ڈاکٹر غلام مصطفی خاں صاحب کا نام تو بہت سنا تھا اور ان کی علمی و تحقیقی تحریریں بھی نظر سے گزری تھیں لیکن کبھی ملاقات کا موقع نہیں ملا تھا۔حسنِ اتفاق دیکھیے کہ راقم کے پی ایچ ڈی کے مقالے کے زبانی امتحان کے لیے جامعہ کراچی نے ڈاکٹر صاحب کوزحمت دی اور انہوں نے کراچی آکر امتحان لینے کی ہامی بھرلی(جی ہاں! یہ ہامی بھرنا ہے، اس کو حامی بھرنا لکھنا غلط ہے، حامی تو حمایت کرنے والے کو کہتے ہیں)۔
اس بات پرحیرت بھی تھی اور خوشی بھی کہ ڈاکٹر صاحب نے حیدرآباد سے کراچی کا یہ سفر کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی حالانکہ ان دنوں ڈاکٹر صاحب بہت کم سفر کرتے تھے اور عمر بھی اَسّی (۸۰) برس کے قریب ہو چلی تھی۔لیکن یہ خیال بھی آتا تھا کہ جوہستی ناگ پور یونیو رسٹی اور سندھ یونیو رسٹی میں برسوں تدریس و تحقیق کے جھنڈے گاڑ چکی ہے، جس نے پاکستان میں تحقیق کی نبیادیں استوار کی ہیں، جو تحقیق و علم کے معاملے میں درجۂ استناد پر فائز سمجھی جاتی ہے اور ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر اسلم فرخی اوردیگر کئی نام وَر محققین و اساتذہ جس کا شاگرد ہونے کا اعلان فخریہ کرتے ہوں، ہم جیسا بے علم بھلاان کے سوالوں کے کیا جواب دے گا۔ خیر صاحب ! یہ عاجز طالبِ علم زبانی امتحان دینے جامعہ کراچی پہنچا۔
اساتذۂ کرام ڈاکٹر ابواللیث صدیقی اور ڈاکٹر معین الدین عقیل کی موجودگی سے کچھ ڈھارس بندھی۔ ڈاکٹر غلام مصطفی خاں صاحب مسکراتے ہوئے تشریف لائے اوران کا نورانی چہرہ دیکھا تو عجیب سا اطمینان محسوس ہوا، پھر جب وہ مسکرا کر ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگے تو ان کی شفقت کا اندازہ ہوا۔ وہ ہمہ وقت مسکراتے رہے اور گاہے گاہے لیث صاحب سے بھی کچھ گفتگو کرلیتے۔
دونوں علی گڑھ کے فیض یافتہ تھے اس لیے ہم آہنگی تو ہونی تھی، اندازہ ہوا کہ کچھ بے تکلفی بھی ہے ۔ ہم سے جتنا بن پڑا جواب دیتے رہے ۔ لیث صاحب غور سے ہمارے جواب سنتے رہے اور ایک آدھ بار ٹوکا بھی ،کیونکہ لیث صاحب کے مزاج میں شفقت کے ساتھ طالب علم کو کچھ سکھانے کا جذبہ بھی قوی تھا۔
پی ایچ ڈی کے آغاز میں لیث صاحب نے خاص طور پر اپنے گھر بلا کر بہت کچھ بتایا تھا اور اس امتحان میں بھی کچھ نہ کچھ سمجھاتے رہے۔ لیکن غلام مصطفی خاں صاحب ہنستے مسکراتے رہے۔ معلوم ہوا کہ شگفتہ مزاجی بھی طبیعت میں شامل ہے۔کچھ سوال جواب کے بعد غلام مصطفی خاں صاحب نے ہمیں ’’ڈاکٹر ‘‘ بننے کی مبارک باد دی۔ تھوڑی دیر تک توکچھ سمجھ ہی میں نہ آیا اور لیث صاحب نے جانے کا کہا تو ہم سلام کرکے باہر آگئے۔ یہ امتحان کم تھا اور ڈاکٹر صاحب کی شفقت زیادہ تھی۔
غلام مصطفی خاں صاحب زبانی امتحان میں عموماً زیادہ سخت سوال نہیں کرتے تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ مقالہ پڑھے بغیر ہی طالب علم کو ڈگری دے دیتے تھے بلکہ وہ تحقیقی مقالے کا ایک ایک لفظ پڑھتے تھے۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ طالب علم کی غلطیاں، خواہ تحقیق کی ہوں یا زبان کی، لکھتے جاتے اور ساتھ ہی درستی کی تجاویز بھی۔ جن ضروری کتابوں اور تحقیق کا حوالہ مقالہ نگار نے نہیں دیا ہوتا تھا یا جوکمی ہوتی اس کی بھی نشان دہی کرتے جاتے اور زبانی امتحان کے بعد وہ تحریر طالب علم یا اس کے نگراں کو ایک لفافے میں رکھ کر دے دیتے۔
البتہ یونیورسٹی کے ریکارڈ کے لیے ایک الگ مختصر رپورٹ لکھتے جس میں بالعموم مثبت باتوں کی نشان دہی کرتے اور کچھ اصلاح طلب اُمور کی طرف نرمی سے اشارہ کر دیتے۔ ہمارے مقالے پر بھی انھوں نے کچھ ایسی ہی تحریر ایک لفافے میں رکھ کر ہمارے نگراں عقیل صاحب کے توسط سے ہم تک پہنچائی ۔ اس تحریر کو پڑھ کر ڈاکٹر صاحب کی علمیت، تحقیقی نظر ، شفقت اور حوصلہ افزائی کے مزاج کا اندازہ ہوا۔ یہ بھی احساس ہوا کہ ڈاکٹر صاحب مقالے کا ہر لفظ غور سے پڑھتے ہیں اور پروف یا املا کی اغلاط کی بھی تصحیح کرتے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام مصطفی خاں صاحب کے علی گڑھ میں ایک استاد احسن مارہروی تھے جن کو اردو املا اور صحت ِ زباں سے خاص دل چسپی تھی اور احسن مارہروی کا رسالہ ’’فصیح الملک ‘‘ اس ضمن میں یادگار ہے۔ اپنے استاد کی طرح ڈاکٹر صاحب کے بھی خاص موضوعات میں اردو املا اور صحتِ زباں کے مسائل ومباحث شامل تھے، بلکہ ڈاکٹر صاحب ان موضوعات پر سند سمجھے جاتے تھے لیکن انھوں نے ہمارا لکھا ہوا بعض الفاظ کا املا نہایت انکسار کے ساتھ درست کیا اور یہ لکھنے کے بجاے کہ ’’ان الفاظ کا املا غلط ہے، اس طرح نہیں لکھنا چاہیے‘ ‘لکھا تھا کہ آج کل لوگ عموماًان الفاظ کو یوں لکھ دیتے ہیں لیکن ’’راقم الحروف چونکہ پرانے اساتذہ سے فیض یافتہ ہے لہٰذا ان الفاظ کو اس طرح لکھتا ہے ‘‘، اور یہ طالب علم پڑھ کر شرم سے پانی پانی ہوگیا۔
مثلاً انھوں نے لکھا تھا کہ اٹھارویں صدی نہیں بلکہ ’’اٹھارھویں صدی‘‘ لکھنا چاہیے (یعنی دوچشمی ھ کے ساتھ)۔ اسی طرح زبان کی کوئی معمولی سی غلطی بھی ان کی نظر سے نہیں چُوکی تھی، مثلاً مقالے میں رجب علی بیگ سرور کی ’’فسانۂ عجائب ‘‘کا ایک اقتباس بھی بطور مثال شامل تھا۔ اس میں ایک جملے میں ’’ہیہات ہیہات‘‘ (یعنی بہت افسوس) آیا تھا لیکن ٹائپسٹ نے (اس زمانے میں کمپیوٹر سے اردو کی کمپوزنگ شروع نہیں ہوئی تھی) اسے ’’ہیات ہیات ‘‘ لکھا تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے خاص طور پر اس کی نشان دہی کی تھی۔ یہ تھی وہ باریک بینی اور دل سوزی اور اس کے ساتھ عاجزی جو ڈاکٹر صاحب کے مزاج کا حصہ تھی۔ ہم نے مقالے کی کتابی صورت میں اشاعت سے قبل ان اغلاط اور بعض دیگر نکات کی تصحیح کرلی جن کی طرف ڈاکٹر صاحب قبلہ نے اپنے مخصوص منکسرانہ انداز میں اشارہ کیا تھا۔
اس کے بعد حیدرآبادجا کرایک باران کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن اُس دن اُن کی طبیعت ناساز تھی لہٰذا زحمت دینا مناسب نہ تھا۔پھر انجمن ترقیِ اردو کے زیر اہتمام مقالہ کتابی صورت میں شائع ہوا اور کچھ عرصے بعد حیدرآباد جانے کا اتفاق ہوا تو ایک نسخہ ان کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے لیتا گیا۔ گھر کے سامنے مسجد تھی جس میں با جما عت نماز کے لیے پابندی سے تشریف لاتے تھے، اگرچہ خاصے ضعیف ہوچکے تھے۔
بہت سے مریدین اور معتقدین بھی ڈاکٹر صاحب سے مسجد میں دعائیں لینے پہنچ جاتے تھے۔ پہنچا تو عصر کا وقت ہورہا تھا لہٰذا مسجد ہی میں انتظار کیا۔ کچھ ہی دیر میں تشریف لے آئے۔ نماز کے بعد ملاقات ہوئی۔ مریدوں کا جم ِغفیر تھا لیکن ڈاکٹر صاحب بہت محبت اور شفقت سے، حسبِ عادت ہنستے مسکراتے ہوئے ملے ۔ کتاب پیش کی۔ دیکھ کربہت خوشی کا اظہار کیا ، دعائیں دیں اور پیشانی پر بوسہ دیا۔لگا کہ مہر ثبت کردی ہے۔ یہ گویاپی ایچ ڈی کی ڈگری سے بھی بڑی سند تھی ۔
اردو ادب کی تاریخ میں یوں تو بہت نام وَر لوگ گزرے ہیں لیکن ایسی چند ہی شخصیات ہوں گی جو اپنی علمی و ادبی خدمات کے ساتھ روحانی کمالات کے لیے بھی جانی جاتی ہوں، مثلاً مرزا مظہر جانجاناں اور خواجہ میر درد، جو صوفی بزرگ پہلے تھے اور اہلِ قلم بعد میں۔ ایسی ہی شخصیات میں حضرت ڈاکٹر غلام مصطفی خاں صاحب شامل ہیں۔ وہ نقش بندی سلسلے کے صاحب ِ حال بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اور ادبی و تحقیقی کاموں کے علاوہ تاریخی اور دینی موضوعات پر ان کی علمی کتب و مقالات بھی گویا سند کا درجہ رکھتے ہیں۔
جبل پور میں ۲۳؍ ستمبر ۱۹۱۲ء کو ڈاکٹر غلام مصطفی خاں صاحب کی ولادت ہوئی۔ آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ گئے۔ڈاکٹر صاحب کو اردو کے علاوہ عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں اور ان کے ادب سے بھی بہت دل چسپی تھی ۔ ان زبانوں کے ادب کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا اور ان پر مہارت حاصل کی، خاص طور پراردو، فارسی اور انگریزی ادب کا گہرا مطالعہ کیا ۔علی گڑھ سے فارسی اور اردو میں ایم اے اور ایل ایل بی کیا۔
علی گڑھ ہی سے تجوید و قرأت ِ سبعہ کی سند بھی حاصل کی۔۹۳۷اء سے آپ نے تدریس کا آغاز کیا اور امراوتی کے ایڈورڈ کالج میں استاد کے علاوہ ناگ پور یونیورسٹی کے صدرِ شعبۂ اردو بھی رہے ۔ آپ نے فارسی کے شاعر سید حسن غزنوی پر تحقیق کرکے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ناگ پور یونیورسٹی نے ان کے تحقیقی کاموں پر ڈی لٹ کی ڈگری بھی دی۔
ڈاکٹر صاحب قیام ِ پاکستان کے بعد ہجرت کرکے کراچی آگئے اور اسلامیہ کالج میں تدریس شروع کی ۔ باباے اردو مولوی عبدالحق انھیں اردو کالج لے آئے،یہاں بھی صدرِ شعبۂ اردو مقرر ہوئے۔ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلراور معروف ادیب و دانش ورعلامہ آئی آئی قاضی ڈاکٹر غلام مصطفی خاں کے علم و فضل کے معترف اور قدردان تھے، انھوں نے ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی کہ آپ حیدرآباد تشریف لاکر سندھ یونیورسٹی میں پروفیسر اور صدرِ شعبہ کی ذمے داری سنبھالیں۔
اس طرح ڈاکٹر صاحب حیدرآباد میں قیام پذیر ہوگئے اور وہاں تدریس و تحقیق کے علاوہ دینی و روحانی روایات کو بھی مستحکم کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں بغیر مانگے مسلسل توسیع دی جاتی رہی اور آخر ڈاکٹر صاحب نے معذرت کرلی۔ انھیں پروفیسر ایمریطس مقرر کیا گیا تاکہ وہ علمی و تحقیقی کاموں کی رہنمائی جاری رکھیں۔
تعلیم و تدریس کے علاوہ غلام مصطفی خاں صاحب کا نام ادبی، دینی اور تاریخی موضوعات پر تحقیق و تنقید اور تصنیف و تالیف کے میدانوں میں بھی گویا سند ہے ۔ ادب میں ان کا اصل شعبہ اردو اور فارسی کی تحقیق ہے اور پھر زبان، قواعدا ور لغت۔’’فارسی پر اردو کا اثر‘‘ ان کی ایسی تصنیف ہے جس سے فارسی ادب اور اردو لغت پر ان کی گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔’’ سندھی اردو لغت‘‘ کی تالیف میں ان کی شراکت رہی۔’’جامع القواعد ‘‘کی دوسری جلد جو حصۂ نحو پر مشتمل ہے ڈاکٹر صاحب کی عمیق نظر اور لسانی بصیرت کا ثبوت ہے۔
اردو لغت بورڈ کی بائیس (۲۲) جِلدی اردولغت کے مسودے ڈاکٹر صاحب کے پاس طویل عرصے تک نظرِ ثانی اور تصحیح و اضافے کے لیے بھیجے جاتے رہے اور ان کے عذر کرنے پر بھی بورڈ کے سربراہ، خاص طور پر ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ادب و احترام کے ساتھ ان سے درخواست کرتے رہے کہ یہ کام جاری رکھیے اور ہماری رہ نمائی کرتے رہیے۔
’’اقبال اور قرآن ‘‘ ان کی ایک ضخیم کتاب ہے جس میں علامہ اقبال کے اردو اور فارسی کلام میں موجود قرآنی مضامین و افکار کو متعلقہ آیات اور اشعارکے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی کتاب ’’اردو میں قرآن و حدیث کے محاورے‘‘ قرآن اور اردو زبان دونوں پر ان کی گہری نظر کی بھی عکاس ہے اور ان دونوں سے ان کے لگاو کا ثبوت بھی۔ املا اور زبان کی صحت بھی ڈاکٹر صاحب کا خاص موضوع تھا۔
ان کی کتاب ’’ہمارا تلفظ ‘‘ تلفظ کی اغلاط کو واضح کرتی ہے۔اسی طرح ان کا ایک طویل مضمون جو مقتدرہ قومی زبان سے کتابی صورت میں بھی شائع ہوا ’’ثقافتی اردو‘‘ کے عنوان سے ہے، اس میں اردو زبان پر مختلف زبانوں اور ثقافتی ماحول کے اثرات کو مثالوں سے واضح کیا گیا ہے۔
معروف محقق اور تاریخ داں ایس ایم اکرام نے حضرت مجدد الفِ ثانی کے بارے میں کچھ ایسی باتیں لکھیں جو درست نہیں تھیں تو ڈاکٹرصاحب نے ان کا مدلل اور مبسوط جواب لکھا۔ دیگر کتابوں میں حالی کا ذہنی ارتقا، علمی نقوش، تحقیقی جائزے وغیرہ شامل ہیں۔ اردو ، انگریزی اور فارسی میں ڈاکٹر صاحب کی تصانیف و تالیفات کی تعداد ساٹھ (۶۰) سے متجاوز ہے۔
ڈاکٹر غلام مصطفی خاں صاحب کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت کی جانب سے ستارۂ امتیاز ’’پیش کیا گیا ‘‘۔ عام طور پر ایسے موقعے پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخصیت کو تمغے سے ’’نوازا‘‘ گیایا تمغا ’’عطا کیا گیا ‘‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اس تمغے کو قبول کرکے گویا حکومت کو نوازا اور تمغے کی عزت و توقیر میں اضافہ کیا ۔۲۵؍ ستمبر ۲۰۰۵ء کو علم ، ادب اور معرفت کا یہ سورج غروب ہوگیا ۔ ڈاکٹر صاحب جام شورو (سندھ) میں اس علمی و دینی مرکز کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں جسے وہ اپنی حیات میں قائم کرگئے تھے۔