• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذہنی صحت: ایک خاموش بحران، خاموشی میں طوفان

صحت، صرف بیماری نہ ہونے کا نام نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق’’ ذہنی صحت‘‘ بھی مجموعی صحت کا بنیادی حصّہ ہے۔ ایک صحت مند انسان وہ ہے، جو زندگی کے معمول کے دباؤ کا مقابلہ کر سکے، اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکے، سیکھ سکے، کام کر سکے اور اپنے خاندان اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔

اسی لیے جسمانی اور ذہنی صحت کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔بدقسمتی سے پاکستان میں کئی دہائیوں تک صحتِ عامہ کی ترجیحات میں ذہنی صحت کو وہ مقام نہیں مل سکا، جو اسے ملنا چاہیے تھا۔ ماں اور بچّے کی صحت، متعدی امراض اور دیگر طبّی مسائل کے مقابلے میں ذہنی صحت کو اکثر ثانوی مسئلہ سمجھا گیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ذہنی بیماریوں میں مبتلا افراد کی ایک بڑی تعداد یا تو علاج تک پہنچ ہی نہیں پاتی یا بہت تاخیر سے پہنچتی ہے۔ غربت، بے روزگاری، منہگائی، گھریلو مسائل، تشدّد، تعلیمی دباؤ، نشہ آور اشیاء، قدرتی آفات اور معاشرتی تنہائی نے اس مسئلے کو مزید پےچیدہ بنا دیا ہے۔

ہر سال دنیا بھر میں 10 اکتوبر کو’’ذہنی صحت کا عالمی یوم ‘‘کسی نہ کسی تھیم کے تحت منا یا جاتا ہے۔ اس سال کاتھیم’’ Lived experiences heard: Real voices, Real change‘‘ ایک اہم پیغام کو مدِنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے ۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے خود ذہنی بیماری، نفسیاتی صدمے یا ذہنی صحت کے نظام کی مشکلات کا سامنا کیا ہے، ان کے تجربات سنےجائیں اور ان کی آواز کو پالیسی، خدمات اور فیصلوں کا حصّہ بنایا جائے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن (WHO) کے مطابق صرف مریضوں کی کہانیاں سن لینا کافی نہیں بلکہ انہیں خدمات کی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور جائزے میں حقیقی شراکت دینی چاہیے۔ پاکستان کے لیے یہ پیغام خاص اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ یہاں ذہنی امراض کے ساتھ سماجی بدنامی، شرمندگی، غلط تصّورات اور علاج میں تاخیر عام مسائل ہیں۔ اگر واقعی ذہنی صحت کو قومی تر جیحات میں شامل کرنا ہے ، تو ہمیں اسپتالوں سے نکل کر کمیونٹیز، خاندانوں، اسکولز، دفاتر اور بنیادی صحت کے مراکز تک پہنچنا ہوگا۔

پاکستان میں ذہنی امراض کا بوجھ

پاکستان کی آبادی تقریباً 25کروڑ ہو چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان ڈیٹا پروفائل میں 2023ء کی آبادی تقریباً 24 کروڑ 75 لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس بڑی آبادی میں ذہنی امراض کا اصل حجم جاننا، اس لیے مشکل ہے کہ ملک میں ذہنی صحت سے متعلق باقاعدہ، مسلسل اور جامع قومی نگرانی کا نظام پوری طرح مضبوط نہیں۔ مختلف مطالعات میں ذہنی امراض کی شرح کے مختلف اعداد وشمار سامنے آتے ہیں اور انہیں ایک ہی حتمی قومی شرح سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

اس کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ ڈیپریشن (Depression)، اضطراب یا بے چینی (Anxiety Disorders)، بائی پولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder)، شیزو فرینیا (Schizophrenia)، مرگی سے متعلق ذہنی و اعصابی مسائل، نشہ آور اشیاء پر انحصار (Substance Use Disorders) اور دیگر ذہنی اختلالات پاکستان میں ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان سے متعلق ایک سابقہ جائزے میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد کو نفسیاتی مدد کی ضرورت کا اندازہ لگایا گیا تھا، جب کہ ملک میں سائیکاٹرسٹ کی دست یابی کم رہی ہے۔

حالاں کہ ذہنی امراض کا اثر صرف مریض تک محدود نہیں رہتا، ایک فرد کے بیمار ہونے سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ 2020ء میں پاکستان میں ذہنی امراض کے معاشی بوجھ سے متعلق ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس بوجھ کا تخمینہ تقریباً 616.9 ارب روپے لگایا تھا، اگرچہ یہ ایک ماڈل پر مبنی تخمینہ تھا، براہِ راست قومی اکاؤنٹنگ کا عدد نہیں۔

خواتین، نوجوانوں، بچّوں، بزرگوں، معذور افراد، بے گھر افراد، قدرتی آفات سے متاثرہ آبادی، تشدّد کا سامنا کرنے اور نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے افراد کو خاص توجّہ کی ضرورت ہے۔ خواتین میں ذہنی صحت کے مسائل پر سماجی اور معاشی عوامل کا اثر نمایاں ہو سکتا ہے، خصوصاً گھریلو تشدّد، معاشی انحصار، تولیدی صحت کے مسائل، حمل اور بچّے کی پیدائش کے بعد کا عرصہ۔اسی طرح نوجوان نسل بھی ایک اہم گروہ ہے۔

امتحانات، مستقبل سے متعلق بے یقینی، روزگار کے محدود مواقع، خاندانی توقعات، سوشل میڈیا کا دباؤ، جسمانی شکل ساخت کے حوالے سے احساسِ کم تری، تنہائی اور نیند کی خرابی جیسے عوامل نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر کر سکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 10 سے 19 سال کی عمر کا تقریباً ہر سات میں سے ایک فرد کسی ذہنی بیماری کا سامنا کرتا ہے اور بہت سے مسائل کی ابتدا کم عمری ہی میں ہو جاتی ہے۔

علاج کاخلا اور کم زور نظام

ویسے تو دنیا بھر میں ذہنی صحت کی ضرورت اور دست یاب خدمات کے درمیان بڑا خلا موجود ہے، لیکن پاکستان جیسے ممالک میں یہ مسئلہ وسائل کی کمی اور ماہرین کی محدود تعداد کے باعث مزید سنگین ہو جاتا ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے علاقائی جائزوں میں مشرقی بحیرۂ روم کے بعض ممالک میں علاج کا خلا 90 فی صد تک پہنچنے کی نشان دہی کی گئی ہے، اس لیے پاکستان کے لیے ایک مخصوص 85 یا 90 فی صد شرح کو قطعی قومی عدد قرار دینے کے بجائے، علاج کے شدید خلاکو تسلیم کرنا زیادہ سائنسی رویّہ ہے۔

ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ماہرینِ نفسیات کی تعداد آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ دست یاب اعداد وشمار کے مطابق ملک میں تقریباً 0.19 سائیکاٹرسٹ فی ایک لاکھ آبادی کے تناسب کی نشان دہی کی گئی ہے، جوآبادی کے لحاظ سے انتہائی کم شرح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کروڑوں کی آبادی کے لیے دست یاب ماہرین کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ایک اور اہم مسئلہ ماہرین کی جغرافیائی تقسیم ہے۔

 بڑے شہروں میں سائیکاٹرسٹ، کلینیکل سائیکالوجسٹ اور نجی مشاورتی مراکز نسبتاً زیادہ ہیں، جب کہ دیہی علاقوں اور دور دراز اضلاع میں صورت حال مختلف ہے۔ وہاں مریض کو اکثر پہلے کئی گھنٹے یا پورا دن سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد بھی ممکن ہے کہ مطلوبہ ماہر یا دوا نہ مل سکے۔یہ صورتِ حال ذہنی صحت کو صرف ایک بڑے اسپتال کا مسئلہ سمجھنے کی غلطی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔

اگر ہر مریض کو لازماً بڑے شہر کے سائیکاٹری اسپتال تک پہنچنا پڑے تو پاکستان جیسے ملک میں یہ نظام کبھی بھی تمام ضرورت مند افراد تک نہیں پہنچ سکتا۔اسی لیے مستقبل کا حل کمیونٹی پر مبنی ذہنی صحت (Community Mental Health) میں ہے، جس میں بنیادی صحت کے مراکز، ضلعی اسپتال، کمیونٹیز ہیلتھ ورکرز، اسکولز، خاندانوں اور ڈیجیٹل سہولتیں ایک مربوط نظام کے طور پر کام کریں۔

ذہنی صحت کے سماجی اور معاشی عوامل

ذہنی مرض کو صرف دماغ میں پیدا ہونے والی کیمیائی تبدیلی کا نتیجہ سمجھنا، مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ ذہنی صحت پر انسان کے گھر، کام، معاشی حالات، سماجی تعلقات، ماحول اور زندگی کے تجربات گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت بھی غربت، تشدّد، عدم مساوات اور مشکل حالات کو ذہنی مرض کے اہم خطراتی عوامل میں شمار کرتا ہے۔

پاکستان میں منہگائی اور معاشی عدم تحفّظ نے لاکھوں خاندانوں کی زندگی مشکل بنادی ہے، جب والدین بچّوں کی خوراک، تعلیم، علاج اور رہائش کے اخراجات پورے کرنے سے متعلق مسلسل فکر مند ہوں تو ذہنی دباؤ بڑھنا فطری بات ہے۔ بے روزگاری اور روزگار کا غیر یقینی مستقبل نوجوانوں میں اضطراب، مایوسی پیدا کر سکتا ہے۔

گھریلو تشدّد بھی ذہنی صحت کا اہم مسئلہ ہے۔ مسلسل خوف، توہین، جسمانی تشدّد یا معاشی دباؤ کا سامنا کرنے والے افراد میں ڈیپریشن، اینگزائٹی اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں، پھر شہری زندگی کے مسائل بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں طویل ٹریفک جام، فضائی آلودگی، شور، رہائشی مسائل، سبز مقامات کی کمی اور مسلسل وقت کا دباؤ شہریوں کی ذہنی کیفیت متاثر کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف دیہی علاقوں میں غربت، صحت کی محدود سہولیتیں، روزگار کے مسائل اور ماہرین تک کم رسائی ایک مختلف نوعیت کا دباؤ پیدا کرتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی بھی ذہنی صحت کے نئے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ سیلاب، ہیٹ ویو، خشک سالی، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کے نتیجے میں گھر، روزگار، مویشی اور معاشی وسائل ختم ہونے سے متاثرہ افراد طویل عرصے تک ذہنی صدمے، اینگزائٹی اور ڈیپریشن کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اس لیے آفات سے نمٹنے کے منصوبوں میں Mental Health and Psychosocial Support کو بھی بنیادی حصّہ بنانا ضروری ہے۔

سماجی بدنامی: علاج کی راہ میں بڑی رکاوٹ

پاکستان میں ذہنی صحت کے ضمن میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک سماجی بدنامی (Stigma) ہے۔ بہت سے خاندان آج بھی ذہنی بیماری کو بیماری کے بجائے کردار کی کم زوری، ایمان کی کمی، پاگل پن یا کسی غیر مرئی روحانی اثر سے جوڑتے ہیں۔ روحانی اور مذہبی مدد اپنی جگہ بہت سے لوگوں کے لیے جذباتی سہارا بن سکتی ہے، لیکن جب کسی فرد میں واضح طبّی علامات موجود ہوں تو مستند طبّی تشخیص اور علاج میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب مریض کو ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات تک پہنچانے کے بجائے صرف غیر سائنسی علاج پر چھوڑ دیا جائے۔ کچھ غیر ذمّے دار افراد ذہنی بیماری کا فائدہ اٹھا کر مریضوں اور خاندانوں کا استحصال بھی کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر مریضوں کو زنجیروں سے باندھنے، تشدّد کرنے یا الگ تھلگ رکھنے جیسے غیر انسانی طریقوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

ذہنی بیماری کسی انسان کی عزت، آزادی اور بنیادی حقوق ختم نہیں کرتی، اس لیے آگاہی مہم کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں ہونا چاہیے کہ ذہنی بیماری ہے بلکہ یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ ذہنی بیماری قابلِ علاج ہے اور مریض قابلِ احترام ہے۔یہاں میڈیا، علماء، اساتذہ، ڈاکٹرز، کمیونٹی رہنما اور صحت یاب ہونے والے افراد اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

قانون، پالیسی اور عملی خلا

پاکستان میں ذہنی صحت کے قانون کا سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ برطانوی دور کا Lunacy Act 1912 طویل عرصے تک نافذ رہا۔ بعد ازاں Mental Health Ordinance 2001 کے ذریعے مریضوں کے حقوق، علاج اور قانونی تحفّظ کے حوالے سے ایک جدید فریم ورک متعارف ہوا۔ عالمی ادارۂ صحت کے Mental Health Atlas میں بھی پاکستان کے 2001ء کے قانون کا حوالہ موجود ہے۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کے شعبے میں صوبوں کا کرداربڑھ گیا اور صوبائی سطح پر ذہنی صحت کے قوانین اور ادارہ جاتی ڈھانچے تشکیل پانے لگے۔ سندھ میں Sindh Mental Health Act 2013 نافذ کیا گیا، جس کے تحت سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا۔ اس اتھارٹی کے فرائض میں ذہنی صحت کے فروغ، معیارات کی تشکیل، کمیونٹی پر مبنی خدمات، ری ہیبیلیٹیشن، ہیلپ لائنز، کرائسز سینٹرز ، آگاہی اور تربیت سمیت متعدد ذمّےداریاں شامل ہیں۔

 قانون سازی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم، لیکن اصل سوال عمل درآمد کا ہےکہ قانون اس وقت مؤثر ہوتا ہے، جب اس کے لیے مناسب بجٹ، تربیت یافتہ عملہ، نگرانی، رجسٹریشن، شکایات کے ازالے اور جواب دہی کا نظام موجود ہو۔ خصوصاً نجی ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز اور ذہنی صحت کی سہولیات کی نگرانی ایک اہم شعبہ ہے۔ ہر ایسے مرکز میں مریض کی عزت، رازداری، مناسب علاج، تربیت یافتہ عملےکی موجودگی اور انسانی حقوق کی حفاظت یقینی ہونی چاہیے۔

بنیادی نظامِ صحت میں ذہنی صحت کا انضمام

پاکستان میں ذہنی صحت کے مستقبل کی سب سے اہم ضرورت اسے پرائمری ہیلتھ کیئر یعنی بنیادی صحت کے نظام میں شامل کرنا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا mhGAP یعنی Mental Health Gap Action Programme اسی تصور کو فروغ دیتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ غیر ماہر طبّی عملے کو مخصوص ذہنی امراض کی شناخت اور ابتدائی انتظام کی تربیت دی جائے ،تاکہ محدود تعداد میں موجود ماہرین پر پورا بوجھ نہ رہے۔ پاکستان میں BHU،RHC، ڈسپنسری، تحصیل اور ضلعی اسپتال پہلے سے موجود صحت کے ڈھانچے کا حصّہ ہیں۔

اگر ان مراکز کے میڈیکل آفیسرز، نرسز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کو بنیادی مینٹل ہیلتھ اسکریننگ، ابتدائی کاؤنسلنگ اور ریفرل کی تربیت دی جائے تو خدمات کی رسائی بہت بڑھ سکتی ہے۔ کمیونٹی میں موجود لیڈی ہیلتھ ورکرزبھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وہ گھر گھر جاتی، خواتین اور خاندانوں کے ساتھ رابطہ رکھتی اور مقامی حالات سمجھتی ہیں۔

انہیں تشخیص کا متبادل نہیں کہاجا سکتا، لیکن وہ خطرے کی ابتدائی علامات پہچاننے، آگاہی دینے، مریض کو مناسب مرکز تک پہنچانے اور فالو اَپ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پے چیدہ مریضوں کو ضلعی یا تخصصی مراکز میں ریفر کیا جائے، جب کہ مستحکم مریضوں کی مسلسل دیکھ بھال مقامی سطح پر ممکن بنائی جائے۔ اس طرح ذہنی صحت ایک مرکز میں بند خدمت کے بجائے مسلسل کمیونٹی کیئر بن سکتی ہے۔

بچّوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت

ذہنی صحت کے قومی پروگرامز میں بچّوں اور نوجوانوں کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ بہت سے ذہنی مسائل زندگی کے ابتدائی برسوں میں شروع ہو جاتے ہیں، مگر انہیں اکثر تعلیم، تربیت یا کردار کا مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔اسکولز میں مسلسل خاموشی، اچانک تعلیمی کارکردگی میں کمی، دوستوں سے دُوری، شدید خوف، نیند یا کھانے کے معمول میں نمایاں تبدیلی، مسلسل اداسی یا غصہ ایسے اشارے ہو سکتے ہیں، جن پر توجّہ ضروری ہے۔

ہر تبدیلی بیماری نہیں ہوتی، لیکن مسلسل اور شدید علامات کی صورت میں تربیت یافتہ ماہر سے رابطہ لازماً کرنا چاہیے۔ اسکولز اور کالجز میں کاؤنسلنگ سروسز، سائیکولوجیکل فرسٹ ایڈ Bullying Prevention اور اسٹریس مینجمنٹ کو صحت کے معمول کے پروگرام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے الگ بڑے اسپتال بنانے کے بجائے موجودہ تعلیم اور صحت کے نظام کو بہتر طریقے سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔

والدین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ بچّے کی ہر پریشانی کو ’’کم زوری‘‘ یا ’’بہانہ ‘‘ قرار دینا مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔ والدین اگر بچّے کی بات تو جہ سے سنیں، فوری فیصلہ سنانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کریں اور ضرورت پڑنے پر ماہر سے مدد لیں تو ابتدائی مرحلے میں بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

طبّی عملے کی ذہنی صحت

ذہنی صحت کا نظام بنانے والوں کی اپنی ذہنی صحت بھی نظر انداز نہیں کیاجا سکتی۔ ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف، ایمبولینس ورکرز اور دیگر صحت کے کارکن روزانہ بیماری، موت، حادثات، تشدّد اور مریضوں کے شدید دکُھ کا سامنا کرتے ہیں۔

طویل ڈیوٹی، کم عملہ، مسلسل ہنگامی حالات، کام کا دباؤ، مریضوں کے لواحقین کی ناراضی اور بعض اوقات تشدّد کے واقعا ت ہیلتھ ورکرز میں برن آؤٹ، اینگزائٹی اور ڈیپریشن کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

اس لیے اسپتالوں میں ملازمین کی ذہنی صحت کے لیے رازدارانہ کاؤنسلنگ مناسب Duty Hours، Peer Support اور سائیکو لو جیکل فرسٹ ایڈ جیسے پروگرامز ضروری ہیں۔ ایک تھکا ہوا اور ذہنی دباؤ کا شکار طبّی کارکن خود بھی مدد کا مستحق ہے۔

نشہ آور اشیاء اور ذہنی صحت

پاکستان میں نوجوانوں میں مختلف نشہ آور اشیاء کے استعمال کا مسئلہ بھی ذہنی صحت کے نظام سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ Methamphetamine یا آئس، ہیروئن، بھنگ اور بعض تجویز کردہ ادویہ کا غلط استعمال فرد کی جسمانی وذہنی صحت متاثر کر سکتا ہے۔

نشہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں، یہ ایک طبّی، نفسیاتی اور سماجی مسئلہ بھی ہے۔ Substance Use Disorder کے شکار فرد کو صرف سزا دینا کافی نہیں۔ اسےکاؤنسلنگ تشخیص،علاج ، بحائی صحت اور دوبارہ معاشرے میں بحالی کی ضرورت ہوتی ہے ۔

ڈیجیٹل ذہنی صحت کے نئے امکانات

پاکستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے پھیلاؤ نے ذہنی صحت کی خدمات کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ ٹیلی مینٹل ہیلتھ، آن لائن کاؤنسلنگ، فون پر سائیکولوجیکل سپورٹ اور ڈیجیٹل سیلف ہیلپ مواد دُور دراز علاقوں میں ابتدائی مدد فراہم کر سکتے ہیں، تاہم ڈیجیٹل سہولت کو مکمل علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

شدید ڈیپریشن، سائیکوسس، بائی پولر ڈس آرڈر خودکشی کے خطرے یا نشہ آور اشیاء پر شدید انحصار جیسے حالات میں باقاعدہ طبّی تشخیص اور مناسب ریفرل ضروری ہے۔ نیز، ڈیجیٹل نظام میں مریض کی رازداری، معلومات کا تحفّظ، ماہرین کی رجسٹریشن اور خدمات کے معیار کی نگرانی بھی ضروری ہے۔

کمیونٹی ذہنی صحت، مستقبل کا راستہ

پاکستان جیسے وسیع اور آبادی کے لحاظ سے بڑے ملک میں ذہنی صحت کا مستقبل صرف بڑے نفسیاتی اسپتالوں میں نہیں بلکہ کمیونٹی میں ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام درکار ہے، جس میں مریض اپنے گھر اور معاشرے سے مکمل طور پر کٹنے کے بجائے جہاں ممکن ہو، علاج اور مدد حاصل کر سکے۔ کمیونٹی مینٹل ہیلتھ کا مطلب یہ نہیں کہ ماہرین کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

اس کا مطلب ہے کہ ماہرین کی محدود تعداد زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کی جائے۔ اسی نظام میں ساتھیوں کا تعاون(Peer Support) بھی اہم کردار ادا کر سکتاہے۔ جو افراد علاج کے بعد بہتر زندگی گزار رہے ہیں، وہ دوسروں کو اُمید، حوصلہ اور عملی رہنمائی دے سکتے ہیں، مگر Peer Support کو باقاعدہ تربیت، نگرانی اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ منظّم کرنا ضروری ہے۔

ذہنی صحت کو قومی ترجیح بنانا ہوگا

ایک ایسا معاشرہ، جس میں لاکھوں افراد اینگزائٹی، ڈیپریشن شدید ذہنی امراض، نشے کی علت یا نفسیاتی صدمات کا سامنا کر رہے ہوں، وہ اپنی انسانی صلاحیتوں کو مکمل استعمال نہیں کر سکتا۔ ہمیں ذہنی صحت کو بیماری کے آخری مرحلے پر پہنچنے کے بعد علاج کرنے کے بجائے ابتدا ہی سے صحت ِعامّہ کا حصہ بنانا ہوگا۔ گھروں،ا سکولز، کالجز، دفاتر، کمیونٹیز، BHU،RHC، ضلعی اسپتال اور تخصصی مراکز ایک مربوط نظام کا حصّہ ہوں۔

اس مقصد کے لیے ہمیں ماہرین کی تعداد بڑھانے، بنیادی صحت میں ذہنی صحت شامل کرنے، ضروری ادویہ کی دست یابی، ٹیلی مینٹل ہیلتھ، ری ہیبیلیٹیشن ،ڈیٹاسسٹمز اور مینٹل ہیلپ لائنز کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ سب سے بڑھ کر سماجی رویّوںمیں تبدیلی لانی ہوگی۔

کسی ذہنی و نفسیاتی مرض میں مبتلا فرد کو ’’پاگل‘‘ کہہ کر الگ کردینا مسئلے کا حل نہیں، اُسے مریض سمجھنا، اُس کی بات سننا، طبّی علاج تک پہنچانا اور خاندان کو سہارا دینا ہی ایک مہذّب اور صحت مند معاشرے کی پہچان ہے۔

ذہنی صحت 2026ء کے عالمی یوم کا پیغام ہی بنیادی اصول سامنے لاتا ہے کہ حقیقی تجربات کو صرف سننا نہیں، بلکہ انہیں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنانا ہے۔ مریض، صحت یاب ہونے والے افراد، خاندان اور نگہہ داشت کرنے والے افراد ذہنی صحت کے نظام کے صرف صارف نہیں بلکہ اس کی بہتری کے اہم شراکت دار ہیں۔

پاکستان کو اب ذہنی صحت کے ضمن میں خاموشی، شرمندگی اور تاخیر کے کلچر سے نکل کر آگاہی، بروقت علاج، انسانی حقوق اور کمیونٹی کی بنیاد پر خدمات کی طرف بڑھنا ہوگا، کیوںکہ صحت کا تصّور اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا، جب تک اُس میں انسان کے ذہن، جذبات اور سماجی زندگی کو برابر اہمیت نہ دی جائے۔

یہی وقت ہے کہ ذہنی صحت کو صحت کے نظام کے حاشیے سے نکال کر قومی صحت پالیسی کے مرکز میں لایا جائے، کیوں کہ صحت مند جسم کے ساتھ صحت مند ذہن ہی ایک مضبوط فرد، خاندان اور مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔

(مضمون نگار ،پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت سندھ ہیں )

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید