موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا کے آبی ذخائر پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، عالمی ادارہ موسمیات کی تشویشناک رپورٹ سامنے آگئی۔
رپورٹ کے مطابق 2025ء دریاؤں کے لیے گزشتہ 35 برس کے دوران خشک ترین برسوں میں شامل رہا، جبکہ دنیا کے 36 فیصد دریائی علاقوں میں پانی کا بہاؤ معمول سے کم ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی ادارہ موسمیات کے مطابق گلیشیئرز کے پگھلنے، زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہونے، شدید خشک سالی اور سیلاب کے باعث میٹھے پانی کے ذخائر تیزی سے گھٹ رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2010ء کی دہائی کے وسط سے دنیا کے مجموعی آبی ذخائر میں مسلسل کمی آرہی ہے۔
2025ء میں مسلسل چوتھے سال دنیا کے تمام بڑے گلیشیئر علاقوں میں برف کے ذخیرے میں مجموعی کمی ریکارڈ کی گئی، صرف ایک سال کے دوران گلیشیئرز سے 408 گیگا ٹن برف پگھلی جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح میں تقریباً 1.1 ملی میٹر اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 2023ء سے 2025ء کے دوران گلیشیئرز سے تقریباً 1400 گیگا ٹن برف پگلی۔
عالمی ادارہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دنیا اپنے پانی کے ذخائر کو تیزی سے استعمال کررہی ہے۔
دوسری جانب تازہ سائنسی تحقیق میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کو نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب کی بڑی وجوہات میں شامل قرار دیا گیا ہے۔
ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلی اور متعدد ارضیاتی عوامل نے گلیشیئر کے پھٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تحقیق کے مطابق انسانی سرگرمیوں کے اثرات کے باعث خطے میں جولائی اور اگست کا درجہ حرارت معمول سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔
درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے سے پہاڑی ڈھلوانیں شدید غیر مستحکم ہوگئیں۔