• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمالیہ کے گلیشیئرز پگھلنے سے کروڑوں افراد کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

ہمالیہ کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور صورتِ حال اتنی خطرناک ہے کہ پانی کی دستیابی اور لاکھوں افراد کے روزگار کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ 

ایک رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار گزشتہ دہائی کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ خطہ رواں صدی کے وسط تک ایک ایسے مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں گلیشیئرز پگھلنے سے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد کم ہونا شروع ہو جائے گا اور اس صورتِ حال سے ان دریاؤں پر انحصار کرنے والی آبادیوں، زراعت، پن بجلی اور دیگر شعبوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندوکش ہمالیہ میں تقریباً 40 ہزار گلیشیئرز موجود ہیں لیکن زمینی سطح پر صرف 21 گلیشیئرز کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں گلیشیئرز سے نکلنے والی تقریباً 200 جھیلوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جن میں سے 56 کو انتہائی زیادہ خطرے والی جھیلیں قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں تیزی آنے سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئرز سے نکلنے والی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس سے پہاڑی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔

رپورٹ میں ماہرین نے ہمالیہ کے گلیشیئرز کی نگرانی، ابتدائی انتباہی نظام اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں میں فوری اضافہ کرنے پر بھی زور دیا ہے، کیونکہ اس خطے میں پانی کے بحران کے اثرات صرف پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے جنوبی ایشیاء کی معیشت اور انسانی زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید