• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کیس، نئی تحقیقاتی کمیٹی کا اہم اجلاس آج، آخری فون کال، پیغامات، نقل و حرکت کی تفصیلات حاصل

کراچی (اسٹاف رپورٹر) میر رضا علی کیس کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس آج (پیر) ہوگا۔ اجلاس کی سربراہی ڈی آئی جی عامر فاروقی کرینگے۔ نئی تحقیقاتی ٹیم کیس کی جامع، غیر جانبدارانہ اور تمام پہلوؤں سے ازسرنو تحقیقات کریگی۔ 

تحقیقاتی ٹیم کیس سے متعلق نئے اور اضافی شواہد کی نشاندہی، انہیں جمع اور محفوظ کرنے کے بعد انکا تفصیلی جائزہ لے گی، جبکہ فزیکل، ٹیکنیکل، واقعاتی اور فرانزک شواہد کا بھی باریک بینی سے تجزیہ کیا جائیگا۔ 

نئی تحقیقاتی ٹیم مقتول کے زخموں، کپڑوں، فرانزک شواہد اور دونوں متضاد پوسٹ مارٹم رپورٹس کا تقابلی جائزہ لے گی۔ٹیم کو کیس حل کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ٹیم مقررہ مدت کے اندر متعلقہ عدالت میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ 

تحقیقات میں معاونت کیلئے ضرورت پڑنے پر کسی بھی افسر کو ٹیم میں شامل کیا جاسکے گا جبکہ کیس میں پیشرفت سے متعلق یومیہ بنیاد پر رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔ نئی تحقیقاتی ٹیم پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل بورڈ کے ارکان کے بیانات بھی ریکارڈ کریگی۔ 

پہلے پوسٹ مارٹم میں شامل ڈاکٹرز اور ماہرین کا باقاعدہ انٹرویو کیے جانے کا امکان ہے جبکہ پوسٹ مارٹم کرنے والی ٹیم کو باقاعدہ سوالنامہ بھی دیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم یہ بھی جاننے کی کوشش کریگی کہ پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی سینے سے داخل ہوکر پیٹھ سے خارج ہونے کی رائے کن شواہد اور بنیادوں پر قائم کی گئی تھی۔ 

پہلی رپورٹ میں فرانزک شواہد کو فائل کرنے اور محفوظ کرنے کیلئے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی کی سمت مختلف قرار دیے جانے کے معاملے پر بھی پہلے پوسٹ مارٹم کی رائے کی بنیاد جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ 

تحقیقاتی ٹیم دونوں پوسٹ مارٹم رپورٹس، زخموں، مقتول کے کپڑوں اور دیگر فرانزک شواہد کا تقابلی اور تفصیلی جائزہ لے گی۔ دوسری جانب میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات میں 28 جولائی کی شب ان کی نقل و حرکت، آخری فون کالز اور پیغامات کی تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی شب تین ٹیلیفون کالز کے ذریعے دو افراد سے بات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا نے رات 2 بج کر 13 منٹ اور 2 بج کر 16 منٹ پر علی نامی شخص سے بات کی، جبکہ اس کی آخری فون کال دوست عبداللہ نے ریسیو کی۔ 

میر رضا اور عبداللہ کے درمیان تین منٹ سے زائد گفتگو ہوئی۔ تفتیش کے دوران میر رضا کے موبائل فون پر آنے والے آخری 8 پیغامات کی تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید