• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی:قومی ادارہ صحت اطفال کے نیونٹل آئی سی یو میں آتشزدگی کے خطرات کا انکشاف

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

کراچی کے قومی ادارہ صحت اطفال میں کیے گیے فائر سیفٹی آڈٹ میں متعدد خطرناک خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) کی چوتھی، پانچویں اور چھٹی منزلیں انتہائی خطرناک ہیں اور نیونٹل آئی سی یو میں بجلی اور آکسیجن کے پوائنٹس انتہائی قریب نصب ہیں اور آکسیجن لائن میں لیکیج، پائپ کے جوڑوں پر ٹیپ لگا کر کام چلایا جا رہا ہے۔

فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کھلی اور غیر محفوظ بجلی کی وائرنگ فائر سیفٹی رسک ہیں۔

اسپتال کا فائر الارم سسٹم بھی غیر فعال ہے اور فائر ایکسٹنگوئشرز کی تعداد ناکافی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسپتال کے عملے کو فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کی تربیت بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی باقاعدہ فائر ڈرلز کی جاتی ہیں۔

فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے اسپتال کے ایمرجنسی ایگزٹس مختلف قسم کے سامان اور کچرے کی وجہ سے بند ہیں دوسری جانب اسپتال کے پاور روم میں عوام کی آسان رسائی ہے، یہاں اسموک ڈیٹیکٹر اور مناسب فائر فائٹنگ انتظامات موجود نہیں ہیں۔

این آئی سی ایچ کی فائرسیفٹی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیونٹل آئی سی یو کا مکینیکل وینٹی لیشن سسٹم  غیر فعال ہے اور پرانے اے سی یونٹس کی کھلی اور عارضی وائرنگ واضح ہے۔

فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ بجلی، آکسیجن اور وینٹی لیشن سسٹم فوری محفوظ بنایا جائے، اسپتال کا فائر الارم اور اسموک ڈیٹیکشن سسٹم فوری فعال کیا جائے اور ایمرجنسی ایگزٹس سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں اور فائر ڈرلز کرائی جائیں۔

صحت سے مزید