آپ کے مسائل اور اُن کا حل
سوال: حرام جانور سے بنائے گئے جیلاٹن میں کیا ماہیت تبدیل ہوتی ہے؟ جس کھانے میں حرام جانور سے بنا ہوا جلاٹین پایا جائے، کیا وہ حلال ہے یا نہیں؟
جواب: جیلاٹن بنانے کے عمل میں ماہیت کی تبدیلی نہیں پائی جاتی، لہٰذا حرام جانور سے حاصل شدہ جیلاٹن حرام ہی رہے گا اور جس کھانے میں حرام جیلاٹن ملایا گیا ہو، اس کا کھانا بھی حلال نہیں ہوگا۔
جیلاٹن کے حلال اور حرام ہونے کا مدار اس کے ماخذ (جس سے حاصل کیا گیا ہو، اس) پر ہے، جیلاٹن اگر ایسے حلال جانور سے حاصل کیا گیا ہو، جس کو شرعی طریقے پر ذبح کیا گیا ہو، وہ حلال ہے اور اس کا استعمال کرنا بھی جائز ہے اور جس کھانے میں وہ شامل کیا گیا ہو، وہ کھانا بھی حلال ہے۔ اور جو جیلاٹن حرام جانور سے یا حلال مردار جانور سے حاصل کیا گیا ہو، تو ایسا جیلاٹن حرام ہے اور جس چیز میں حرام جیلاٹن ملایا گیا ہو، وہ کھانا بھی ناجائز ہے۔ (کفایت المفتی، ج:2، ص:231، 232، ط:دار الاشاعت)