دن ہیضے کی وبا کے ہوں یاجنگی وبا کے، یہ طے ہے کہ ان میں انسانی زندگی کا نقشہ،جینے کا طریقہ اور انسان کا رویہ، کچھ بھی وہ نہیں رہتا جو اس سے پہلے روزمرہ صورت حال میں ہوتا ہے۔ معاشرے کے ایک باشعور فرد کی حیثیت سے ان حالات میں ادیب کا رویہ کیا ہوتا ہے، کیا ہوسکتا ہے یا کیا ہونا چاہیے؟
یہ کوئی نیا سوال نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کتنی ہی مرتبہ زندہ تہذیبوں اور باشعور معاشروں میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے، اس پر بحث کی گئی ہے اور اپنے عہد کے تقاضوں کی روشنی میں اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم آج پھراس سوال پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ کوئی بھی زندہ معاشرہ وقت کے تقاضوں سے آنکھیں نہیں پھیرسکتا۔جب بھی ضرورت پڑتی ہے، وہ اپنے عہد کے سیاق و سباق کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے درپیش سنجیدہ سوالوں پرغور کرتا ہے۔
موجودہ صورتِ حال واشگاف الفاظ میں بتا رہی ہے کہ ہم سب آج ایک بار پھر حالتِ جنگ میں ہیں۔ صرف وہی نہیں جن کی طرف سے جارحانہ پیش رفت ہورہی ہے یا جو دفاعی حالت میں ہیں یا جو جنگ اور جارحیت کے عزائم و اقدامات کی توثیق کررہے ہیں اور کمک فراہم کررہے ہیں۔ ان کے ساتھ وہ بھی شامل ہیں جو اختیاری یا جبری خاموشی کے ساتھ جنگ ہوتے دیکھ رہے ہیں اور وہ بھی جو اِس جنگ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں، سب کے سب حالتِ جنگ میں ہیں۔
اصل میں یہ آج کی یک قطبی دنیا کا مسئلہ ہے، جس میں فیصلے جنگل کے قانون کے تحت کیے جاتے ہیں۔ جنگل پر حکومت شیر کی ہو یا بندر کی اقتدار ہمیشہ جبرو استحصال کی راہ چلتا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس -گزشتہ برسوں میں جہاں جہاں اور جس جس شکل میں جارحانہ اقدامات کیے گئے ہیں، ان کے خلاف آواز اٹھائی گئی، ان کی مذمت کی گئی اور ایسا صرف ان کی طرف سے نہیں ہوا جو جارحیت کا شکار ہوئے یا جن پر جنگ مسلط کی گئی بلکہ ہر اُس جگہ جہاں انسانی ضمیر بیدار ہے وہاں بربریت اور بہیمیت کے خلاف آواز بلند ہوئی۔ جارحانہ اقدامات کرنے والے حکمرانوں کے خلاف خود اُن کے عوام نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ یہ درست ہے کہ استحصالی قوت نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے سفاکی، بربریت اور ننگی جارحیت کے کسی اقدام سے دریغ نہیں کیا۔
یہ تأسف کا مقام تو ضرور ہے لیکن تعجب کا یقینا نہیں ہے۔ اس لیے کہ طاقت کا کوئی مذہب، کوئی عقیدہ اور کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی۔ وہ کسی رنگ، نسل اور زبان کو نہیں جانتی۔ اسے کسی تہذیب یانظریے سے سروکار نہیں ہوتا۔ اسے صرف اپنی خواہشات کی تکمیل سے غرض ہوتی ہے، خواہ اس کے لیے انسانی تہذیب و تمدن کا ملیا میٹ ہو یا پوری انسانیت ہی کیوں نہ دائو پر لگی ہو۔
جب یہ صورتِ حال ہو تو وہ لوگ جو سوچتے ہیں ، لکھتے ہیں، انسانی تہذیب اور اس کی اقدار پر یقین رکھتے ہیں، وہ کیا کرتے ہیں، انھیں کیا کرنا چاہیے؟
لکھانے والے کہتے ہیں کہ قلم میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ تاریخ سے قوموں اور تہذیبوں کے ایسے حوالے بھی مل جاتے ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض کتابوں نے معاشروں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ادیب نے اپنے قلم کے زور سے تباہی اور جنگ کے پہیے کو الٹا کبھی نہیں پھیرا۔
انسانی دنیا میں کیسی کیسی جنگیں نہیں لڑی گئیں اور جب یہ جنگیں لڑی جارہی تھیں، عین انھی لمحات میں انسانیت کا ضمیر بن کر اہلِ فکر اور اہلِ قلم نے کب کب آواز نہیں اٹھائی، اس کی گواہی کے لیے دور جانے کی بھی ضرورت نہیں،صرف سات آٹھ دہائیوں کا زمانہ ہی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایذرا پاؤنڈ، ژاں پال سارتر، برٹرینڈ رسل، سیمون دبوار، ایڈورڈ سعید، گنتر گراس، نوم چومسکی، نجیب محفوظ، ارون دھتی رائے اور امیتاو گھوش جیسے لکھنے پڑھنے والوں نےظلم و بربریت کے اقدامات کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھا ئی، لیکن طاقت نے بدمستی کے عالم میں ایسی کسی آواز کو کبھی نہیں سنا۔
یہ حقیقت ہے کہ ادیب کسی تخریبی طاقت کے آگے کوئی بند نہیں باندھ سکتا - تو پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ عملاً میدانِ جنگ میں جا اُترے، خاموشی اختیار کرے یا پھر ادب ترک کرکے کسی دوسرے مفید کام میں مصروف ہوجائے؟ ہر شخص تو ایذرا پاؤنڈ، سارتر یا برٹرینڈرسل نہیں ہوسکتا۔
عامۃ الناس کی طرح لکھنے والوں کی اکثریت بھی ٹی ایس ایلیٹ، جیمز جوئس اور ڈی ایچ لارنس پر مشتمل ہوتی ہے جو بے شک جنگ سے نفرت کرتی ہے اور اس کے خلاف لکھتی بھی ہے لیکن وہ کسی مقتدرہ سے ٹکرانے پر آمادہ نہیں ہوتی، اس کے خلاف عملاًنعرہ زن ہونے کو تیار نہیں ہوتی۔
ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج ادب اور ادیب کا کردار معاشرے میں وہ نہیں ہے جو پچھلے وقتوں میں ہوا کرتا تھا۔ زمانے کے تقاضے بدلتے رہتے ہیں اور ادیب کو بدلتے تقاضوں اور زمانے کے حقائق کو نہ صرف جاننا، سمجھنا چاہیے بلکہ جہاں ضرورت ہو، ان کے حساب سے اپنے رویے اور طرز عمل کے تعین سے بھی نہیں چوکنا چاہیے۔ اس حقیقت کے اظہار میں مطلق باک نہیں کہ آج کاادیب اوراس کا تخلیق کردہ ادب ہم عصر دنیا اور اس کی متغیر انسانی صورتِ حال سے بے گانہ نہیں ہوسکتا۔
اہلِ فکرو نظر اور اہلِ قلم کی حیثیت معاشرے میں وہی ہوتی ہے جو انسانی وجود میں دماغ کی۔ چناں چہ زمانے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ بات صاف طور سے سمھجنی چاہیے کہ اب ادیب معاشرے میں پیدا ہونے والے عارضی نوعیت کے مسائل سے بھی بے تعلق نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ عصری زندگی میں ’’عارضیت‘‘ کا چلن بہت بڑھ گیا ہے۔ چناں چہ اب اس کی بابت ادیب کی خاموشی یا تأمل اس کی خوابیدگی کے مترادف ہوگا اور یوں اس کی حیثیت معاشرے میں عضوِ معطل کی سی ہو کر رہ جائے گی، جس کا ہونا نہ ہونا دونوں کوئی معنی نہیں رکھتے۔
ادب انسانی تجربے کے جمالیاتی اظہار سے عبارت ہے، لیکن عصرِ حاضر کی انسانی زندگی اور اس کا تجربہ سیاسی عوامل و عناصر کے بغیر نہ تو مکمل ہوتا ہے اور نہ ہی اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔ آج کا ادیب اپنے عہد کی سیاسی صورتِ حال اور اس کے اثرات کو جانے بغیر عصری شعور کا ادب تخلیق نہیں کرسکتا۔
اسے ان حقائق کو اپنی حسیت کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا کہ اس کے بغیر آج کے انسان کی روح تک رسائی ممکن نہیں۔ انسانی جذبہ و احساس پر اور انسان کی روح پر عہدِ جدید نے جو اثرات مرتب کیے ہیں، انھیں جاننے کے لیے آج کے پورے انسانی تجربے کو سمجھنا ضروری ہے۔
مغائرت، بے حسی، خوف اور بے یقینی کا تجربہ پہلے بھی مختلف ادوار میں انسانوں کو ہوتا رہا ہے، لیکن آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ تجربہ پوری انسانی زندگی کا ماحصل بن کر رہ گیا ہے۔ یہ صورت تو شاید پہلے کبھی انسانی فکر و احساس پر نہ گزری ہوگی۔ آج کے انسان کی بپتا، اس کی روح کا المیہ اور اس کی افتادِ طبع کی کیفیت کو تہ در تہ سمجھنا آج ادیب کے لیے بے حد ضروری ہے۔
اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ عصر حاضر کے ادب اور ادیب کے سامنے ہم اس کے سماجی کردار کا کوئی مطالبہ رکھ رہے ہیں یا اسے ادب تخلیق کرنے کا کوئی فارمولا بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نہیں، بلکہ وہی پرانی اور چھوٹی سے بات ہے کہ اسے معاصر سچائیوں سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔
ہمیں انتظار حسین کی اس بات سے اختلاف نہیں کہ ادیب کو رائے کے اظہار ہی کی نہیں بلکہ اس کی بھی آزادی ہونی چاہیے کہ اسے کب اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔ لیکن آج اس سوال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر ادیب کا تأمل یا سکوت طول کھینچتا ہے تو ادیب اور معاشرے کا زندہ باہمی تعلق کیوں کر برقرار رہے گا۔
ضروری نہیں کہ ہر سماجی مسئلے کو ادیب تخلیقی تجربہ بنا کر سمجھنے اور اس کے انسانی معنی متعین کرنے کی کوشش کرے،وہ اس کے بغیر بھی معاشرے سے اپنے ربط کا اظہار کرسکتا ہے، اپنی گفتگو سے، مکالمے سے، تقریر سے،کالم سے یاکسی بھی شکل میں۔ البیئر کامیو نے الجزائر کی تحریکِ آزادی کی مخالفت کی تھی، گو بعد میں وہ ان نظریات کا قائل نہ رہا ہو لیکن زندگی نے پھر اسے تلافی کی مہلت نہ دی۔ اپنے آخری ناول ’’پہلا آدمی‘‘ میں وہ ہیرو کو باپ کی قبر پر کھڑا ہوا دکھاتا ہے جو عالمِ شباب میں جنگِ عظیم میں کام آگیا تھا۔
ادھیڑ عمر کا ہیرو کتبہ پڑھ کر چکراتا ہے کہ یہ جواں سال لڑکا جو چوبیس برس کی عمر میں مارا گیا، اس کا باپ تھا۔ ہیرو کے احساسات جنگ کی ہول ناکی پر تبصرہ ہیں، لیکن یہ تبصرہ بڑی معنویت سے ہم کنار ہوئے بغیر ختم ہوجاتا ہے، اس لیے کہ کامیو کی اپنی زندگی بھی یہیں ختم ہوجاتی ہے۔ ممکن ہے وہ اور جیتا رہتا تواپنے بعض افکار و خیالات سے یا کچھ آرا سے رجوع کرتا۔ بہر حال اس کی عظیم انسان دوستی بھی اس کے دامن کا یہ داغ نہیں دھوسکتی کہ اس نے الجزائر کی آزادی کی مخالفت کی تھی۔
کہنے والی بات اس وقت یہ ہے کہ آج کے ادیب کو ادب کی تاریخ کی اس سچائی کو یاد رکھتے ہوئے سمجھ لینا چاہیے کہ اس عہد کے حقائق کی بابت اپنے رویے کے اظہارکو مؤخر کر نے یا ان سے لاتعلق یا تارک الدنیا صوفی ہونے سے ادیب کا کام ہرگز نہیں چلے گا۔ اب ایک گوشے میں بیٹھ کر اور اندر کی دنیا میں مست ہوکر شعر و نغمہ تخلیق کرتے رہنا کافی نہیں ہے۔
آج ادیب و شاعر کو اپنے خارج کی دنیا سے ایک باقاعدہ اظہار کا رشتہ رکھنا ہوگا اور اس پر توجہ دینی ہوگی۔ ادیب پہلے بھی صرف اپنے زمانے میں نہیں جیتا تھا بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ پچھلے اور اگلے زمانوں میں بھی سانس لیتا تھا، لیکن اب یہ کام اسے شعوراً اور التزاماً کرنا ہے کہ اس کے بغیر عصری آگہی اور اپنے عہد سے زندہ تعلق دونوں ہی ممکن نہیں۔
حالتِ جنگ میں عام حالات کی زندگی کے اصولوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔ آج کی زندگی ماقبل کی انسانی صورتِ حال سے یکسر مختلف نقشہ پیش کرتی ہے۔ اس کی طرف ادیب کا رویہ بھی الگ ہونا چاہیے۔ آج کی مقتدرہ کے بہیمانہ طریق نے جمہوریت، انصاف، امن، ترقی پسندی، روشن خیالی اور انسان دوستی ایسے کم وبیش سارے ہی نظریات کی نفی کر کے رکھ دی ہے۔ آج یہ سب دل کش دعوے بالکل کھوکھلے ثابت ہوچکے ہیں ۔ آج دنیا پر طاقت اور ہوس کا راج ہے۔
طاقت کسی غیر مرئی شے کو نہیں مانتی،وہ صرف اس شے کو تسلیم کرتی ہے جسے چھو کر دیکھا جاسکے، جسے زیریا حاصل کیا جاسکے، یا پھر تباہ کیا جاسکے۔ آج انسانوں کے درمیان مغائرت کے احساس اور بے حسی کے رویے کو دانستہ فروغ دیا جارہا ہے۔ انسانی دنیا کو ایک ایسا وسیع و عریض سرد خانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جہاں انسانی اجسام موجود تو اپنے اصل خدوخال میں ہوں گے لیکن ان کے بیچ تعلق کی گرمی نہ ہو، وہ حدت نہ ہو جو جذبے کے اشتراک سے انسانی رگ وپے میں دوڑتی ہے۔
یہ بم، ڈرونز اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اب جنگیں ان تینوں ہتھیاروں کے ذریعے لڑی جائیں گی۔ ان میں تیسرا ہتھیار کس قدر مہلک ہے، اس کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے موـثر استعمال سے دو ملکوں یا قوموں کی جنگ کو بآسانی عالمی جنگ بنایا جا سکتا ہے اور جنگی جنون کو وبا کی طرح پھیلایا جا سکتا ہے۔
چنانچہ یہ زمانہ ہمارے اد ب اور ادیبوں کے سامنے جو سب سے بڑا سوال پیش کرتا ہے، وہ انسانی جذبہ و احساس اور انسانیت کی بقا سے ادب اور ادیب کی وابستگی کا سوال ہے۔آج ادیب پر لازم ہے کہ ایسے ہر جنون کی وبا کے خلاف آواز اٹھائے، صرف غزل، نظم یا افسانہ لکھ کر نہیں بلکہ سوشل میڈیا کو ڈرونز کی طرح استعمال کرتے ہوئے انسانی ضمیر کی زندہ آواز کو اپنے لوگوں تک پہنچاتے ہوئے اور اپنے ہونے کا اثبات کرتے ہوئے بھی۔
اگر آج کے ادیب کو انسانیت محجر شکل اور جیتے جاگتے انسان حنوط شدہ لاشوں کی صورت میں قبول نہیں ہیں تو پھر اسے اپنے عہد کے اس سوال کا بہرطور سامنا کرنا ہوگا۔