کراچی (طاہر عزیز) بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ملکیت اربوں روپے مالیت کے تین قیمتی پلاٹوں کو رہائشی سے کمرشل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ،ان میں 2 ہزار مربع گز کا کلفٹن میں تین تلوار کے قریب پلاٹ نمبر 25، شیٹ نمبر FT-3 فریئر کوارٹرز، دوسراپلاٹ نمبر ST-9، بلاک 14، گلشنِ اقبال، یونیورسٹی روڈ 1161.6 مربع گز جبکہ تیسرا پلاٹ 2-B، اولڈ سبزی منڈی، عسکری پارک کے قریب 2 ہزار مربع گز شامل ہیں، کے ایم سی میں جماعت اسلامی کے اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے میونسپل کمشنر کے نام خط میں کہا ہے کہقیمتی بنگلوں کو ٹھکانے لگانے نہیں دینگے، انہوں نے خط کی کاپی ڈی جی نیب کو بھی بھجوادی ہے،ڈائریکٹر میڈیا کے ایم سی دانیال علی شان نے تصدیق کی ہے کہڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی نے پلاٹوں کو رہائشی سے کمرشل میں تبدیل کرنے کا باقاعدہ عمل شروع کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابقڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی نے 13 اگست کوڈائریکٹر جنرل،ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ،حکومتِ سندھ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ کے ایم سی کی ملکیتی جائیدادوں کو رہائشی سے کمرشل استعمال میں تبدیل کرتے ہوئے کمرشلائز کرنے کی منظوری دی جائے ۔کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر اورنائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے قیمتی بنگلوں کو مبینہ طور پر ٹھکانے لگانے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے اور میونسپل کمشنر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نام خط جس کی کاپی ڈی جی نیب کو بھی بھیجی گئی ہے قیمتی بنگلوں اور دیگر املاک کی مبینہ فروخت، لیز، منتقلی یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مالی استعمال پر شدید اعتراض کیا ہے ، انہوں نے کہا ہے کہاگر یہ اطلاعات درست ہیں تو معاملہ انتہائی سنگین ہے، کیونکہ یہ املاک عوامی اثاثے ہیں اور انہیں قانونی طریقہ کار، متعلقہ قوانین، مجاز حکام کی منظوری اور شفافیت و عوامی مفاد کے اصولوں پر عمل کیے بغیر فروخت یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔