• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

25 ہزار سال قبل انسان نشے کیلئے چھالیہ کا استعمال کرتے تھے، شواہد مل گئے

---فائل فوٹوز
---فائل فوٹوز

سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان آج سے تقریباً 25 ہزار سال قبل بھی ذہن پر اثر انداز ہونے والی نشہ آور چیزیں استعمال کرتے تھے، یعنی زراعت، شہروں اور تحریری زبان کے وجود میں آنے سے بھی بہت پہلے۔

تحقیق کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں قدیم شکاری انسانوں کے دانتوں سے نشہ آور چیز استعمال کرنے کے شواہد ملے ہیں۔

محققین کا خیال ہے کہ قدیم انسان باقاعدگی سے چھالیہ استعمال کرتے تھے، جو اریکا پام کے بیج سے حاصل ہوتی ہے اور اس میں ایریکولین نامی ذہنی اثرات پیدا کرنے والا کیمیائی مادہ موجود ہوتا ہے۔

تحقیق کا آغاز اس وقت ہوا جب ماہرین نے 2 افراد کے دانتوں میں غیر معمولی طور پر گہرے اور گول نشانات دریافت کیے، ان میں سے ایک فرد تقریباً 16 ہزار سے 25 ہزار سال قبل جبکہ دوسرا تقریباً 6 ہزار 300 سے 7 ہزار 600 سال قبل زندہ تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق کسی سخت اور گول چیز کو مسلسل منہ میں رکھنے اور چوسنے سے دانتوں پر اس طرح کے نشانات بن سکتے تھے، جبکہ چھالیہ اس مقصد کے لیے موزوں معلوم ہوئی۔

بعد ازاں قدیم دانتوں کے کیمیائی تجزیے میں ایریکولین کی موجودگی بھی دریافت ہوئی، جو چھالیہ میں موجود بنیادی نشہ آور جزو ہے۔

محققین نے تجربے کے دوران مکمل چھالیہ کو مصنوعی لعاب میں بھگویا اور پایا کہ اسے صرف چوسنے سے بھی ایریکولین خارج ہوتا ہے، جو انسانی دماغ میں موجود مخصوص ریسپٹرز پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق چھالیہ کا اثر بہت شدید نہیں ہوتا بلکہ اس سے ہلکی خوشی، چوکنا پن اور منہ میں سن ہونے کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم سخت چھالیہ کو مسلسل چوسنے سے دانتوں کو مزید نقصان پہنچتا تھا، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر ایک ایسا چکر بن گیا جس میں لوگ اسی عادت کے باعث پیدا ہونے والے درد کو کم کرنے کے لیے مزید چھالیہ استعمال کرتے تھے۔

سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس دریافت سے ذہن پر اثر انداز ہونے والے پودوں کے باقاعدہ استعمال کے براہِ راست شواہد ہزاروں سال مزید پیچھے لے گئے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید