بعض الفاظ اس قدر سحر انگیز ہوتے ہیں کہ سماع و بیاں کے مراحل سے گزرتے ہی مشامِ جاں کو معطّر، روح کو سرشار اور طبیعت کو بے طرح مائل بہ وجد اور رقص کردیتے ہیں۔ ’’آزادی‘‘ بھی ایسا ہی ایک لفظ ہے۔ اس کی حقیقت جاننا ہو تو کسی غلام سے پوچھیے کہ اس کے لیے آزادی کا پروانہ کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتا۔ آزادی انسان تو انسان، حیوان کو بھی قربانی کے بغیر نہیں ملتی اور جب معاملہ کسی قوم کی آزادی کا ہو تو نسلوں کو سروں کی فصلیں کٹانا پڑتی ہیں۔ رجال العلوم کو حکمت و دانائی کے بے تحاشا موتی بکھیرنے پڑتے ہیں۔
قائدین کو سفر و حضر، قید و بند، طعن و تشنیع اور دارورسن کی سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں، کتنے ہی بزرگ، جوانوں کے لاشوں کو کاندھا دیتے ہیں، کتنی ہی ماؤں کی کوکھ اجڑتی ہے، کتنی ہی سہاگنیں ابھاگن ہوجاتی ہیں، کتنے ہی بچّے ہمیشہ کے لیے والدین کے شجرِ سایہ دار سے محروم ہوجاتے ہیں۔
تب کہیں جاکر صبحِ آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہے، آزادی کے جاں گداز لمحات آتے ہیں، کسی قوم کی سوئی ہوئی قسمت جاگتی ہے، لوگوں کے چہرے خوشی سے دمکتے ہیں، آزادی کے لیے ان کے کانوں میں رس گھولتے ہیں، ڈولتے سفینے منزل پاتے ہیں، لوگوں کو سر اٹھا کر چلنے کا سلیقہ آتا ہے، فکر و خیال کو نئی بلندیاں ملتی ہیں اور سب سے بڑھ کر انسان کو اپنے انسان ہونے کا یقین آتا ہے۔
ہمارے پُرکھوں نے بھی آزادی حاصل کرنے کے لیے یہ جاں گسل مراحل طے کیے۔ کوئی یہاں کٹا اور کوئی وہاں، کوئی جان ہتھیلی پر رکھ کر شمعِ آزادی کو جِلا بخشتا رہا، مگر خود آزاد فضاؤں میں سانس نہ لے سکا، کسی نے اپنا سب کچھ لُٹا کر ہمیں آزادی کے زروجواہر فراہم کیے اور خود گم نام ہوگیا، کوئی نانِ جویں کے لیے ترسا، مگر ہمیں عزّت سے روٹی کمانے اور پیٹ بھر کر کھانے کے لیے خطۂ ارض دے گیا اور کوئی آزادی کے لیے لڑتے لڑتے غلام ہندوستان میں رزقِ خاک ہوا، لیکن ہمیں آزاد پاکستان کا باسی بنا گیا۔پھر ہم کیوں نہ یومِ آزادی کے موقع پر نعرۂ مستانہ بلند کریں اور کیوں نہ اپنے پُرکھوں کی یاد منائیں؟
آزادی اور انسانی ارتقاء
انسانی ارتقاء آزادی سے وابستہ ہے۔ انسان آزاد ہو تو اس کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، اس کی شخصیت نکھرتی، ابھرتی ہے اور تکمیلِ ذات کاسفر اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم ،بہ عنوان،’’خضرِ راہ ‘‘میں اسی حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے:
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی
آزاد فضا میں سانس لینا، آزادی سے جینا، خود کو آزاد محسوس کرنا، آزادی سے بات اور کوئی عمل کرنا،ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے، لیکن آزادی حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے دی جانی والی قربانیوں کے قصّے کتابوں میں پڑھنا الگ بات ہے اور قربانی دینا علیحدہ بات ہے۔
آزادی کی قیمت اور عہدِنو
ہم جس آزادی کا جشن منارہے ہیں ،وہ بھی بہت سی جانی اور مالی قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی تھی ۔ آگ اور خو ن کی ندیاں بہیں، رشتے، ناطے چھوڑنے پڑے، پُرکھوں کی ہڈّیاں چھوڑی گئیں، یادیں اوریاد گاریں قُربان کرنا پڑیں ،گھربار، کاروبار اور آسائشوں کی قُربانیاں دی گئیں، تب کہیں جاکر آزادی جیسی عظیم نعمت ملی۔
لیکن یہ سفر یہیں پر ختم نہیں ہوا،بلکہ آزادی حاصل کرنے کے بعد استحکامِ پاکستان اور تحفّظ پاکستان کی منزلوں کی جانب ایک اور کٹھن سفر کا آغاز ہوا جو اب بھی جاری ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قوموں کی زندگی میں یہ نعمت حاصل کرنے کے مراحل بہت جاں گُسل ہوتے ہیں،لیکن اس کی حفاظت کے لیے بھی بہت قُربانیاں درکار ہوتی ہیں۔
بلاشبہ آزادی کا تحفظ ہر انسان کے وقار اور عزت نفس کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔یہ آزادی کا ثمر ہی ہوتا جس کی بہ دولت انسانوں کو اپنی صلاحیتیں بہ روئے کار لانے اور معاشرے کی ترقی میں حصہ لینے کے مواقعے ملتے ہیں۔آزادی کا تحفظ ایک بنیادی انسانی حق ہے جو ہر فرد کو حاصل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی شخص کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی زندگی گزارنے، خیالات کا اظہار کرنےاور اپنے عقیدے پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے ۔ آزادی کے تحفظ میں قانون کی حکم رانی، انسانی حقوق کا احترام اور جمہوری اقدار کا فروغ بھی شامل ہیں۔
قائد اور آزادی کا حقیقی تصوّر
چودہ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دہری خوشی کا دن ہے اور اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں، بلکہ دنیا میں جہاں بھی پاکستانی بستے ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔
بانی پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح نے 25 اگست 1947ء کو کراچی میونسپل کارپوریشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا’’ہمارا مقصد ہر شہری کونہ صرف ہر قسم کی محتاجی اور خوف سے نجات دلانا ہے، بلکہ اسے آزادی، اخوت اور مساوات کی نعمتیں بھی مہیا کرنا ہے، جس کی تلقین ہمیں اسلام کرتا ہے‘‘۔
قائد اعظمؒ نے ہمیں آزادی اور بے لگام آزادی کا فرق بھی سمجھایا۔ 24مارچ 1948ء کو ڈھاکا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ’’آزادی کا مطلب بے لگام ہوجانا نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہےکہ آپ دیگر شہریوں اور ملک کے مفاد کو نظر انداز کرکے جو طرز ِعمل چاہیں اختیار کرلیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ایک متّحد اور منظّم قوم کی طرح کام کریں‘‘۔
لیکن آج جب ہم قائد اعظم کی تقاریر اور انٹرویوز پڑھتے ہیں توبدقسمتی سے آج کا پاکستان بابائے قوم کے افکار کی ضد نظر آتاہے۔ 14اگست کو سبز ہلالی پرچم لہرانے اور اسے سلام کرنے سے آزادی کا تحفظ نہیں ہوتا ۔ آزادی کا تحفّظ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اس کا حقیقی مطلب سمجھیں گے۔ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری کو وہ حقوق دیے جائیں جن کا وعدہ آئینِ ِپاکستان میں کیا گیا ہے۔ پاکستان کا موجودہ آئین 14اگست 1973ء کو نافذ ہوا جس پر ہر مکتبہ فکر کے راہ نماؤں نےدست خط کیےتھے۔
آج اس آئین کو منظور ہوئے تریپن برس بیت چکے ہیں۔ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ اس آئین کا تحفظ بھی دراصل پاکستان کی آزادی کا تحفظ ہے۔ اس آئین کے مطابق آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر پاکستانی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی مرضی سے زندگی گزارسکے، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ریاست ہر شہری کےلیے ماں جیسا کردار ادا کرے۔
آزادیِ اظہارِ رائے اور شُترِبے مہار
یہ درست ہے کہ شخصی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی کے بغیر نامکمل ہوتی ہے۔لیکن ہمارے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آزادیِ اظہارِ رائے کی حقیقت کیا ہے۔ آزادیِ اظہارِ رائے دراصل وہ آزادی ہے جو قدرت کی طرف سے انسان کو عطا کی گئی ہے۔ ملوکیت اور آمریت جیسے ناکام تجربات کرنے کے بعد دنیا نے یہ تسلیم کر لیاہے کہ انسانی فطرت کو اجتماعی طور پہ جبراً کسی ایک نظریے کا اسیر نہیں بنایا جا سکتا۔
انسانی جبِلّت اس جبر کو قبول نہیں کر سکتی،کیوںکہ ہر انسان خود سوچنے ،سمجھنے کی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتاہے۔ کسی روبوٹ کی طرح مخصوص طرز پہ اس کی پروگرامنگ نہیں کی جا سکتی۔ آمریت اور ملوکیت سے نکل کر دنیا اب جمہوریت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ کہیں نہ کہیں انسانوں کی آزادیِ اظہارِ رائے کو شرف قبولیت بخشنا ہے۔ اس سے ہر کوئی واقف ہے کہ جمہوری ملک کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ اس ملک کے عوام کچھ بھی کرتے رہیں، ان پہ کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ جو چاہیں کرتے رہیں، انہیں روکا نہیں جا سکتا۔ ہر جمہوری ملک کا اپنا دستورہے جس میں انسانی آزادی کو اصولوں کا پابند کیا گیا ہے۔ ہر ملک کے دستور میں حکومت سے لے کر عوام تک کی حدود کا تعین کیا جاتا ہے۔
آزادی کا تقاضا بھی یہی ہے، ورنہ بے مہار آزادی بہتوں کےلیے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ یہ آمریت کی ہی ایک بدلی ہوئی شکل ہوتی جس کے محرّک حکم راں کے بجائے عوام ہوتے۔اس روشنی میں اگر مغرب کی آزادیِ اظہارِ رائے کو پرکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ آزادی کا دہرا معیار رکھتے ہیں۔ آج بعض مغربی ممالک آزادیِ اظہارِ رائے کو اس قدر وسعت دینےپر تُلے ہوئے ہیں کہ اپنے سرکش جذبات کی تسکین کے لیے مذہب اور ان کے مقدّسات کی بے حرمتی کو بھی آزادیِ اظہار ِرائے کا نام دیں۔
لیکن مسلّمہ تہذیب و ثقافت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مذہب، رنگ اور نسل کا احترام کیا جائے۔ اس سے فکری اختلاف رکھنا آپ کا حق ہے، لیکن اس کی تضحیک کرنا بڑے جرائم میں شامل ہے۔ خود اسلام نے بھی اس کی ممانعت کی ہے اور اس کا احترام کرنے کی ترغیب دی ہے۔
آج ہم سب کو اچھی طرح یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح آزادی کو اپنی شرطوں پہ محدود نہیں کیا جا سکتا، بالکل اسی طرح اسے بے لگام اور ہر حدسے آزاد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح کسی ادارے کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے قاعدے اور قوانین ہوتے ہیں، اسی طرح ملک کا نظام پُرامن طور پہ چلانے کے لیے آئین کا ہونا اور اس پر عمل درآمد ہونا بھی ضروری ہوتاہے۔ ہمیں کوئی سیاسی یا مذہبی فکر اپنانے یا اس سے اختلاف کرنے کی آزادی تو ہو سکتی ہے، لیکن اس کی تضحیک اوربے حرمتی کرنے کا حق کوئی قانون یا آئین نہیں دیتا۔
آزادی برقرار رکھنے کا عزم اور معرکہ حق
پاکستان نے اپنی آزادی اور سلامتی پر آنچ نہ آنے دینے کے عزم کے ساتھ گزشتہ برس کشیدگی کے دوران بھارت کی تمام تر اور شدید شر انگیزیوں کے باوجود اپنے سیاسی، سفارتی، عسکری اور حربی اعصاب پوری طرح قابو میں رکھے۔اگرچہ اندرون ملک بھارت کو فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیے دباو روز بہ روز بڑھ رہا تھا ، لیکن پاکستان نے مذکورہ تمام شعبوں میں بہت تحمّل، تدبّر اور ہوش مندی سے فیصلے کیے۔ کیوں کہ اس مرتبہ پاکستان کو پوری طرح یہ احساس تھاکہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشنزکو اگر اب قطعی طورپر نہیں روکا گیا تو ان کی رفتار ،تعداد اور منفی اثرات بڑھتے جائیں گے۔
پاکستان کو بھارت کی طاقت ور عالمی کھلاڑیوں سے قربت، اس کے بڑھتے ہوئے توسیع پسندانہ عزائم ، خِطّے میں اس کی پولیس مین کا کردار ادا کرنے کی بڑھتی ہوئی خواہش اور کوششوں، خِطّے کے ممالک پراپنی عسکری اور سیاسی طاقت اور بڑی معیشت ہونے کی دھونس جمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینے کی حرکتوں اور چین کا راستہ روکنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہونے کا پوری طرح احساس تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھاکہ بھارت کے فیصلہ ساز اس وقت اس کی کم زور اقتصادی حالت، دہشت گردی کی تیز لہر اور اندرونی سیاسی چپقلشوں کی وجہ سے تر نوالہ سمجھنے لگے ہیں، جسے بھارت کی ایک ہانک سہم جانے پر مجبور کرسکتی ہے۔
یقینا ایسے حالات میں مذکورہ شعبوں میں مناسب فیصلہ سازی بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ بلاشبہ اس طرح کے جاں گسل حالات میں پاکستان نے بھارت کی مذکورہ شعبوں میں حکمتِ عملی کو صبر، تحمل،تدبّر اور ہوش مندی سے اپنے بہت کم نقصان کے ذریعے نہ صرف آوٹ کلاس کیا بلکہ اسے نہ صرف خِطّے میں بلکہ عالمی سطح پر شدید سیاسی ، عسکری اور تیکنیکی نقصان بھی پہنچایا۔
پاکستان نےاس ساری کشیدگی اور جنگ کے دوران سیاسی ، سفارتی اور حربی میدان میں جس طرح دانش مندانہ فیصلےکیے اورجس طرح عالمی برادری تک اپنی بات پہنچائی ،اس نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان ایک ذمے دار جوہری ملک ہے اور بہت موثر عسکری اور حربی صلاحیتیں رکھنے کے باوجود وہ بین الاقوامی اور عسکری امور میں افراط وتفریط کا شکار ہوکرمحض غیض و غضب میں آکر یا اپنی اندرونی سیاسی ضرورتوں کے تحت دنیا کا امن داؤ پر نہیں لگاتا۔ چناں چہ اس نے پہلے دن سے پہلگام کے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیااور اس میں مدد دینے کو تیّار نظر آیا۔
آزادی کا جشن اورجذبۂ حبّ الوطنی
کیا آج واقعی ہم میں اپنے آباو اجداد جیسا جذبۂ حبّ الوطنی ہے اور ہم ان ہی کی طرح اپنے ملک سے مخلص ہیں؟ آئیے! اس موقع پر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے بزرگ کس طرح یومِ آزادی مناتے تھے اور اٰآج جس طرح یومِ آزادی منایا جاتا ہے، اس کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں۔
میری ویدر ٹاور کے قریب بس کے انتظار میں کھڑے سجّاد احمد قریشی عمر کی ساٹھ بہاریں دیکھ چکے ہیں اور فیڈرل بی ایریا میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے لائنز ایریا میں واقع مہاجرین کی بستی میں جنم لیا تھا۔ بارہ برس کی عمر میں انہوں نے پہلی مرتبہ شعور کے ساتھ قوم کو جشنِ آزادی مناتے دیکھا۔ وہ اس دن کو بھلا نہیں پاتے۔
اُس روز ان کے اسکول میں خصوصی تقریب منعقد ہوتی تھی، جس کے لیے انہوں نے والدہ سے قومی پرچم بہ طور خاص سلوایا تھا۔ ان کے بہ قول اُس زمانے میں ہر بازار میں قومی پرچم آسانی سے دست یاب نہیں ہوتا تھا۔ بہت سے لوگ گھروں پر قومی پرچم اہتمام سے سِلواتے اور گھروں پرلگاتے تھے۔
سرسوں کے تیل سے مٹی کے دیے جلائے جاتے، محلوں کی سطح پر جلسے ہوتے، جن سے تحریکِ پاکستان کے رہنما، کارکن یا محلے کے معتبر اور باوقار لوگ دل سوزی سے خطاب کرتے اور لوگ حبّ الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر بہت انہماک سے ان کی باتیں سنتے تھے۔ لیکن پھر ملک کے حالات نے رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں میں موجود جذبۂ حبّ الوطنی کو زنگ لگانا شروع کردیا۔ 1971ء کے سانحے نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ اب انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یومِ آزادی محض قومی پرچم لہرانے اور جھنڈیاں لگانے کا نام ہے۔
اسی مقام پر انتصارالحق نامی 70 سالہ بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ ان کے والدین ستمبر 1947ء میں یوپی سے ہجرت کرکے کراچی آئےتھے۔اچھی یادداشت کے حامل ان بزرگ کے مطابق ابتداء میں ان کا خاندان برنس روڈ کے علاقے میں چند برس تک ایک عمارت میں رہائش پذیر رہا اور پھر شاہ فیصل کالونی منتقل ہوگیا۔ انہوں نے کراچی میں ہوش و حواس کے ساتھ جو پہلا یومِ آزادی منایا، اس کی تفصیلات انہیں آج بھی یاد ہیں۔
ان کے بہ قول اس وقت آزادی کے دن فجر کی نماز کے لیے اکثر مساجد میں تحریکِ پاکستان کے شہداء اور مرحوم رہنماؤں کی ارواح کو ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی ہوتی۔ بزرگ اس روز بہ طور خاص بچّوں کو اپنے ساتھ فجر کی نماز کی ادائیگی اور قرآن خوانی میں شرکت کے لیے مسجد لے جاتے تھے۔
اُس روز صبح سویرے سے چہل پہل شروع ہوجاتی، مرد اہتمام کے ساتھ، لیکن سادگی سے تیار ہوکر گھروں سے باہر نکل جاتے اور محلّےکے لوگوں اور عزیزو اقارب سے ملتے، محلّوں میں بزرگ بچّوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر اس دن کی اہمیت کے بارے میں بہت پیار اور شفقت سے باتیں بتاتے، تحریکِ پاکستان کے قصّے سنائے جاتے۔
اُس زمانے میں یومِ آزادی کے موقع پر آج کی طرح بہت بڑے بڑے جلسے نہیں ہوتے تھے۔ گھر کے بڑے، بچّوں کو جلسوں میں خاص طور سے ساتھ لے کر جاتے۔ غرض یہ کہ اُس روز ہر طرف پاکستان، تحریکِ پاکستان اور تحریک کے رہنماؤں کے بارے میں گفتگو ہوتی تھی۔ اسکولز کی اسمبلی میں اساتذہ اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے، ذہنی آزمائش کے مقابلے ہوتے اور قومی پرچم کی ساخت اور اس کی عزّت و احترام کے بارے میں بچّوں کو بتایا جاتا تھا۔
بوہرہ بازار، صدر، میں خریداری کے لیے آئے ہوئے شفیع کریم کے مطابق ان کےبعض عزیز 1947ء میں پاکستان آتے ہوئے ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے تھے، لیکن ان کے خاندان کے دیگر افراد حفاظت سے پاکستان پہنچنے میں کام یاب ہوئے۔ ان کے خاندان میں آج بھی یومِ آزادی کو بہت تکریم دی جاتی ہے۔ ان کے والد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم پائی تھی اور تحریکِ پاکستان کے والہ و شیدا تھے۔
انہوں نے اکابرینِ تحریک کی ہدایت پر مہاجرین کے بہت سے قافلوں کو حفاظت سے پاکستان پہنچنے میں مدد دی تھی۔ ان بزرگ کے مطابق انہوں نے آزادی کے بعد کے چند برسوں کو چھوڑ کر باقی تمام ایّامِ آزادی ملک میں بہ ہوش و حواس دیکھے۔ وہ اس بات پر نالاں نظر آئے کہ آج یومِ آزادی محض گانے بجانے اور سیر و تفریح کے موقع کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ان کا سوال تھا کہ کیا ہمارے بزرگوں نے گانا گاگا کر آزادی حاصل کی تھی جو آج ہم اس دن میوزیکل کنسرٹ کرتے اور گھروں اور محلے میں تیز آواز سے قومی نغمے بجا کر یہ دن مناتے ہیں؟ وہ یومِ آزادی کے موقع پر قومی پرچم کے رنگ کے علاوہ دیگر رنگوں کی جھنڈیاں چھاپنے اور انہیں لگانے کے سخت خلاف ہیں۔ اس طرح غباروں وغیرہ پر بھی قومی پرچم کی طباعت ان کے نزدیک سزا کے قابل جرم ہے کیوں کہ اس طرح قومی پرچم کی بے حرمتی ہوتی ہے۔
وہ ماضی کی طرح خلوص اور سادگی سے یہ دن منانے کے قائل ہیں۔ ان کے بہ قول پہلے قوم کی نظریں یومِ آزادی پر آزادی کے مقاصد اور ان کے حصول پر ہوتی تھیں اور آج لوگوں کی نظریں ان دونوں کے علاوہ باقی تمام امور پر ہوتی ہیں۔