امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ساتویں مہینے میں داخل ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد سخت ردِعمل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو ’سخت جواب‘ دے گا۔
تازہ صورتِ حال سے متعلق عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام ایک ایسی حکمتِ عملی پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کے خلاف وقفے وقفے سے محدود فوجی حملے کیے جائیں تاہم مکمل جنگ سے گریز کیا جائے۔
امریکی میڈیا ایکسیوس کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت برقرار رکھنا اور ایران پر مسلسل دباؤ قائم رکھنا ہے۔
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جزیرے لارک پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، واشنگٹن کا دعویٰ تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے 2 راکٹ لانچر آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملے میں 3 افراد شہید ہوئے، اس کے بعد ایران نے اردن میں موجود 2 فوجی اڈوں پر میزائل داغے جہاں امریکی فوجی اور فوجی ساز و سامان موجود تھا، اردن کے مطابق اس نے 8 میزائل روک لیے۔
اس کے جواب میں ٹرمپ نے ایران کو دوبارہ سخت ترین حملے کی دھمکی دی تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ تازہ جھڑپوں کا مطلب لازماً مکمل جنگ کی واپسی نہیں ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کی مالیاتی نظام، فوج اور قیادت کو بڑی حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی گزشتہ 6 ماہ کے دوران کئی بار تبدیل ہوئی ہے، جنگ کے آغاز میں امریکا نے تقریباً 40 روز تک بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کیں جس کے بعد جنگ بندی ہوئی۔
جون میں امریکا اور ایران نے 60 روز کے لیے جنگ بندی اور وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک مفاہمتی معاہدہ کیا تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول سمیت اہم معاملات پر معاہدے کی مبہم شرائط کے باعث دونوں ممالک ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہے اور معاہدہ ختم ہو گیا۔
جولائی میں امریکا نے دوبارہ ایران پر حملے شروع کیے جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا۔
بعد ازاں امریکا نے براہِ راست فوجی کارروائیوں کے بجائے معاشی دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کی، امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اس کی تیل کی آمدنی اور عالمی مالیاتی مفادات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
امریکا نے ایران کے تیل کی فروخت میں مدد دینے والے 60 اداروں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے دیگر ممالک اور کمپنیوں کو بھی ثانوی پابندیوں کی دھمکی دی۔
امریکی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ایران معاشی دباؤ کے باعث فوجی ردِعمل دے رہا ہے تاہم ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس زرِمبادلہ کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کیے گئے مبصرین کے تبصرے کے مطابق موجودہ صورتِ حال ایک ایسی غیر مستحکم کیفیت اختیار کر رہی ہے جس میں نہ مکمل جنگ ہے اور نہ حقیقی امن۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف وقفے وقفے سے محدود حملے کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت محفوظ بنائی جا سکے تاہم یہ منصوبہ ابھی ٹرمپ کی حتمی منظوری کا منتظر ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے مارچ میں جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر دیا تھا اور صرف چند ’دوست‘ سمجھے جانے والے بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی بحریہ جہازوں کو کامیابی سے اس راستے سے گزار رہی ہے۔
ایران نے مفاہمتی معاہدہ ختم ہونے کے بعد امریکا کے ساتھ براہِ راست سفارتی رابطوں سے گریز کیا ہے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق صرف عمان کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔
کوئنسی انسٹیٹیوٹ کے شریک بانی ٹریٹا پارسی کے مطابق کسی ملک پر وقفے وقفے سے بمباری کرنا ایک ’لامتناہی جنگ‘ کا راستہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ مسئلے کا فوجی، معاشی یا سفارتی حل تلاش کرنے کے بجائے مستقل جنگ کے ذریعے اسے قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق محدود اور وقفے وقفے سے کیے جانے والے حملے بھی طویل مدت میں امریکا کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف تہران کے محقق محمد اسلامی کے مطابق امریکا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے ایک ’متوازن‘ تنازع برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن موجودہ جنگ خود واشنگٹن کی کئی غلط اندازوں کا نتیجہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود حملوں کا سلسلہ کسی بھی وقت بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن میں قائم سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی ماہر نگار مرتضوی کے مطابق مفاہمتی معاہدہ ختم ہونے کے بعد کشیدگی میں دوبارہ اضافہ تقریباً ناگزیر ہو گیا تھا، اگر امریکا معاہدے کی طرف واپس آتا ہے تو ایران بھی مذاکرات کی جانب آ سکتا ہے جبکہ فوجی دباؤ جاری رہنے کی صورت میں ایران مزید ردِعمل بھی دے سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 100 جہازوں سے کم ہو کر اب اوسطاً صرف 7 جہاز روزانہ رہ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران معاشی دباؤ کے سامنے آسانی سے ہتھیار نہیں ڈالے گا، دونوں ممالک یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم کشیدگی کو قابو میں رکھ سکتے ہیں لیکن ہر نئی جھڑپ وسیع تر علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔
امریکی فوج کی طویل مدتی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، امریکی میڈیا میں دعوے سامنے آئے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے پاس اہم میزائلز، خصوصاً پیٹریاٹ دفاعی میزائلز کے ذخائر کم ہو رہے ہیں تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اس کی تردید کی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ کے سیاسی اثرات بھی ٹرمپ کے لیے اہم مسئلہ بن رہے ہیں، طویل جنگ اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امریکا میں ٹرمپ کی مقبولیت کم ہوکر 33 فیصد رہ گئی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کا آغاز امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی سے شروع ہوا تھا تاہم اب دونوں ممالک کی ترجیحات میں فرق نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ ایک بار پھر کہا کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے، اگرچہ ایران کے موجودہ جوہری ہتھیار بنانے کے پروگرام کے بارے میں کوئی واضح ثبوت موجود نہیں ہیں۔
اسرائیل نے اپریل میں ہونے والی ابتدائی جنگ بندی کے بعد ایران پر صرف 1 مرتبہ براہِ راست حملہ کیا تاہم جون کے مفاہمتی معاہدے کے معاملے میں اسرائیل کا رویہ رکاوٹ کا باعث بنا۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان سے اپنی فوج واپس لینے سے انکار کیا حالانکہ معاہدے میں تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل تھی۔
دوسری جانب امریکا جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کی ترجیحات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، جنگ کے معاشی و سیاسی نقصانات کم کرنا اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کشیدگی کو محدود رکھنا شامل ہے۔
ٹریٹا پارسی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مفادات اب مکمل طور پر یکساں نہیں رہے کیونکہ امریکا ایران کے ساتھ لامتناہی جنگ میں دلچسپی نہیں رکھتا۔