(ساحر لدھیانوی)
اے شریف انسانو
خون اپنا ہو یا پرایا ہو...
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں، کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
(جون ایلیاء)
ابھی اِک شور سا اُٹھا ہے کہیں
کوئی خاموش ہو گیا ہے کہیں
ہے کچھ ایسا کہ جیسے یہ سب کچھ
اِس سے پہلے بھی ہو چکا ہے کہیں
تجھ کو کیا ہو گیا ہے کہ چیزوں کو
کہیں رکھتا ہے‘ ڈھونڈتا ہے کہیں
جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھا
وہ یہاں سے چلا گیا ہے کہیں
آج شمشان کی سی بُو ہے یہاں
کیا کوئی جسم جَل رہا ہے کہیں
ہم کسی کے نہیں جہاں کے سِوا
ایسی وہ خاص بات کیا ہے کہیں
تُو مجھے ڈھونڈ‘ میں تجھے ڈھونڈوں
کوئی ہم میں سے رہ گیا ہے کہیں
کتنی وحشت ہے درمیانِ ہجوم
جس کو دیکھو‘ گیا ہوا ہے کہیں
میں تو اب شہر میں کہیں بھی نہیں
کیا مرا نام بھی لِکھا ہے کہیں
اسی کمرے سے کوئی ہو کے وداع
اسی کمرے میں چُھپ گیا ہے کہیں
مِل کے ہر شخص سے ہوا محسوس
مجھ سے یہ شخص مِل چکا ہے کہیں