ایک لفظ ہے بِیڑا، اس کا تلفظ یاے معروف سے ہے یعنی بی ڑا۔ یوں کہیے کہ بِیڑا اور کِیڑا ہم قافیہ ہیں۔ بِیڑا(بی ڑا) اُٹھانا محاورہ ہے، لیکن بھائی لوگ اسے یاے معروف کے بجاے یاے مجہول سے یعنی بیڑا (بے ڑا )اٹھانا پڑھتے ہیں اور اس طرح زبان کا بیڑا (بے ڑا ) غرق کرتے ہیں۔
محاورہ ’بِیڑا اٹھانا ‘میں جو’ بِیڑا‘ (بی ڑا) ہے وہ دراصل پان کا بِیڑا ہے یعنی پان کی گلوری۔ لیکن یاے مجہول سے جو بیڑا ہے (یعنی بے ڑا )وہ تو کشتیوں یا جہازوں کا ہوتا ہے اور یہ بیڑا (بے ڑا)محاورے میں بالعموم غرق ہوتا ہے یا کبھی پار بھی ہوجاتا ہے۔
احمد دین کی کتاب سرگذشت ِ الفاظ کے مطابق بِیڑا (بی ڑا)اٹھانا کی اصل یہ ہے کہ کسی زمانے میں رواج تھا کہ کوئی مشکل کام درپیش ہوتا تو سرداریا راجا سب کو جمع کرتا اوراس کام کی تفصیل بتاتا۔ پھر ہر ایک کے آگے خاص دان میں رکھ کر گلوری پیش کی جاتی یعنی پان کابِیڑا رکھا جاتا اور جو اسے اٹھا کر کھالیتا وہ گویا اس کام کی ہامی بھرلیتا (جی ہاں !یہ ’ہامی‘ بھرنا ہے اور اسے’ حامی ‘بھرنا لکھنا غلط ہے، کیونکہ حامی کا مطلب ہے حمایت کرنے والا اور ہامی کا مطلب ہے ہاں ) ۔ گویا یہ اعلان اور اقرار ہوتا کہ یہ کام میں کروں گا۔ اب پان کا بِیڑا اٹھانے کی رسم تو ختم ہوگئی لیکن بِیڑا اٹھانا محاورہ بن گیا۔
اس کے معنی ہیں : کوئی ذمے داری لینا، کسی کام کا پکا ارادہ کرنا ۔ کوئی صاحب کسی کام کا، بالخصوص مشکل یا اہم کام کا، ارادہ کریں یا کوئی ذمے داری اٹھائیں تو کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اس کام کا بِیڑا (بی ڑا) اٹھا یا ہے۔ فرہنگ ِ آصفیہ نے ’بِیڑا اٹھانا‘ کی سند میں ابراہیم ذوق کے اشعار دیے ہیں جو مفہوم کو زیادہ واضح کرتے ہیں کہ ان میں گلوری اور پان کا بھی ذکر ہے۔ کہتے ہیں:
گلوری پان کی غیروں کو تم کھلاتے ہو
ہمارے قتل کا بِیڑا مگر اٹھاتے ہو
چھپا کے پان یہ کس کے لیے بناتے ہو
ہمارے قتل کا بِیڑا کہیں اٹھاتے ہو
گویا پان کا بیڑا (بی ڑا ) ہوتا ہے۔ یاے مجہول سے بیڑا (بے ڑا ) ایک الگ لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں جہازوں یا کشتیوں کا مجموعہ۔ بیڑا(بے ڑا) صحیح سلامت کنارے پر یا منزلِ مقصود پر پہنچ جائے تو کہتے ہیں بیڑا پار ہوگیا اور جب کوئی کام اچھی طرح سے ہوجائے تب بھی مجازاً کہتے ہیں بیڑا پار ہوگیا۔
کوئی کام بہت خراب ہوجائے یا کسی کام کا ستیانا س ہوجائے تو مجازاً کہتے ہیں کہ بیڑا غرق ہوگیا۔ کوئی مشکل کام کردے یا مراد بر لائے تو کہتے ہیں بیڑا پار کردیا اور کام کوئی خراب کردے، تباہ کردے تو کہا جاتا ہے کہ بیڑا غرق کردیا یا بیڑا ڈُبو دیا۔
ایک وضاحت بیڑا اور بِیڑا کے املا کے بارے میں بھی کردی جائے۔ بعض لوگ ان کے آخر میں’ ہ‘ لکھتے ہیں یعنی بیڑہ اور بِیڑہ، لیکن یہ درست نہیں۔ رشید حسن خان کے مطابق ان دونوں (یعنی یاے مجہول ہو یا یاے معروف)کے آخر میں الف لکھنا چاہیے، یہاں ہاے مختفی لکھنا درست نہیں۔ گویا درست املا بیڑا اور بِیڑا ہے۔
آج کل بعض لوگوں نے بغیر کسی دلیل یا ثبوت کے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ زبان اگر بولنے کے عضو یعنی جِیبھ tongue) ( کے معنی میں ہے تو زے پر زبرکے ساتھ زَبان ہے لیکن یہ اگر گفتگو، کلام، نطق یا بول چال کے معنی میں ہے تو زے پر پیش کے ساتھ زُبان ہے۔ لیکن یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔
’زبان‘ فارسی کا لفظ ہے اور فارسی کی مستند لغات سے بھی یہ ظاہر ہے کہ لفظ زبان کے پہلے حرف (یعنی زے)پر زبر اور پیش دونوں کے ساتھ اس کا تلفظ کرنا درست ہے اور دونوں کو دونوں معنوں میں استعمال کرنا روا ہے۔
مثلاً فارسی کی معروف لغت فرہنگ ِ آنند راج کے مطابق زبان کا لفظ زے پر پیش کے ساتھ بھی ہے اور زبر کے ساتھ بھی اور عضو کے مفہوم کے علاوہ بات چیت یا گفتگو کے مفہوم میں بھی ہے۔ اسٹین گاس نے بھی زَبان اور زُبان (یعنی زے پر زبر اور پیش دونوں )لکھا ہے۔
بعض فارسی لغات میں صرف زے پر زبر کے ساتھ زَبان لکھا گیا ہے۔مثلاً ڈاکٹر محمد معین نے اپنی لغت میں زَبان (رومن میں تلفظ zaban) دیا ہے۔ فرہنگِ عمید نے بھی لفظ زبان کو صرف زبر سے درج کیا ہے۔ فارسی کی ایک اور معروف لغت ’ لغت نامۂ دہخدا‘ نے ’زبان‘کے اندراج میں قوسین میں ’’زَ ؍زُ ‘‘دیا ہے، گویا دونوں درست ہیں، پھر برہانِ قاطع کے حوالے سے لکھا ہے کہ عربی میں اسے لسان کہتے ہیں اور پھر فرہنگِ نظام کے حوالے لکھا ہے کہ فارسی میں پیش اور زبرسے بھی جائز ہے۔
اسی طرح اردواور فارسی کی دیگر مستند لغات بھی زے پر زبر اور پیش کے ساتھ یعنی زَبان اور زُبان دونوں کو درست تلفظ قرار دیتی ہیں اور معنی کی خود ساختہ تخصیص (جیبھ اور کلام) کا کوئی جواز کسی لغت میں موجود نہیں ہے۔اردو لغت بورڈ کی لغت نے بھی پیش اور زبر دونوں کے ساتھ دونوں معنوں میں زبان درج کیا ہے۔
احسان دانش نے لغات الاصلاح میں لکھا ہے کہ ’زبان‘ زے پر زبر اور پیش دونوں کے ساتھ درست ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی اپنی کتاب لغاتِ روزمر ہ میں لکھتے ہیں :’’زبان :دلّی اور پورب کے بھی بہت سے علاقوں میں اول مضموم [یعنی زُبان] ہے لیکن اور جگہوں پر الف مفتوح [یعنی زَبان] سنا جاتا ہے۔ نوراللغات نے دونوں تلفظ دیے ہیں ، فارسی میں بھی دونوں تلفظ ہیں۔
اردو کی حد تک کہا جاسکتا ہے کہ اول مفتوح زیادہ رائج ہے اور زبان سے متعلق محاوروں میں بھی اول مفتوح ہی بولا جاتا ہے‘‘۔ فاروقی صاحب کی مراد یہ ہے کہ اگر کہنا ہو کہ زَبان کھل گئی یا زَبان سنبھا ل کر بات کرویا زَبان کو لگام دو تو زَبان یعنی زے پر زبر کے ساتھ ہی بولا جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پر’’زُبان ‘‘نہیں بولتے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اردو او رفارسی دونوں میں زَبان (زے پر زبر) اور زُبان (زے پر پیش) دونوں درست ہیں اور زبان سے متعلق اردو محاوروں میں اکثر زے پر زبر کے ساتھ زَبان ہی بولا جاتا ہے۔ لہٰذا بات یعنی کلام اور جیبھ یعنی عضوِتکلم کی تخصیص خود ساختہ ہے اور اس کی کوئی سند کہیں نہیں ملتی، نہ اردو میں نہ فارسی میں۔