دل سے یا گلستاں سے آتی ہے
دل سے یا گلستاں سے آتی ہے
تیری خوشبو کہاں سے آتی ہے
کتنی مغرور ہے نسیم سحر
شاید اس آستاں سے آتی ہے
خود وہی میر کارواں تو نہیں
بوئے خوش کارواں سے آتی ہے
ان کے قاصد کا منتظر ہوں میں
اے اجل! تو کہاں سے آتی ہے
شکوہ کیسا کہ ہر بلا اے دوست!
جانتا ہوں جہاں سے آتی ہے
ہو چکیں آزمائشیں اتنی
شرم اب امتحاں سے آتی ہے
عین دیوانگی میں یاد آیا!
عقل عشق بتاں سے آتی ہے
تیری آواز گاہ گاہ اے دوست!
پردۂ ساز جاں سے آتی ہے
دل سے مت سرسری گزر کہ رئیسؔ
یہ زمیں آسماں سے آتی ہے
اپنے کو تلاش کر رہا ہوں
اپنے کو تلاش کر رہا ہوں
اپنی ہی طلب سے ڈر رہا ہوں
تم لوگ ہو آندھیوں کی زد میں
میں قحط ہوا سے مر رہا ہوں
خود اپنے ہی قلب خونچکاں میں
خنجر کی طرح اتر رہا ہوں
اے شہر خیال کے مسافر
کیا میں ترا ہم سفر رہا ہوں
دیوار پہ دائرے ہیں کیسے
یہ کون ہے کس سے ڈر رہا ہوں
میں شبنم چشم تر سے اے صبح
کل رات بھی تر بہ تر رہا ہوں
اک شخص سے تلخ کام ہو کر
ہر شخص کو پیار کر رہا ہوں
اے دجلۂ خوں ذرا ٹھہرنا
اس راہ سے میں گزر رہا ہوں
فریاد کہ زیر سایۂ گل
میں زہر خزاں سے مر رہا ہوں
خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم
صدیوں تک اہتمام شب ہجر میں رہے
صدیوں سے انتظار سحر کر رہے ہیں ہم
ذرے کے زخم دل پہ توجہ کئے بغیر
درمان درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہم
ہر چند ناز حسن پہ غالب نہ آ سکے
کچھ اور معرکے ہیں جو سر کر رہے ہیں ہم
صبح ازل سے شام ابد تک ہے ایک دن
یہ دن تڑپ تڑپ کے بسر کر رہے ہیں ہم
کوئی پکارتا ہے ہر اک حادثے کے ساتھ
تخلیق کائنات دگر کر رہے ہیں ہم
اے عرصۂ طلب کے سبک سیر قافلو
ٹھہرو کہ نظم راہ گزر کر رہے ہیں ہم
لکھ لکھ کے اشک و خوں سے حکایات زندگی
آرائش کتاب بشر کر رہے ہیں ہم
تخمینۂ حوادث طوفاں کے ساتھ ساتھ
بطن صدف میں وزن گہر کر رہے ہیں ہم
ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ
یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم