معنی، چٹورا انسان یا فضول میں پیسہ ضائع کرنے والا کبھی دولت مند نہیں ہوسکتا۔
’’ابو، میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر برگر اور پزا کھانے جارہا ہوں، جاوید نے باہر سے کھیل کر گھر میں آتے ہوئے اپنے ابو سے کہا اور پھر نہانے چلا گیا۔ ’’آپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ جاوید باہر کے کھانے کچھ زیادہ ہی کھانے لگا ہے۔‘‘ جاوید کی امی نے اس کے ابو سے شکایتی انداز میں کہا۔
’’کیا کریں بیگم، آپ کے بیٹے ہیں ہی بہت چٹورے قسم کے، باہر کی الٹی سیدھی چیزیں کھائے بغیر ان کا تو جیسے پیٹ بھرتا ہی نہیں ہے۔ جاوید کے ابو نے جو اس وقت ٹیلی ویژن پر خبریں سن رہے تھے، مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اس میں مسکرانے کی کیا بات ہے، آپ جاوید کو سمجھائیں کہ باہر زیادہ کھانا پینا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے اور خاص کر تب جب کوئی صحت بخش اور مضر صحت غذاؤں میں فرق ہی نہ سمجھے، اب آپ دیکھیں نا، جاوید، برگر، پزا اور نوڈلز ضرورت سے زیادہ ہی کھانے لگا ہے اور پھر ٹھنڈے مشروبات بھی بہت پینے لگ گیا ہے، صحت کے لیے یہ کوئی اچھی بات تو نہیں ہے نا، خوامخواہ پیسے ضائع کرتا ہے اور پھر اپنی صحت کو بھی خراب کررہا ہے۔‘‘ جاوید کی امی نے اچھی خاصی تقریر کرتے ہوئے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے، جاوید نہاکر آجائے تو سمجھاتا ہوں۔‘‘ اس کے ابو نے کہا۔ جاوید جب نہاکر آیا اور باہر جانے کی تیاری کرنے لگا تو اس کے ابو نے کہا۔ ’’دیکھو بیٹا، جو چیزیں تم باہر کھانے جاتے ہو، وہ صحت کے لیے بالکل بھی اچھی نہیں ہیں، باقاعدہ ورزش اور غذائیت سے بھرپور غذائیں کھاکر ہی صحت مند زندگی گزاری جاسکتی ہے۔
اس طرح ہم تندرست، توانا اور چاق و چوبند (مضبوط، پھرتیلا) رہنے کے ساتھ اپنی زندگی بھی بھرپور طریقے سے گزار سکتے ہیں۔ جاوید کے ابو نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ ’’ابو میں اکیلا تو نہیں جارہا باہر، میرے ساتھ میرے دوست بھی ہوں گے۔‘‘ جاوید نے موزے پہنتے ہوئے کہا۔
’’بات اکیلا جانے یا دوستوں کے ساتھ جانے کی نہیں ہورہی، بات ہورہی ہے صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں کی اور مجھے لگاتا ہے کہ تم تو کچھ زیادہ زبان کے چٹورے بن گئے ہو، جو مل جائے بس کھانے سے مطلب ہے، کھانے سے پہلے یہ بھی سوچاکہ ہم جو کھا رہے ہیں وہ ہماری صحت کے لیے اچھا بھی ہے یا نہیں۔ اس بار جاوید کے ابو نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’اچھا ٹھیک ہے ابو، میں کوشش کروں گا کہ آہستہ آہستہ مضرِصحت اشیا ء کھانا چھوڑ دوں‘‘ جاوید نے باہر جانے کی جلدی میں فوراً ہی حامی بھرتے ہوئے کہا۔
’’جاوید مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو اور یہ بات سچائی کے ساتھ نہیں کہہ رہے، یاد رکھو بیٹا کہ ماں باپ اگر کوئی بات سمجھائیں تو وہ اولاد کی بہتری ہی کے لیے ہوتی ہے۔ جاوید کے ابو نے اس بار شفقت اور محبت کے ساتھ کہا۔
’’ٹھیک ہے ابو میں وعدہ کرتا ہوں، اب صحت کو خراب کرنے والی چیزیں نہیں کھاؤں گا۔‘‘ جاوید نے اس بار سچائی کے ساتھ وعدہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’شاباش بیٹا یہ ہوئی نا بات، یاد رکھو صحت سب سے پہلے ہے، اب تو تمہارے ابو بھی ریٹائر ہونے والے ہیں۔ آگے چل کر تمہیں ہی گھر کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں، آج فضول خرچی سے بچو گے اور پیسا جمع کروگے تو کل تمہارے ہی کام آئے گا۔
اسی لیے یہ کہاوت یاد رکھو۔ ’’چٹوری زبان دولت کا زیان‘‘ جاوید کی امی نے اسے اس وعدے پر کہ اب وہ فضول اور مضر صحت چیزیں نہیں کھائے گا اور نہ فضول خرچہ کرے گا، اسے پیار سے دیکھتے ہوئے شفقت کے ساتھ کہا اور جاوید اپنے وعدے کو یاد رکھتا ہوا دوستوں کے ساتھ باہر چلا گیا۔
آج کل جہاں بھی دیکھ لیں زیادہ تر یہی نظر آئے گا کہ، باہر سے منگوائی گئی اشیا صحت کے اصولوں کے تحت تیار نہیں کی جاتیں، اسکولوں کے باہر ٹھیلوں پر مختلف چیزیں فروخت کرنے والے بالخصوص سموسے، آلو چپس، رول، پکوڑے اور کچوریاں انتہائی مضر صحت تیل میں تیار کرتے ہیں، جس کے استعمال سے بچے پیٹ، معدہ اور سینے کی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہی، جب کہ غیر معیاری چٹنی کا استعمال بھی عام ہوگیا ہے، جس سے بچوں کے گلے خراب ہورہے ہیں۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ ’’صحت ایک بہت بڑی دولت ہے‘‘ لہٰذا کوئی بھی چیز کھائیں تو سب سے پہلے اس بات کا یقین کرلیں، آپ نے اپنے اسکول کے باہر سے جو چیز بھی کھانے کے لیے خریدی ہو اس کی ظاہری حالت کیسی ہے، کہیں اس پر مکھیاں تو نہیں بیٹھ رہیں یا وہ گندے طریقے یا گندے ہاتھوں سے تیار نہیں کی جارہی ہیں، کیوں کے پیسا خرچ کیا جاتا ہے اپنی خوشی اور صحت کے لیے، کہیں آپ اپنے پیسے خرچ کرکے بیماریاں تو نہیں خرید رہے؟ ذرا سوچیے…؟
(’’ایک کہاوت ایک کہانی‘‘ سے انتخاب)