کراچی (سید محمد عسکری) جامعہ کراچی میں مستقل وائس چانسلر کی عدم موجودگی کے دوران اضافی چارج کے حامل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل نے ایسے اہم انتظامی اور مالی فیصلے کرنا شروع کردیئے ہیں جو انہوں نے اپنی مستقل جامعہ، این ای ڈی یونیورسٹی، میں بھی نہیں کیے۔بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر محمد طفیل نے جامعہ کراچی میں دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے رجسٹرار کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ این ای ڈی یونیورسٹی میں 2012ء سے نئی بھرتیوں پر پابندی عائد ہے اور وہاں دورانِ ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کے کوٹے پر تاحال کوئی تقرری نہیں کی گئی۔ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی کی کمزور مالی حالت کے باوجود یونیورسٹی کے ملازمین اور ریسرچ اسکالرز کو ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں کی مختلف فیسوں میں رعایت دے دی گئی ہے، جب کہ این ای ڈی یونیورسٹی میں ملازم ریسرچ اسکالرز کو یہ سہولت مخصوص مدت تک تدریسی فرائض انجام دینے سے مشروط ہے۔جامعہ کراچی میں انتظامی تبدیلیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایڈیشنل رجسٹرار ارمان کو گریڈ 17 کے حامل ملازمین کو سلیکشن بورڈ کے بغیر اگلے گریڈ میں ترقی دینے کی تجویز سے اختلاف کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا، جب کہ سیمسٹر سیل کے انچارج ڈاکٹر تفسیر کو بھی ان کے عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ ڈاکٹر زاہد احمد پیرزادہ کو کوالٹی انہانسمنٹ سیل کا ڈائریکٹر، جب کہ لیکچرار کاشف ریاض کو مشیر برائے ٹرانسپورٹ مقرر کردیا گیا ہے۔دوسری جانب جامعہ کراچی نے تدریسی سیشن اور سیمسٹر کے دوران اساتذہ کے نجی مقاصد، عزیز و اقارب کی بیماری، عمرے کی ادائیگی اور دیگر ذاتی وجوہات کی بنیاد پر اندرون و بیرون ملک جانے اور چھٹیاں لینے پر پابندی عائد کردی ہے۔ تاہم اسٹڈی لیو، زچگی، حج اور عدت کی چھٹیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پابندی کے نفاذ کے بعد اضافی چارج کے حامل وائس چانسلر ڈاکٹر محمد طفیل خود بیرونِ ملک روانہ ہوگئے، جس کے بعد جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کے عہدے کا چارج کلیہ فارمیسی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر حارث شعیب کو دے دیا گیا ہے۔ڈاکٹر محمد طفیل کی بیرونِ ملک روانگی سے قبل جنگ نے ان سے موقف لینے کی کوشش کی اور دریافت کیا کہ انہیں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر کا صرف اضافی چارج دیا گیا ہے، جب کہ سرچ کمیٹی مستقل وائس چانسلر کے لیے تین امیدواروں کا انتخاب کرکے ان کے نام کلیئرنس کے لیے بھجوا چکی ہے اور آئندہ چند روز میں مستقل وائس چانسلر کی تقرری متوقع ہے۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس صورتِ حال میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، نئے کنٹریکٹ کا اجرا، اکیڈمک کونسل کا اجلاس طلب کرنے، تبادلوں اور تقرریوں سمیت دوررس نوعیت کے فیصلے کیوں کیے جارہے ہیں، جو بظاہر مستقل وائس چانسلر کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، تاہم ڈاکٹر محمد طفیل نے ان سوالات کا جواب نہیں دیا۔