• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحتِ زباں: ’کیونکہ‘ اور ’تاکہ‘ کا غلط استعمال

’’اردو‘‘ پہ ’’مری‘‘ آکے عجب وقت پڑا ہے۔ پاکستان ہو یا ہندوستان، ایسا لگتا ہے کہ کسی کواردو کے صحیح یا غلط استعمال سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پہلے صرف اخبارات کو روتے تھے کہ زبان کا ستیاناس کررہے ہیں لیکن اب ماشاء اللہ چشم ِ بد دور ادبی متون میں بھی بعض الفاظ اور مرکبات کا غلط استعمال حیران کن حد تک بڑھ گیا ہے۔ مثلاً ’تاکہ‘اور ’کیونکہ‘ جیسے عام الفاظ و مرکبات کا درست استعمال بھی لوگ بھولتے جارہے ہیں یا اگر یاد بھی ہے تو بے نیازی کا رویہ ہے۔

اردو میں جب ’کیونکہ ‘ استعمال کیا جاتا ہے توا س سے قبل ’اس لیے‘ نہیں لکھا جاتا، یعنی مثلاً یوں نہیں لکھنا چاہیے کہ :

٭وہ آج اس لیے دفتر نہیں آیا کیونکہ وہ بیمار ہے (غیر فصیح)

یا مثلاً:

٭وہ اس سے اس لیے بہت پیار کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا اکلوتا بیٹا ہے(غیر فصیح)

بلکہ ان جملوں کو اس طرح لکھا جائے گا :

٭وہ آج اس لیے دفتر نہیں آیا کہ وہ بیمار ہے(فصیح)

یا اس جملے کو اس طرح بھی لکھا جاسکتا ہے:

٭وہ آج دفتر نہیں آیا کیونکہ وہ بیمار ہے(فصیح)

اسی طرح:

٭وہ اس سے اس لیے بہت پیار کرتا ہے کہ وہ اس کا اکلوتا بیٹا ہے (فصیح)

یا اس جملے کو یوں بھی لکھا جاسکتا ہے:

٭ وہ اس سے بہت پیار کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا اکلوتا بیٹا ہے(فصیح)

مراد یہ کہ جب ’اس لیے‘ کہہ دیا تو ’کیونکہ‘ کی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہاں ’کہ ‘ کہنا کافی ہے۔اور اگر’ کیونکہ‘ لکھنا ہے تو ’اس لیے‘ سے گریز کرنا چاہیے ۔’کیونکہ ‘ کا مفہوم ہے : اس لیے کہ۔

یعنی ’اس لیے ‘ لکھنے کے بعد ’کیونکہ‘ لکھنے کی ضرورت نہیں رہتی ۔یہ ایک طرح کی تکرار ہے او ر حشو و زوائد میں شامل ہے۔ اسی طرح کی غلطی ’تاکہ ‘ کے استعمال میں ہوتی ہے۔ اب اس طرح کے عجیب جملے میں دیکھنے کو ملتے ہیں:

٭یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اخراجات میں کمی ہو(غیر فصیح) یا مثلاً:

٭تم وقت سے پہلے اس لیے پہنچنا تاکہ مہمانوں کا ستقبال کرسکو(غیر فصیح)

ان جملوں کو اس طرح لکھا جانا چاہیے:

٭یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اخراجات میں کمی ہو (فصیح)

یا یہ جملہ یوں بھی ہوسکتا ہے:

٭یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اخراجات میں کمی ہو(فصیح)

اسی طرح :

٭تم وقت سے پہلے پہنچنا تاکہ مہمانوں کا استقبال کرسکو (فصیح)

یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے(خاص طور پر اگر کوئی پوچھے کہ میں وقت سے پہلے کیوں پہنچوں):

٭تم وقت سے پہلے اس لیے پہنچنا کہ مہمانوں کا استقبال کرسکو (فصیح)

دراصل قواعد کی رو سے ’تاکہ ‘اور ’کیونکہ ‘ کلمۂ علت یا حرفِ علت ہیں (ازراہِ کرم اسے لسانیات کی اصطلا ح ’حرفِ علت‘( یعنی vowel یا مصوتہ)سے خلط ملط نہ کیجیے، یہاں حرفِ علت سے مراد وہ کلمہ ہے جو وجہ یا سبب بتائے)۔ ’اس لیے ‘کا مرکب بھی حروفِ علت کی حیثیت رکھتا ہے اور’ کیونکہ‘ بھی ، چنانچہ ایک ہی جملے میں دو بار حرفِ علت(’کیونکہ‘ اور’ اس لیے‘) لانا مستحسن نہیں۔فتح محمدخاں جالندھری نے مصباح القواعد میں حروفِ علت یہ بتائے ہیں:

کیونکہ، اس لیے کہ، اس واسطے کہ،کہ، تاکہ، کہ تا،تا ۔

انھوں نے مثال میں یہ جملہ دیاہے:

’’ علم حاصل کروکیونکہ(یا’اس لیے کہ‘،یا ’اس واسطے کہ‘)علم ہی فلاحِ دارین کے حاصل ہونے کا ذریعہ ہے‘‘

گویا ایک ہی جملے میں’ کیونکہ‘ اور’ اس لیے‘ ایک ساتھ نہیں آسکتے۔ یہاں مثال میں جالندھری صاحب نے تین چار شعر بھی دیے ہیں، ان میں سے ایک ملاحظہ ہو:

کرو کچھ کہ کرنا ہی کچھ کیمیا ہے

مثل ہے کہ کرتے کی سب بِدّیا ہے

یہاں ’کہ‘بطورِ حرفِ علت آیا ہے۔

’کہ‘کانام قواعد کی زبان میں کافِ بیانیہ ہے۔ فرجاد کوتانوی اپنی کتاب آئینِ اردو میں کہتے ہیں کہ کلماتِ علت (کیوں، اس لیے، اس واسطے وغیرہ) کے ساتھ کافِ بیانیہ آتا ہے ، خواہ متصل خواہ منفصل، مگر آتا ضرور ہے۔

اس کے بعد مثالیں دی ہیں اور ان میں سے کچھ یہ ہیں: محنت کرو کیونکہ محنت ہی راحت کی دائی ہے۔ وہ اس لیے آئے ہیں کہ تمھیں ساتھ لے جائیں۔ میں اس واسطے ان کے پاس گیا تھا کہ تمھاری سفارش کروں، پڑھے جائو کہ پڑھنا ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔

دراصل’ تاکہ‘ کا مفہوم ہے: اس غرض سے کہ، اس لیے کہ۔ گویا ’اس لیے‘ لکھنے کے بعد ’تاکہ ‘ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس غیر ضروری تکرار سے بچنا چاہیے۔