ایک چینی لڑکے کو 4 گھنٹے تک کیڑوں کے بھنبھنانے کی آواز سننا مہنگا پڑ گیا۔ وہ عارضی طور پر اس وقت اپنی قوت سماعت کھو بیٹھا جب اس نے چار گھنٹے تک حشرارت الارض میں شامل جھینگر سے مشابہہ ایک کیڑے سیکاڈا کی آواز کان لگا کر سنی۔
زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ قدرتی آوازیں انسانی صحت کے لیے بے ضرر ہوتی ہیں، لیکن حال ہی میں پیش آنے والے واقعے نے ثابت کیا اس میں کچھ استثنائی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ چین کے صوبہ ژیجیانگ کے شہر ننگبو میں وانگ نامی 18 سالہ نوجوان جنگل میں کیمپنگ کے دوران کئی گھنٹوں تک سیکڑوں سیکاڈا کی مسلسل ٹک ٹک جیسی آوازیں سنتا رہا جس کے نتیجے میں اس کی سماعت متاثر ہوئی۔
وانگ نے محسوس کیا کہ دوپہر کے قریب سیکاڈا کی آوازیں نمایاں طور پر زیادہ بلند ہو گئی تھیں، لیکن وہ شام تک جنگل میں موجود رہا۔ شام کے وقت اسے کانوں میں گھن گرج اور کان بند ہونے یا بھرا بھرا محسوس ہونے کی شکایت ہونے لگی۔ جب سیکاڈا کی آوازیں آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگیں تو اسے احساس ہوا کہ وہ نہ تو پرندوں کی چہچہاہٹ سن پا رہا ہے اور نہ ہی اپنے فون کی نوٹیفکیشن کی آوازیں۔
سماعت کھونے کے خوف کے باعث وہ فوراً اسپتال پہنچا، جہاں فوری معائنے سے معلوم ہوا کہ اس کے دونوں کان سوجے ہوئے تھے۔ اسے دوا دی گئی اور کم از کم 14 دن تک تیز آوازوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔ خوش قسمتی سے دو ہفتوں کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا۔
چین کی ننگبو یونیورسٹی نمبر 1 سے ملحقہ اسپتال کے شعبہ ناک، کان اور گلے کے ماہر سینئر ڈاکٹر لی جی نے کہا بہت سے لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ فطرت کی آوازیں کانوں کے لیے بے ضرر ہوتی ہیں۔
سیکاڈا دنیا کے سب سے زیادہ شور پیدا کرنے والے کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ایک اکیلا سیکاڈا عموماً سماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، کیونکہ اس کی آواز شاذ و نادر ہی 70 ڈیسی بل سے زیادہ ہوتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس جانور کا ایک بڑا جھنڈ یا گروہ مل کر آواز نکالتا ہے، جو 85 ڈیسی بل سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ 85 ڈیسی بل وہ حد ہے جس کے بعد سماعت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔