• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج او پی ڈی میں داخل ہوتے ہوئے میری نظرایک خاتون نسیمہ پر پڑی جو آنکھوں میں خوف اور آنسو لیے حواس باختہ سی کھڑی تھی، کیا ہوا…؟ میں نے پوچھا، ڈاکٹر صاحبہ میرے بیٹے حسن کو دیکھ لیں، اس کی حالت خراب ہے، تین سالہ حسن کو پچھلے دنوں نمونیا ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے اسپتال میں داخل تھا دو دن پہلے ہی گھر گیا تھا، چھٹی کے وقت وہ ٹھیک تھا، جب میں نے کہا تھا کہ حسن گھر جاکر روزانہ انڈا کھانا تو مسکرا رہا تھا، گھر جاکر کیا احتیاطی کی، ڈاکٹرنی صاحبہ کیا نمونیے والے بچوں کو سگریٹ کا دھواں نقصان کرتا ہے؟

ہاں بالکل کرتا ہے، جب ہی ڈاکٹرنی صاحبہ جب ہم چھٹی لے کر گھر گئے تو حسن کا چاچا اس کو ملنے آیا، ہمارا چھوٹا سا گھر ہے، اس کا چاچا اس کے پاس بیٹھ کر مسلسل سگریٹ پی رہا تھا، آپ لوگوں نے کہا تھا کہ بچے کو دھول، مٹی اور دھوئیں سے بچانا، میں بار بار کہتی کہ باہر جاکر سگریٹ پیو۔

ڈاکٹر نے منع کیا ہے، پر وہ نہ مانا، کہا بھابھی کچھ نہیں ہوتا، تم وہم نہ کرو، بس سگریٹ پر سگریٹ پیتا گیا، حسن کو اس کے سامنے ہی کھانسی شروع ہوگئی، آپ کی بتائی ہوئی دوائیں تو دے رہے تھی، مگر رات تک اس کی حالت بہت خراب ہوگئی، شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری بڑھتے بڑھتے یہ نیلا سا ہونے لگا تو ہم آپ کے کلینک آگئے حسن کے آکسیجن لگی، نیبولائز کرایا، تواسے کچھ آرام آیا ہے۔

اس ساری تکلیف اور خطرے سے بچا جاسکتا تھا، لیکن لاپروائی اور آگاہی نہ ہونے کے سبب معصوم بچہ اذیت اور خطرے کا شکار ہوگیا۔نمونیا پھیپھڑوں کا انفیکشن ہوتا ہے، بچے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، پاکستان میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی مجموعی اموات میں تقریباً 16 فی صد کی وجہ نمونیا ہوتی ہے، اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 70000 سے 90000 بچے نمونیے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار دیتے ہیں۔دنیا میں پاکستان بچّوں میں نمونیے سے ہونے والی اموات کے لحاظ سے پہلے 3 ممالک میں شامل ہے۔

نمونیے کی علامات

٭ بچے کو تیز بخار ہوتا ہے، جس سےکپکپا ہٹ ہوتی ہے۔

٭ شدید بلغم والی کھانسی ہوتی ہے۔

٭ سانس تیز چلتی ہے۔ (یہ نمونیے کی بڑی نشانی ہے۔)

٭ پسلیوں کا چلنا۔ (Chest indraunig) ہوتی ہے، جس میں سانس لیتے وقت بچے کے سینے یا پسلیوں کے نیچے کی جلد اندر دھنستی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

٭ بچہ کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، الٹیاں ہوتی ہیں، جس سے نڈھال ہوجاتا ہے۔

٭ ہونٹ یا ناخن نیلے پڑ جاتے ہیں، جو آکسیجن کی کمی کی بڑی نشانی ہے، یہ خطرناک علامت ہے۔

بچوں میں نمونیے سے اموات کی کئی وجوہات ہیں، جن میں غذائی قلت اور قوت مدافعت میں کمی، حفاظتی ٹیکوں کی کمی، بہت سے والدین بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگواتے ہیں۔ موسم اور آلودگی، سردیوں کے موسم میں خصوصاً نمونیا بچوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے، اسی طرح فضائی آلودگی اور اسموگ کی وجہ سے نمونیے سے کیسز اور اموات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔علامات کی دیر سے پہچان اور اسپتال پہنچنے میں تاخیر بھی بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

حکومت پاکستان کے EPI پروگرام کے تحت نیو موکوکل ویکسین مفت لگائی جاتی ہے، حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں نمونیے سے بچائو کی نیوموکوکل کنجوگیٹ ویکسین PCV شامل ہے، یہ بچوں کو بیکٹیریل نمونیے سے محفوظ رکھتی ہے، اس کی پہلی خوراک پیدائش کے 6 ہفتے بعد، دوسری خوراک پیدائش کے 10 ہفتے بعد اور تیسری خوراک پیدائش کے 14 ہفتے بعد لگائی جاتی ہے، اس کے علاوہ سرکاری شیڈول میں شامل پینٹا ویلنٹ ویکسن (penta Vatent Vaccine) بھی نمونیا پیدا کرنے والے ایک اور جراثیم کے خلاف تحفظ دیتی ہے۔

اس کے علاوہ 6 ماہ کی عمر تک بچے کو صرف ماں کا دودھ دینا چاہیے، یہ بچے کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتا ہے اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ ایک تہائی تک کم کردیتا ہے، 6 ماہ کے بعد بچوں کو دودھ کے ساتھ غذائیت سے بھرپور نرم غذائیں جن میں وٹامن اور پروٹین شامل ہوں جیسے انڈا، دلیہ، دہی اور کیلا وغیرہ دیناچاہئیں۔

گھر کی صفائی اور حفظان صحت کاخاص خیال ضروری ہے، بچوں کو کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں اور خود بھی ہاتھ دھوئیں، بچوں کو سگریٹ اور چولہے کے دھوئیں، آلودہ دھند، اسموگ اور گردوغبار سے بچائیں، گھر کو No Smoking Zone بنائیں۔

سگریٹ کا دھواں بچوں اور بڑوں دونوں میں نمونیے کے خطرے کو بہت زیادہ بڑھا تاہے، جب کوئی شخص سگریٹ کے دھوئیں میں سانس لیتا ہے تو اسے طبی اصطلاح میں Passive smoking یا غیر فعال تمباکو نوشی کہتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباً95 فی صد بچے Passive smoking کا شکار ہوتے ہیں، دھوئیں میں موجود زہریلے کیمیکلز بچوں کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتےہیں، اس لیے پھیپھڑے جراثیم سے لڑنے کی طاقت کھو دیتے ہیں۔

جو بچے گھروں میں سگریٹ کے دھوئیں کا شکار ہوتے ہیں، ان میں نہ صرف نمونیے کا امکان زیادہ ہوتا ہے بلکہ نمونیا ہونے کی صورت میں حالت زیادہ تشویشناک ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح اگر حاملہ خواتین سگریٹ کے دھوئیں والے ماحول میں رہیں تو بچوں کے پھیپھڑے پیدائشی طور پر کمزور اور چھوٹے رہ جاتے ہیں اور ان میں نمونیے اور پھیپھڑوں کی دیگر بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

جہاں تک علاج کا تعلق ہے تو یہ بیماری کی نوعیت پر ہوتا ہے، یعنی بیکٹریل یا وائرل انفیکشن اور بیماری کی شدت پر ہوتا ہے، جو ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں کہ کون سی اینٹی بایوٹک اور دوا دی جائے گی اور کتنے دن تک دی جائے گی، پھول جیسے بچوں کی حفاظت کریں، یہ ہمارا مستقبل ہیں۔

صحت سے مزید