نیپال کے مختلف علاقے ان دنوں تباہ کُن سیلابی ریلے کی زد میں ہیں، ایسے میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے ہر ایک کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں سیلابی ریلے چھوٹی بڑی عمارتوں کو تہس نہس کررہے ہیں، ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں، ایسے میں ایک چھوٹا سا خاندان اپنے سبز رنگ کے گھر میں زندگی بچانے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
چاروں جانب پانی میں گھرے خاندان کے افراد بالکونی میں سمٹ کر بیٹھے ہیں اور اُمید کر رہے ہیں کہ ان کا معمولی سا گھر پانی کے مسلسل دباؤ کو برداشت کر لے گا اور وہ اگلا دن دیکھ سکیں گے۔
حیران کن طور پر ناصرف خاندان کے تمام افراد محفوظ رہے بلکہ گھر بھی سیلاب کی تباہ کن موجوں کے باوجود اپنی جگہ قائم رہا۔
تعمیراتی ڈھانچے کے ماہرین بھی اس بحث میں شامل ہوئے اور ان کا کہنا ہے کہ گھر کا بچ جانا محض خوش قسمتی نہیں تھا، جہاں آس پاس کی بیشتر عمارتیں پانی کی زد میں آنے کے چند ہی منٹوں میں منہدم ہوگئیں، وہیں یہ گھر مضبوطی سے کھڑا رہا۔
ایکس پر موجود آرکیٹیکچر پرزینٹیشن نامی اکاؤنٹ کے مطابق نیپال کی ہمالیائی وادیوں میں زیادہ تر گھر پتھر کی چنائی سے تعمیر کیے جاتے ہیں اور ان میں عموماً مضبوط کنکریٹ کا فریم موجود نہیں ہوتا۔
مذکورہ اکاؤنٹ کے مطابق روایتی گھروں کے ڈیزائن عمودی وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم جب ان پر اطراف سے شدید دباؤ پڑتا ہے تو ان کا ڈھانچہ اندر کی جانب منہدم ہو سکتا ہے۔
اس گھر کی خاص بات یہ تھی کہ اسے آر سی سی کنکریٹ کے فریم پر تعمیر کیا گیا تھا۔
ویڈیو میں بتایا گیا کہ مسلسل اسٹیل کے سریوں نے ستونوں، شہتیروں اور بنیاد کو آپس میں جوڑ کر ایک مضبوط اور یکجا ڈھانچے کی شکل دے دی تھی۔
جب کیچڑ اور پانی کا شدید ریلہ گھر سے ٹکرایا تو مضبوط کنکریٹ کے فریم نے اس افقی قوت کو جذب کیا اور اسے زمین تک منتقل کر دیا، جس سے عمارت اپنا توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، جبکہ گھر کی جگہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ نیپال میں آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب میں 900 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 3000 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔