• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برصغیر کی تاریخ میں کراچی محض ایک بندرگاہ، تجارتی مرکز یا معاشی سرگرمیوں کا محور نہیں رہا، بلکہ یہ شہر علم و دانش، ادب و ثقافت، تہذیب و شائستگی اور فکری بیداری کا ایسا درخشاں مینار بھی ہے جس کی روشنی نے پورے برصغیر کے علمی اُفق کو منور کیا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں سمندر کی موجوں کے ساتھ ساتھ فکر و فن کی لہریں بھی اٹھتی رہیں، جہاں جہازوں کے ساتھ کتابیں بھی آئیں، اور تجارت کے شور میں قلم کی سرگوشیاں بھی سنائی دیتی رہیں۔

برطانوی عہدِ حکومت میں جب کراچی کی بندرگاہ کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور یہ شہر اقتصادی اعتبار سے تیزی سے ترقی کرنے لگا، تو روزگار، ملازمت اور بہتر امکانات کی تلاش میں برصغیر کے مختلف علاقوں سے اہلِ علم، اساتذہ، ادباء، شعراء، صحافی اور دانشور یہاں آ کر بسنے لگے۔

یوں کراچی صرف آبادی کے اعتبار سے نہیں، بلکہ فکری اور تہذیبی اعتبار سے بھی وسعت اختیار کرتا گیا۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور ادبی روایتوں کے یہ قافلے اس شہر میں جمع ہوئے تو کراچی ایک ایسا گلشن بن گیا جہاں اردوکے ساتھ دیگر زبانوں کی خوشبوئیں باہم مل کر ایک دلکش ادبی فضا تشکیل دینے لگیں۔

ابتدا میں اگرچہ کراچی کی شناخت ایک اُبھرتے ہوئے تجارتی شہر کی تھی، لیکن بہت جلد اس کی فضاؤں میں علم کی روشنی، ادب کی لطافت اور فکر کی حرارت رچ بس گئی۔ اٹھارویں صدی کے آخری عشروں، خصوصاً 1870ء کے بعد، یہاں علمی و ادبی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا، جو بتدریج ایک مضبوط تہذیبی روایت میں ڈھلتا چلا گیا۔

مشاعروں کی دلنشیں محفلیں، تنقیدی نشستوں کی سنجیدہ گفتگو، علمی کانفرنسوں کے فکری مباحث اور اہلِ قلم کے گھروں پر سجنے والی ادبی بیٹھکیں کراچی کی شناخت بن گئیں۔ یہ شہر نہ صرف شعر و سخن کا مرکز بنا بلکہ افکارِ تازہ کی آماجگاہ بھی ثابت ہوا۔

برطانوی عہد میں کراچی کی علمی و ادبی بیٹھکیں شہر کی تہذیبی زندگی کا نہایت اہم اور مؤثر حصہ تھیں۔ یہ محفلیں محض رسمی اجتماعات نہ ہوتیں بلکہ فکری تربیت گاہوں کا درجہ رکھتی تھیں، جہاں اہلِ قلم ایک دوسرے کے گھروں، کشادہ برآمدوں اور ادبی چوپالوں میں جمع ہو کر اپنی تازہ تخلیقات سناتے، تنقیدی آرا کا تبادلہ کرتے اور علمی موضوعات پر سیرحاصل گفتگو کیا کرتے تھے۔

ان نشستوں میں زبان و ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ، تہذیب اور سماجی مسائل بھی زیرِ بحث آتے۔ یہی محفلیں نوجوان لکھنے والوں کے لیے رہنمائی، فکری تربیت اور تخلیقی اعتماد کا سب سے مضبوط وسیلہ ثابت ہوتی تھیں۔

کراچی کے فری میسن تنظیم کے مرکز ’’ہوپ لاج ہال‘‘ کی تصویر، جہاں ہفتہ وار علمی و ادبی نشستیں منعقد ہوتی تھیں۔
کراچی کے فری میسن تنظیم کے مرکز ’’ہوپ لاج ہال‘‘ کی تصویر، جہاں ہفتہ وار علمی و ادبی نشستیں منعقد ہوتی تھیں۔

اسی دور میں کراچی کے فری میسن تنظیم کے مرکز ہوپ لاج ہال میں بھی ہفتہ وار علمی و ادبی نشستیں منعقد ہوتی تھیں، جن میں شہر کی مختلف مذہبی اور سماجی برادریوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز اہلِ دانش شریک ہوتے۔ ہندو سماج کی معروف شخصیت ڈبلیو۔ ایف۔ بھوجوانی، ایم۔ ایم۔ آر۔ شیرازی، پارسی برادری کے تعلیم یافتہ رہنما ڈی۔ ایف۔ سیٹھنا اور مسلمانوں کی نمائندگی بلوچستان و لسبیلہ کے معزز جام عالیانی خاندان کے نامور فرد جام ایوب عالیانی کرتے تھے۔

یہ نشستیں اُس کراچی کی روشن اور کثیرالثقافتی روح کی آئینہ دار تھیں جہاں مذہب، زبان اور قومیت کے اختلافات علم و ادب کے مشترکہ ذوق کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے تھے۔ مختلف پس منظر رکھنے والے اہلِ فکر و دانش ایک ہی چھت تلے جمع ہو کر مکالمے، تنقید اور تخلیقی تبادلے کے ذریعے ایک ایسی تہذیبی فضا تشکیل دیتے تھے جس نے کراچی کو برصغیر کے اہم علمی و ادبی مراکز میں ممتاز مقام عطا کیا۔

قیام پاکستان سے قبل نوجوان نسل کی فکری سرگرمیوں کا سب سے مؤثر مرکز ڈی جے سائنس کالج تھا، جو اُس دور میں صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ علم و ادب کا زندہ اور متحرک مرکز سمجھا جاتا تھا۔ یہاں قائم سندھ لٹریری سرکل اور بزمِ اردو نے نوجوان اہلِ قلم کو اظہارِ خیال، تخلیقی تربیت اور ادبی مکالمے کے وسیع مواقع فراہم کیے۔

ان علمی و ادبی انجمنوں کی سرپرستی ممتاز ماہرِ تعلیم اور دانشور ڈاکٹر ایچ ایم گربخشانی کے ذمے تھی۔ ان کی عمیق علمی بصیرت، وسیع المطالعہ شخصیت اور کشادہ نظری نے کراچی کے ادبی اُفق کو غیر معمولی وسعت عطا کی اور نوجوان نسل میں تحقیق و تخلیق کا ذوق پروان چڑھایا۔

قیامِ پاکستان کے بعد بھی ملک کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والے اہلِ قلم، دانش وروں اور محققین نے اس روایت کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے مزید وسعت اور استحکام بھی بخشا۔ کافی ہاؤسز، لائبریریاں، جامعات، علمی ادارے اور اہلِ علم کے نجی مکانات فکری و ادبی سرگرمیوں کے مراکز بن گئے۔

ان نشستوں میں ہونے والی علمی گفتگوؤں، تنقیدی مباحث اور فکری مکالموں نے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے قائم کردہ ادارے انجمن ترقی اردو کے دفتر میں باقاعدگی سے علمی و ادبی نشستیں منعقد ہونے لگیں، جنہوں نے کراچی کو اردو زبان و ادب کے ایک مؤثر مرکز کے طور پر مستحکم کیا۔

کراچی کے فری میسن تنظیم کے مرکز ’’ہوپ لاج ہال‘‘ کی تصویر، جہاں ہفتہ وار علمی و ادبی نشستیں منعقد ہوتی تھیں۔
کراچی کے فری میسن تنظیم کے مرکز ’’ہوپ لاج ہال‘‘ کی تصویر، جہاں ہفتہ وار علمی و ادبی نشستیں منعقد ہوتی تھیں۔

معروف ادیب رمضان بلوچ کے مطابق 1960ء کی دہائی میں لیاری کی فضا میں تخلیقی شعور، فکری مکالمے اور ادبی سرگرمیوں کی ایسی مہک رچی بسی تھی کہ یہ علاقہ کراچی کے ثقافتی منظرنامے میں ایک ممتاز اور یادگار مقام اختیار کر گیا تھا۔

کراچی میں قیام کے دوران ممتاز ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی ادبی اور فکری نشستیں شہر کے مختلف علمی و ثقافتی مراکز میں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ عبداللہ ہارون کالج لیاری جہاں وہ بطور پرنسپل خدمات انجام دیتے رہے، ان کی علمی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز تھا۔ اس کے علاوہ غالب لائبریری ناظم آباد بھی اہلِ قلم اور دانشوروں کی ملاقاتوں کا معتبر مقام تھا۔

نجی محفلیں اکثر ان کے قریبی احباب اور ممتاز ادیبوں، مثلاً شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی اور دیگر ترقی پسند مفکرین کے گھروں میں منعقد ہوتیں، جہاں ادب، سیاست، فلسفے اور سماجی مسائل پربصیرت افروز مباحث ہوتے تھے۔

لیاری کے علاقے میں معروف ترقی پسند دانشور لعل بخش رند کے گھر ہر ہفتے ایک ادبی نشست منعقد ہوتی تھی۔ یہ محفل اپنے کشادہ ظرف اور روشن خیال مزاج کے باعث خاص اہمیت رکھتی تھی، جہاں مذہب، قومیت اور زبان کے تمام امتیازات مٹ جاتے اور صرف فکر و فن کی روشنی باقی رہ جاتی۔ ان نشستوں میں ڈاکٹر مراد حسن، شیخ نور محمد، پروفیسر ن م دانش، معروف صحافی نادر شاہ عادل، رحیم بخش آزاد، رمضان بلوچ اور دیگر اہلِ علم و قلم شریک ہو کر ادب، فلسفے، سیاست اور سماجی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کرتے تھے۔

اسی دور میں چاکی واڑہ کی مشہور سلیمان ٹی شاپ بھی ادبی و فکری سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز تھی۔ یہاں معروف ادیب ابوبکر بارک زئی اپنے رفقا کے ساتھ ایسی بامعنی محفلیں آراستہ کرتے تھے جو تخلیقی مباحث، ادبی تبادلۂ خیال اور فکری ہم آہنگی کی دل نشین مثال بن جاتی تھیں۔

کراچی کے فری میسن تنظیم کے مرکز ’’ہوپ لاج ہال‘‘ کی تصویر، جہاں ہفتہ وار علمی و ادبی نشستیں منعقد ہوتی تھیں۔
کراچی کے فری میسن تنظیم کے مرکز ’’ہوپ لاج ہال‘‘ کی تصویر، جہاں ہفتہ وار علمی و ادبی نشستیں منعقد ہوتی تھیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس دور کا لیاری صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں تھا بلکہ علم، ادب، شعور اور انسان دوستی کا ایک روشن استعارہ تھا، جہاں چائے خانوں، نجی بیٹھکوں اور ادبی نشستوں میں ایسے افکار نے جنم لیا جنہوں نے کراچی کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

گارڈن ایسٹ میں ممتاز ماہرِ قانون خالد اسحاق کی رہائش گاہ ہفتہ وار علمی و فکری نشستوں کا اہم مرکز تھی۔ ان مجالس میں پروفیسر خورشید احمد، ڈاکٹر محمود حسین، مولانا غلام محمد، مولانا حسن مثنیٰ ندوی، اور صحافی احمد اسحاق سمیت متعدد اہلِ علم شریک ہوتے تھے۔

گارڈن ایسٹ میں دانشور ، شاعر صحافی رئیس امروہوی کا گھر بھی کراچی کے ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں کی ایک معروف بیٹھک تھا، جہاں ادب کے ساتھ ساتھ علمِ نجوم اور فلکیات پر بھی دلچسپ اور سنجیدہ گفتگو ہوتی تھی۔

ناظم آبادنمبر چار میں مولانا متین خطیب کی رہائش گاہ اہلِ علم کا مرکز بنی رہتی تھی، جہاں نواب صدیق علی خان اور دیگر ممتاز شخصیات شرکت کرتی تھیں۔ ناظم آباد نمبر دو میں علامہ ابن حسن جارچوی کے گھر منعقد ہونے والی نشستیں اپنے علمی وقار کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی تھیں۔

ان میں مولانا حسن مثنیٰ ندوی، انتظام اللہ شہابی، پروفیسر محمد ایوب قادری، مولانا حکیم قاری احمد پیلی بھیتی اور مفتی محمد عمر نعیمی جیسی اہم شخصیات شریک ہو کر علمی، فکری اور قومی موضوعات پر اظہارِ خیال کرتی تھیں۔

اسی نوع کی علمی و فکری نشستوں کا ایک روشن سلسلہ 1980،اور 1970ء کی دہائی میں بھی دیکھنے میں آیا، جب ممتاز عالمِ دین علامہ طالب جوہری کی رہائش گاہ اہلِ علم و دانش کا مرکز بنی رہتی تھی، جن میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع، دونوں مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علما، ادبا اور دانشور شریک ہوتے تھے۔ یوں یہ نشستیں علمی مکالمے، فکری تبادلے اور باہمی احترام و رواداری کی ایک حسین مثال بن جاتی تھیں۔ علامہ طالب جوہری اپنی غیر معمولی علمی بصیرت، وسیع مطالعے اور دل نشیں اندازِ بیان کے باعث ان محفلوں کی روحِ رواں ہوتے تھے۔

کراچی میں اہلِ علم، اہلِ دل اور دوستوں کے درمیان رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ کافی ہاؤس، چائے خانے اور چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹس ہوا کرتے تھے۔ یہی وہ مقامات تھے جہاں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ شام ڈھلے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھتے، گپ شپ لگاتے، ادب و دانش کی گرہیں سلجھاتے اور بحث کرتے نظر آتے تھے۔

ناظم آباد نمبر 1 کی تاریخ میں بھی ایک ایسا ہی روشن باب 1963ء میں لکھا گیا جب ایرانی نژاد حسن علی نے یہاں پہلا کیفے ’’الحسن کافی ہاؤس‘‘ کے نام سے قائم کیا۔ جس کا افتتاح ممتاز شیعہ عالمِ دین اور خطیب علامہ رشید ترابی نے کیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ کیفے صرف چائے پینے کا نہیں بلکہ علم وادب، صحافت اور فنون کا ایک جیتا جاگتا مرکز بن گیا۔

یہاں اکثر ایسی شخصیات کی محفلیں سجا کرتی تھیں جنہوں نے پاکستان کے فکری و ادبی منظرنامے کو نئی جہتیں دیں۔ ان میں علامہ طالب جوہری، خالد علیگ، ممتاز صحافی حضور احمد شاہ، قریش پور، عبید اللہ بیگ، نیر بن سوز، نصیر ترابی، افتخار عارف، خواجہ رضی حیدر، پیرزادہ قاسم، سید یونس شرر، پروفیسر وسیم فاضلی، عابد علی سید اور اقبال فتح پوری جیسے نام شامل تھے۔ادبی دنیا کے نامور قلمکار عزیز حامد مدنی، نگار صہبائی، اطہر نفیس، اسد محمد خان، نسیم درانی، عبید اللہ علیم، سید یاور مہدی، پروفیسر مجتبیٰ حسین، احمد ہمدانی اور سید شاہ خلیل اللہ جنیدی بھی یہاں بیٹھک لگایا کرتے تھے۔

معروف ماہر تعلیم و فلاسفر ڈاکٹر منظور احمد کے گلشنِ اقبال میں واقع دولت کدے پر علمی و ادبی نشستوں کا انعقاد ایک یادگار روایت کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ محفلیں محض تبادلۂ خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ فکر و دانش کے سنجیدہ مکالمے کی ایسی مجالس تھیں جہاں اہلِ علم و قلم عصرِ حاضر کے اہم دینی، فکری اور قومی موضوعات پر اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔

ان نشستوں میں شرکت کے لیے باقاعدہ تحریری دعوت نامے ارسال کیے جاتے تھے، جن میں زیرِ بحث موضوع کی صراحت کے ساتھ شرکاء کو اظہارِ خیال کی دعوت دی جاتی تھی۔ موضوعات نہایت فکر انگیز اور عصری اہمیت کے حامل ہوتےتھے۔ ماحول نہایت سادہ مگر پرخلوص ہوتا۔ فرشی نشست میں اہلِ علم حلقہ بنائے بیٹھتے، دلائل و افکار کے چراغ روشن ہوتےاور مجلس کے اختتام پر چائے سے تواضع کی جاتی، جو اس علمی محفل کو مزید محبت آشنا بنا دیتی تھی۔

کراچی کے علمی و ادبی حلقوں میں سلیم احمد کی جہانگیر روڈ پر واقع رہائش گاہ ایک منفرد ادبی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہاں ہر ہفتے باقاعدگی سے ایک پُرمغز ادبی نشست منعقد ہوتی، جو اہلِ قلم، شعرا، نقاد اور دانش وروں کے لیے فکری و تخلیقی تبادلۂ خیال کا اہم فورم سمجھی جاتی تھی۔

یہ محفلیں محض شعری و نثری تخلیقات کی قرأت تک محدود نہ رہتیں بلکہ ادب، تنقید، فلسفہ، تہذیب اور معاشرت کے گوناگوں موضوعات پر سنجیدہ اور بصیرت افروز گفتگو کا ذریعہ بنتیں۔

معروف علمی شخصیت اور قائداعظم اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر خواجہ رضی حیدر کے مطابق 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں کراچی کے مختلف علاقوں میں اہلِ علم و ادب کی مستقل بیٹھکیں ہوا کرتی تھیں۔ مختلف ایرانی اور ملباری ہوٹل بھی علمی و ادبی بیٹھکوں کے لیے غیر رسمی مگر نہایت مؤثر مراکز کی حیثیت رکھتے تھے۔

یہاں ادیب، شعرا، صحافی اور دانش ور شام ڈھلے جمع ہوتے اور ادب، سیاست، فلسفہ اور معاشرتی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کرتے۔ صدر میں واقع کیفے جہاں ایسی ہی ایک معروف نشست گاہ تھی، جہاں دانشوروں، ادیبوں اور مزدور رہنماؤں کی محفلیں آباد رہتی تھیں۔ ان محفلوں میں فتحیاب علی خان، علی مختار رضوی، حسن چریا جانی، سید خورشید ۔علی، عثمان بلوچ اور عباس مہکری جیسے نامور اہلِ فکر شریک ہوتے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل بلاشبہ ہمارے عہد کی اُن ممتاز علمی و ادبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو خاموشی، وقار اور مستقل مزاجی کے ساتھ علم و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کی رہائش گاہ، گلستانِ جوہر، کراچی میں منعقد ہونے والی علمی نشستیں اہلِ دانش کے لیے ایک معتبر اور دل آویز مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

ان نشستوں میں ڈاکٹر روف پاریکھ ،ڈاکٹر یونس حسنی، ڈاکٹرنجیبہ عارف، پروفیسر نگار سجاد ظہیر، طاہر مسعود ،طارق فضلی، ڈاکٹر جاوید خورشید سمیت متعدد اہلِ علم و فضل شریک ہوتے ہیں، جہاں ادب، تاریخ، تحقیق اور تہذیبی موضوعات پر نہایت بصیرت افروز گفتگو ہوتی ہے۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل ہر اتوار کو منعقد ہونے والی ان علمی مجالس کے ذریعے نئی نسل کی فکری و ذہنی آبیاری میں براہِ راست کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے دور میں جب کتاب سے دوری اور مطالعے سے بے اعتنائی ایک عمومی رویّہ بنتی جا رہی ہے، وہ نوجوانوں کے دلوں میں کتاب دوستی، مطالعے کے شوق اور علمی جستجو کی شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں۔

ان کی یہ کاوش نہ صرف “کتاب گریزی” کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف ایک مؤثر علمی جدوجہد ہے بلکہ ’’کتاب شناسی‘‘ اور شعورِ مطالعہ کے فروغ کی ایک روشن اور قابلِ تقلید مثال بھی ہے۔

ان دنوں آرٹس کونسل کراچی،کراچی پریس کلب، داود فاونڈیشن کا ٹی ڈی ایف گھر، معروف ٹاون پلانر عارف حسن کا ادارہ اربن ریسورس سینٹر اور ڈیفنس میں واقع دی ٹی ٹو ایف (سیکنڈ فلور) اپنے تہذیبی اور فکری ماحول کے باعث اہلِ قلم کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں ادبی، فکری اور ثقافتی نشستیں منعقد ہوتی رہتی ہیں، جہاں مکالمے کی روشنی میں نئے خیالات جنم لیتے ہیں اور تخلیقی ذہنوں کو اظہار کا مؤثر پلیٹ فارم میسر آتا ہے۔

آج اگرچہ ڈیجیٹل دور نے رابطے اور اظہار کی بے شمار نئی صورتیں پیدا کر دی ہیں، تاہم کراچی کی قدیم علمی و ادبی بیٹھکوں کی اہمیت، اثرات اور تہذیبی بازگشت آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ محفلیں ہمیں اس بنیادی حقیقت کی یاد دلاتی ہیں کہ قوموں کی فکری و تہذیبی تعمیر محض درس گاہوں اور جامعات تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اُن غیر رسمی نشستوں میں بھی پروان چڑھتی ہے جہاں خیالات کو آزادانہ اظہار کا موقع ملتا ہے، اختلافِ رائے کو وسعتِ قلب کے ساتھ برداشت کیا جاتا ہے، اور علم و ادب کو زندگی کا جوہر اور انسانی ارتقا کا بنیادی وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔

کراچی کی علمی و ادبی بیٹھکیں درحقیقت اس عظیم شہر کی تہذیبی روح اور فکری شناخت کی آئینہ دار تھیں۔ یہی وہ محفلیں تھیں جنہوں نے اس بندرگاہی شہر کو علم و دانش کا مرکز بنایا، نئی نسلوں میں تخلیقی شعور بیدار کیا، اور اردو و سندھی ادب کو ایسے نابغۂ روزگار اہلِ قلم، دانشور اور اہلِ فکر عطا کیے جن کی خدمات ہمیشہ قدر و احترام کے ساتھ یاد رکھی جائیں گی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ اس تابناک روایت کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نئے انداز میں زندہ کیا جائے، تاکہ کراچی ایک بار پھر علم، ادب، مکالمے اور فکری رواداری کی اسی درخشاں روایت کا امین بن سکے، اور آنے والی نسلوں کے لیے تہذیب، شعور اور تخلیق کا روشن مینار ثابت ہوں۔