کراچی کو اپنا ’اسپائیڈر مین‘ مل گیا، اے آئی (AI) ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔
پاکستانی ڈائریکٹر اور اے آئی فلم میکر صبغت شیخ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک مختصر فلم تیار کی ہے، جس میں کراچی کو اسپائیڈر مین کی کہانی کا مرکز بنایا گیا ہے۔
’اسپائیڈر مین ابوو کراچی‘ کے عنوان سے بنائی گئی ویڈیو میں ایک خیالی پیٹر پارکر کو کراچی میں رہتے اور شہر کے اپنے اسپائیڈر مین کے روپ میں جرائم پیشہ عناصر سے لڑتے، لوگوں کو بچاتے اور شہر کے مختلف معروف مقامات پر کارروائیاں کرتے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں پیٹر پارکر خود کو فلم میکر بتاتا ہے، تاہم مکڑی کے کاٹنے کے بعد اس کی زندگی بدل جاتی ہے اور وہ شہر کے تحفظ کی ذمے داری سنبھال لیتا ہے۔
فلم میں معروف مارول کردار کو کراچی کے مقامی مسائل سے جوڑا گیا ہے، جن میں موبائل فون چھیننے کی وارداتیں، ڈکیتیاں، عمارتوں میں آگ لگنا اور سیلاب جیسے مسائل شامل ہیں۔
ڈائریکٹر کے مطابق یہ پروجیکٹ اے آئی اور پوسٹ پروڈکشن کے مختلف ٹولز کی مدد سے تیار کیا گیا۔
ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی، جہاں متعدد افراد نے اس کے تصور، ایڈیٹنگ اور اے آئی کے تخلیقی استعمال کو سراہا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’کراچی کو فوری طور پر ایک اسپائیڈر مین کی ضرورت ہے‘، ایک صارف نے کراچی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ شہر کو ایک ہیرو کی ضرورت ہے۔