ڈاکٹر نعمان نعیم
معلومات کو حفظ کرنا بمقابلہ سمجھنا: نبی کریم ﷺ نے اس فرق کو یوں واضح فرمایا: ترجمہ: "بہت سے علم کا بوجھ اٹھانے والے (معلومات رکھنے والے) اسے ایسے شخص تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھدار اور باریک بین ہوتا ہے۔"(سنن الترمذی)
3. سیرتِ طیبہ کی روشنی میں (عملی مہارتیں اور حکمت عملی)تخصص اور جدید مہارتوں کا حصول :۔ نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کی انفرادی صلاحیتوں کو پہچان کر ان میں مخصوص مہارتیں پیدا کیں۔ مثلاً حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ بین الاقوامی خط و کتابت کے لیے "سریانی زبان" سیکھیں، اور انہوں نے محض 15 دن میں اس پر مکمل عبور حاصل کر لیا۔
مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت :۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر جب مدینہ کو شدید خطرہ لاحق ہوا، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کی تکنیکی و دفاعی تجویز پیش کی۔ نبی کریم ﷺ نے اس جدید اور عملی مہارت کو قبول کیا اور خود بھی خندق کی کھدائی میں عملی حصہ لیا۔
ہاتھ کے ہنر اور تکنیکی صلاحیت کی عزت: رسول اللہ ﷺ نے محض زبانی باتوں کے بجائے عملی ہنر کو پسند فرمایا: ترجمہ: "کسی انسان نے اس سے بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا جو اس نے اپنے ہاتھ کی محنت سے کمایا ہو۔" (صحیح البخاری)
موجودہ ڈیجیٹل دور میں لامتناہی معلومات اور مصنوعی چمک دمک نے نوجوانوں کو شدید فکری انتشار اور مقصدِ حیات سے دوری کا شکار کر دیا ہے۔ قرآن، حدیث اور سیرتِ طیبہ میں اس کا مکمل فکری و عملی حل موجود ہے۔
1. فکری انتشار اور ڈیجیٹل انفارمیشن (قرآن کی روشنی میں)
معلومات کی تصدیق اور تحقیق: ڈیجیٹل میڈیا پر روزانہ ہزاروں غیر مصدقہ خبریں، سنسنی اور فکری گمراہیاں پھیلتی ہیں۔ قرآنِ کریم اس فکری انتشار کا سدِ باب تحقیق کا اصول دے کر کرتا ہے: ترجمہ: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔"(سورۃ الحجرات: 6)
مقصدِ حیات کی یاد دہانی: سوشل میڈیا اور ورچوئل دنیا انسان کو مادی لذتوں اور محض تفریح میں الجھا کر حقیقی مقصد سے غافل کر دیتی ہے، جبکہ قرآن کائنات میں انسان کے اصل مقام کی نشاندہی کرتا ہے: ترجمہ: "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔"(سورۃ الذاریات: 56)
2. لغو اور بے مقصد امور سے پرہیز (احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں)
لاینفع امور سے اجتناب :۔ ڈیجیٹل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان بغیر کسی مقصد کے گھنٹوں فالتو مواد میں وقت ضائع کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ترجمہ: "انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر اس چیز کو چھوڑ دے جو اس کے لیے بے فائدہ اور لاینفع ہو۔"(سنن الترمذی)
وقت اور اعصاب کی جوابدہی:رسول اللہ ﷺ نے خبردار فرمایا کہ انسان کا وقت اور اس کی صلاحیتیں امانت ہیں: "قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتے جب تک کہ اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں ضائع کیا۔"(سنن الترمذی)
3. فکری سکون (سیرتِ طیبہ کی روشنی میں)غارِ حرا کا سبق (خلوت اور تدبر): بعثت سے قبل، جب مکہ کا معاشرہ اخلاقی و فکری انتشار کا شکار تھا، نبی کریم ﷺ غارِ حرا میں جا کر وقت گزارتے اور تفکر و تدبر فرماتے تھے۔ سیرت کا یہ عمل آج کے نوجوان کو سکھاتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے شور سے نکل کر وقتاً فوقتاً خلوت اور خود احتسابی اختیار کرنا فکری سلامت کے لیے ضروری ہے۔
مقصدِ حیات پر پختگی:مکہ کے سرداروں نے آپ ﷺ کو دنیاوی آسائشیں، مال اور اقتدار کی پیشکش کی، تاکہ آپﷺ اپنے مقصد سے ہٹ جائیں، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی رکھ دیا جائے، تب بھی میں اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔"
یہ نوجوانوں کے لیے مثال ہے کہ حالات یا ڈیجیٹل میڈیا کے رجحانات کے دباؤ میں اپنے اصل ہدف کو فراموش نہ کریں۔ یونیورسٹی میں اس نکتے کو یوں پیش کیا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا صرف ایک آلہ ہے، زندگی کا مقصد نہیں۔ جب تک انسان کا رشتہ تحقیق، تفکر اور سیرتِ طیبہ سے مضبوط رہے گا، وہ فکری گمراہی اور مقصدِ حیات کی دھندلاہٹ سے محفوظ رہے گا۔