تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) ایران جنگ کے دوران میزائل ذخائر میں شدید کمی پر صدرٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ میں تلخ کلامی‘کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر،وزیردفاع پر برہم ‘گولہ بارود کی کمی پر سخت جواب طلب کرلیا‘ وائٹ ہاؤس اورپنٹاگون دونوں نے ان رپورٹس کو من گھڑت اورفیک نیوز قرار دیکر مسترد کر دیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پیٹ ہیگستھ اورپنٹاگون سے بہت خوش ہیں ‘ امریکا کے پاس گولہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے‘ حساس معلومات لیک کرنے والوں کو سخت قانونی کارروائی اور طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا‘ ایرانی زیادہ دیرنہیں چل سکتے ‘جنگ جلد ختم ہوجائے گی‘ادھریمن کے صوبوں مآرب اور حضرموت میں فوجی کیمپوں پر حوثی جنگجوؤں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں یمن کے58سرکاری فوجی ہلاک اور29زخمی ہو گئے ہیں ۔یمن کی وزارت دفاع کاکہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب مناسب وقت اور مقام پر دیں گی ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران میں ایک حلقہ مذاکرات جبکہ دوسرا جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے۔ کویت پر ایران کے مسلسل حملوں کے بعد کویتی حکام نے مقامی ایرانی اسکول کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہےجبکہ امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی سخت کر دی‘سینٹرل کمانڈنے 49 جہازوں کا رخ مورڈیا‘دو جہازوں کو ناکارہ بنا دیا اور دو دیگر پر سوار ہو کر تلاشی لی۔ سعودی حکومت کے ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکی کے رہنما آج جدہ میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کریں گے۔ صدرمسعود پزشکیان کاکہنا ہے کہ امریکا نے زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالا ہے‘ حملوں کی وجہ سے روزانہ تقریباً 230 ملین کیوبک میٹر گیس کی قلت پیداہوگئی ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر نے کہاہےکہ مزید ڈرامے کی ضرورت نہیں‘ واشنگٹن نے ناکام حکمت عملی اپنائی ہے‘ایک ہی قسم کی ڈرامائی سفارتکاری بار بار دہرائی جا رہی ہے‘ حقائق کو تسلیم کریں اور اپنے وعدوں کو پورا کریں ۔ قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’بڑا حملہ آنے والا ہے۔۔۔ انتظار کریں ۔۔ ۔ نہیں ۔۔۔وہ تو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘ ان کا یہ بیان بظاہر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو نشانہ بنانے دھمکی کے فورا بعد حملے روکنے کے فیصلے کا حوالہ تھا۔حقائق کو تسلیم کریں اور اپنے وعدوں کو پورا کریں‘ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق پارلیمان اس وقت ہرمز سے متعلق ایک ابتدائی معاہدے کے متن پر غورکررہی ہے جس کے تحت امریکا‘ اسرائیل اور دیگردشمن ممالک کے جہازوں کے گزرنے پر پابندی عائد کی جائیگی ‘ پابندیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں جہاز کے کارگو کی مالیت کا 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق جن ممالک اور افراد نے ایران کو نقصان پہنچایا ہے انہیں اس وقت تک گزرنے کی اجازت نہیں ملے گی جب تک وہ ہرجانہ ادا نہیں کرتے۔