• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی محرومی اور سماجی منافقت کا دل دہلا دینے والا نوحہ 

(شہزاد نیر)

کچھ نہیں گھر میں مرے کچھ بھی نہیں

کوئی کپڑا کہ حرارت کو بدن میں رکھتا

لقمۂ نانِ جویں، خون کو دھکا دیتا

من کو گرماتا سکوں، تن سے لپٹتا بستر

کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں

……٭٭٭٭……

رات کو جسم سے چپکاتی ہوئی سرد ھوا

جسم کے بند مساموں میں اُترتی ٹھنڈک

سنگِ مرمر سی ہوئیں خون ترستی پوریں

ہاتھ لرزاں تھے، اُمیدوں نے مگر تھام لیا

پاؤں چلتے ہی رہے شہر ِخموشاں کی طرف

……٭٭٭٭……

پردۂ خاک میں لپٹے ہوئے بے جان وجود

باعث ننگ زمیں یوں مگر اک بات بتا

جسم مٹی ہو تو کپڑوں کی ضرورت کیا ہے؟

دیکھ پیوند ِ زمیں ! میرے تن ِ عریاں پر

داغ ِ افلاس کا پیوند ۔۔اجازت دے دے

مر کے، مرتے ہوئے انسان کو زندہ کر دے

ایک ملبوس کمانے کی اجازت دے دے

ورنہ بھوکی ہے بہت خاک، کہاں دیکھے گی

جسم کھا جائے گی، پوشاک کہاں دیکھے گی

تسنیم مرزا

 چلو اک کام کرتے ہیں 

جو جیون جا چکا ہے وہ

واپس آ نہیں سکتا

اُسے بس یاد کرتے ہیں

اُسے بس زندگی کے

نام کرتے ہیں

وہ سارے دن جو اپنے تھے

وہ سارے لوگ جگنو سے

جو راتوں میں چمکتے تھے

وہ تھے سب ساتھ

اور لگتا تھا ہونگے

نہ جدا ہم سے

مگر جب وقتِ رخصت آگیا

وہ کر گئے ہجرت

وہ ایسے چل دیے جیسے

نہ ہم سے کوئی ناتا ہو

وہ اک انجان سا رستہ

وہ بس انجان سی منزل

جو اس پر چل دیے واپس

کبھی وہ آ نہیں سکتے

چلو اک کام کرتے ہیں

وہ لمحے ڈھونڈ کے لاتے ہیں

جو کہ سنگ تھے اُن کے

ہماری زندگی کا تھے

وہ عنواں یاد کرتے ہیں

چلو اک کام کرتے ہیں