میٹھی اشیاء یا کاربو ہائیڈریٹس ہمیشہ سے ہماری غذا کا ایک اہم حصّہ ہیں، جب کہ ہمارے یہاں تو کھانے کے بعد میٹھے کا استعمال باقاعدہ تہذیب وروایت میں شامل ہے، لیکن موجودہ دَور میں نت نئے میٹھے اور پرو سیسڈ چینی کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔
یہ اب صرف ایک انفرادی بد پرہیزی نہیں رہی بلکہ ایک خاموش، بھیانک اور جگر سوز معاشرتی و طبّی بحران کی شکل اختیار کر تی جارہی ہے۔ ہم اکثر زندگی میں یہ بنیادی حقیقت بھول جاتے ہیں کہ ہر میٹھی چیز کے پسِ پردہ ایک کڑوی سائنسی حقیقت بھی چھپی ہے۔
زبان کی حسِ ذائقہ کو محض چند سیکنڈز کی لذّت فراہم کرنے والی مصنوعی اور پروسیسڈ چینی، جب ہمارے منہ اور دانتوں کی نازک سطح سے ٹکراتی ہے، تو وہ مستقبل کے ایک ایسے طویل اور رُوح فرسا درد کی بنیاد رکھ رہی ہوتی ہے، جو آگے چل کر انسان کے لیے سخت اذیت کا باعث بن سکتی ہے۔
ہم عام طور پرمنہ کی صحت (Oral Health) کو ثانوی، غیر اہم اور معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جب کہ جسم کے دیگر اعضاء مثلاً دل، گردوں یا جگر کی بیماریوں پر فوری توجہ دی جاتی ہے۔
ہم غالباًمنہ اور دانتوں کی صحت کو صحت کا حصّہ ہی نہیں مانتے، حالاں کہ جدید طبّی سائنس کے بنیادی اُصولوں کے مطابق منہ پورے انسانی جسم کی صحت کامرکز اور بیماری کا پہلا دروازہ ہے۔
دانت نکلوانا یا منہ کی صفائی کروانا کوئی سادہ علاج نہیں ہے، یہ ایک انتہائی وسیع، پیچیدہ اور تخصیصی (Specialized) طبّی سائنس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام معیاری اور بڑے اسپتالوں میں ڈینٹیسٹری کے، عام طبّی شعبوں سے الگ اور تخصیصی آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس (OPDs) قائم کیے جاتے ہیں، جو بنیادی طور پر پانچ اہم سائنسی شعبوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔
٭پیری ڈونٹکس (Periodontics): مسوڑھوں، جڑوں اور دانت کو تھامنے والی ہڈیوں کی بیماریوں کا تخصیصی علاج۔
٭آپریٹو ڈینٹیسٹری اینڈ اینڈوڈونٹکس(Operative Dentistry Endodontics): دانتوں کی فِلنگ، کیویٹیز کی مرمّت اور دانتوں کو بچانے کے لیے روٹ کینال تھراپی۔
٭اورل اینڈ میکسیلو فیشل سرجری( Oral Maxillofacial Surgery): منہ، جبڑے، چہرے کی جراحی، پیچیدہ دانت نکالنے اور حادثاتی چوٹوں کا علاج۔
٭آرتھوڈونٹکس (Orthodontics): ٹیڑھے میڑھے اور آگے پیچھے دانتوں کی بریسز (Braces) اور الائنرز کے ذریعے درست ترتیب۔
٭پروستھوڈونٹکس (Prosthodontics): ضائع شدہ دانتوں کی جگہ مصنوعی دانت (Dentures)، کراؤن، برج اور ایمپلانٹس لگانا۔
ایک ڈینٹل کلینک کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک تین سالہ بچہ لایا گیا۔ اس کی ناتواں آنکھوں میں ایک ان جانا خوف جھلک رہا تھا اور وہ اپنے سرخ رخسار پر ننھا سا ہاتھ رکھے شدید درد، چبھن اور بے قراری کے باعث زار و قطار رورہا تھا۔ اتنی کم عمری میں دانتوں کا شدید انفیکشن، کیریز (دانتوں میں کیڑا لگنے)، مسوڑھوں کی سوزش اور ٹھنڈا گرم لگنے کی شکایت تھی، جب ہم نے بچّے کے منہ کا بغور طبّی معاینہ کرنے کے بعد والدین سے اس کے روزمرہ کے کھانے پینے، ناشتے اور رات کی خوراک کے حوالے سے ہسٹری لی، تو معلوم ہوا کہ بچّے کو رات کو سوتے وقت میٹھا دودھ یاٹیٹرا پیک جوس فیڈر میں پینے کی عادت ہے، جسے طبّی زبان میں’’بی بی بوتل ٹوتھ ڈیکے‘‘ (Baby Bottle Tooth Decay) کہا جاتا ہے۔
رات بھر دانتوں پر دودھ کی چینی جمی رہنے اور پھر دن میں کئی مرتبہ مشروبات، ٹافیاں اور چاکلیٹس کھانے کے باعث اس کے نازک اور نوخیز دانتوں پر تیزابیت کا ایک حملہ مسلسل جاری تھا۔ والدین کے لیے یہ بات انتہائی تشویشناک ہونی چاہیے کہ جسے وہ بچے کے ساتھ اپنا بے پناہ لاڈ پیار یا اس کا دل بہلانے کا ذریعہ سمجھ رہے تھے، وہ دراصل اس معصوم کے دانتوں کی صحت خراب ہونے کی اہم وجہ تھی۔
عمومی طور پر اکثر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ دانت منہ کے اندر موجود محض ایک سخت، بے حس اور پتھر نما ہڈی کا ٹکڑا ہے، جس کا کام صرف کھانا چبانا ہے، حالاں کہ سائنسی اور عضویاتی اعتبار سے دانت ایک پیچیدہ، حسّاس اور اعصابی نظام سے منسلک عضویاتی ساخت ہے۔ چاہے بڑوں کے 32مستقل دانت ہوں یا بچّوں کے 20دودھ کے (پرائمری) دانت، ہر دانت بنیادی طور پر تین اہم تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
اینامل (Enamel): یہ دانت کی سب سے باہر کی سخت، چمک دار اور شفّاف حفاظتی تہہ ہوتی ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ انسانی جسم کا سخت ترین مادّہ ہے، جو اندرونی نازک حصّوں کو بیرونی دباؤ اور جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔
ڈینٹین (Dentin): اینامل کے بالکل نیچے موجود درمیانی زردی مائل تہہ، جو کئی باریک نالیوں (Dentinal Tubules) پر مشتمل ہوتی ہے اور جب اینامل گھس جاتا ہے تو یہی تہہ ٹھنڈا، گرم یا میٹھا لگنے کا احساس پیدا کرتی ہے۔
پَلپ (Pulp): یہ دانت کی سب سے اندرونی، نرم اور حساس ترین تہہ ہے، اس میں خون کی باریک نالیاں (Blood Vessels) اور اعصاب کا ایک پورا جال بچھا ہوتا ہے جو دانت کو غذائیت فراہم کرتا ہے۔
بچّوں کے دودھ کے دانتوں میں اینامل اور ڈینٹین بڑوں کے دانتوں کے مقابلے میں کافی نازک، خام اور باریک ہوتی ہے، جب کہ ان کا پلپ بڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تین سے چار سال کے بچّوں کو دن میں متعدد بار میٹھی اشیاء دی جائیں گی، تو ان کا نازک اینامل منٹوں میں گھل کر پگھلنا شروع ہو جائے گا اور پھر بیکٹیریا بڑی تیزی سے اینامل اور ڈینٹین کو پار کر کے دانت کے مرکزی زون ،Pulpتک پہنچ جاتے ہیں، نتیجتاً سوزش، درد اور پیپ والا انفیکشن (Pulpitis) پیدا کر تے ہیں۔
(مضمون نگار ،سندھ میڈیکل فیکلٹی سے سند یافتہ ڈینٹل ہائی جینیسٹ ہیں اور اِن دنوں کلینیکل پریکٹس کررہی ہیں)