا ۔جب وہ بڑا ہوا تو ضد کی کہ اسے اسکول داخل ہونا ہے،

گاؤں میں اسکول کا نام بھی کسی نے نہ سنا تھا، اُن کے لیے کسی بچے کا اسکول میں داخلہ لینے کی ضد حیرانی کی بات تھی۔ گاؤں کے ہر فرد نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا کہ جمال کو اس کے عزائم سے باز رکھاجائے، لیکن سب ناکام رہے۔

آخر اس کا داخلہ گاؤں سے دور ایک بستی کے اسکول میں کروا دیا گیا۔ وہ تانگے میں بیٹھ کر پکی سڑک پر جاتا، وہاں سے بس میں سوار ہو کر بستی کے اسکول پہنچتا۔ اسکو ل مڈل تک تھا۔ مڈل کے بعد اس نے ہائی اسکول میں داخلہ لینے کاکہا تو گاوٗں والے غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ اُس سے کہا،”کسان بنوکچھ اور بننے کے خواب نہ دیکھو۔“

لیکن جمال پر تو پڑھنےکی دُھن سوار تھی۔ بالاآخر اُس نےشہر کے ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔ وہ جی جان سے پڑھتا تھا۔میٹرک میں صوبے بھر میں اس کی تیسری پوزیشن آئی تو وہ پڑھائی کے معاملے میں مزید سنجیدہ ہو گیا۔ اس کی اَن تھک محنت اور دل لگا کر پڑھنے کا جنون اسے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک لے گیا۔

اتنا پڑھ لکھ جانے کے بعد اسے چھوٹی موٹی ملازمت گوارہ نہ تھی اور اونچی پوسٹ اور عہدے کے لئے لین اہم عہدے پر فائز ہونے کے لیے سفارش کا ہونا ضروری تھا، اس نے بہت کوشش کی،لیکن بے سود۔ وہ گاؤں واپس آیا تو سب نے کہا، ”کھیتی باڑی شروع کرو۔“ لیکن وہ آمادہ نہ ہوا اوراپنی مدد آپ کے تحت پرچون کی دکان کھولی جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے جنرل اسٹور کی شکل اختیار کر گئی۔ اپنا کچا گھروندہ گراکردو کمرے پکے بنا لیے جس کے آگے برآمدہ اور تین چار درخت بھی تھے جن کی چھاؤں میں بیٹھ کر اس کی ماں پھولے نہ سماتی ۔گاؤں میں جمال کا اکلوتا اسٹور تھا۔

آس پڑوس کے گاؤں والے بھی وہیں سے آکر سودا سلف لیتے تھے۔زندگی اچھی گزر رہی تھی کہ اسے ایسا لگا جیسے گاؤں کا ماحول بدل گیا ہو۔روزمرہ کے معاملات میں فرق آگیا۔اب وہ نوجوان جو اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کرتے تھے، اپنا وقت موبائل فون پر ضائع کرنے لگے۔ ہر وقت اسی میں لگے رہتے۔

دکان پر آنے والے اکثر لوگ شکایتی لہجے میں کہتے کہ ہمارا لڑکا کام نہیں کرتا، اسے سمجھاؤ۔ جمال سر پکڑ کر بیٹھ جاتا۔ لڑکے اس کی دکان پر بیٹھ کر فضول باتیں کرتے، وہ انھیں سمجھا کر تھک جاتا، لیکن کوئی بھی اس کی باتوں پہ کان نہیں دھرتا تھا۔

جمال عرصے سے اپنی ڈگری بھلائے بیٹھا تھا۔ وہ اسے یاد آنے لگی۔ دن رات وہ ندامت کے آنسو بہاتا کہ اگر وہ اپنی تعلیم اور شعور کو بستی کے ہر فرد کے ذہنوں میں منتقل کرتا تو آج جو صورت حال ہے اس سے ان کی بستی دوچار نہ ہوتی۔کئی سوال تھے جو اسے تنگ کرتے اور شرمندہ کرتے تھے۔

وہ اپنے علم کی بنیاد پہ بہت کچھ کر سکتا تھا۔ اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ آخر اس نے فیصلہ کیا اور اس بارے میں والد کو آگاہ کیا کہ اب دکان ان کے حوالے کرکے گاؤں کے مستقبل کے معماروں کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر اس کے والد بہت ناراض ہوئے لیکن جمال نے انھیں قائل کر لیا۔

اُس نے گاؤں میں اسکول قائم کیا۔وہ بچے جو بھٹک کر بے راہ راوی کا شکار ہو گئے تھے، اسکول آنے لگے آہستہ آہستہ وہ راہ راست پہ آنے لگے ۔علم کی روشنی ،جسے اس نے اپنے دماغ میں محفوظ کی تھی، بچوں اور نوجوانوں میں منتقل کرنے لگا۔

اس کی محنت رنگ لائی اور اس بستی سے اکثر لوگ علم و شعور کے پیکر بن کر نکلنے لگے۔ اب شادو کسان ہی نہیں گاؤں کے وہ بزرگ جو جمال کی تعلیم کے خلاف تھے اپنے بچوں کو تعلیم بھی دلانے لگے اور بستی کے دوسرے اسکولوں میں بھی داخلہ دلانے میں ہچکچاتے نہیں۔