• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جو اپنے قول کو قانون سمجھیں

جو اپنے قول کو قانون سمجھیں

وہ قائل ہو نہیں سکتے ابد تک

بہت سے لوگ یاران وطن ہیں

محقق ہیں مگر حقے کی حد تک

……٭…٭…٭……

میزان ہاتھ میں

میزان ہاتھ میں ہے زیاں کی

نہ سود کی تفریق ہی محال ہے بود و نبود کی

پروا نہیں ہے ہم کو خود اپنے وجود کی

لیکن شکایتیں ہیں یہود و ہنود کی

……٭…٭…٭……

کامیابی

کامیابی کا ہے رئیسؔ امکاں

گر مرتب عمل کے خاکے ہوں

اف بیانات کی یہ گونج گر ج

جس طرح ایٹمی دھماکے ہوں

……٭…٭…٭……

عجوبہ

ہم لوگ ہیں واقعی عجوبہ

کیوں آپ میں مست ہیں نہ جانے

سنتے ہیں نیوز بی بی سی سے

آل انڈیا ریڈیو سے گانے

……٭…٭…٭……

مسافر

منزل کا نشان ہے نہ پتہ راہ گزر کا

دل ایک مسافر ہےگزرگاہِ خطر کا

باندھا تو ہے کم بخت نے سامان سفر کا

لیکن نہیں کُھلتا کہ ارادہ ہے کدھر کا

……٭…٭…٭……

سنتے ہیں ؟

غریبوں کی فغاں ، ملت کےنالے قوم کی آہیں

برابر تم بھی سنتے ہو مسلسل ہم بھی سنتے ہیں

مگر یارو! ہمیں اس سلسلے میں پوچھنا یہ ہے

یہ فریادیں ہمارے قائدِ اعظم بھی سنتے ہیں

……٭…٭…٭……

آوے کا آوا

مجھے کہنا نہیں اہلِ وطن سے

کوئی نکتہ رئیس اس کے علاوہ

کہ ہم افراد کا شکو ہ کریں کیوں

کہ ہے بگڑا ہوا ہے آوے کا آوا