آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: آج سے دس سال پہلے کی بات ہے، مجھے پیسوں کی سخت ضرورت تھی، میں نے ایک صاحب سے رقم کا تقاضا کیا، انھوں نے کہا کہ رقم تو میرے پاس نہیں ہے، البتہ پانچ تولہ سونا موجود ہے، وہ قرض کے طور پر لے لو، اور جب سہولت ہو اتنا ہی سونا مجھے واپس کردینا، میں نے اسے منظور کرلیا، انھوں نے میری موجودگی میں سنار سے اس کا وزن کروایا تو وہ مکمل پانچ تولہ سونا تھا۔
اب دس سال بعد سونے کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے اور مجھے ان کا قرض ادا کرنا ہے، کیا میں دس سال پہلے کی قیمت کے مطابق رقم ادا کرسکتا ہوں؟ اس سے میں بری الذمہ ہو جاؤں گا؟
جواب: چوں کہ آپ نے بطورِ قرض پانچ تولہ سونا لیا تھا ؛ لہٰذا اصل حکم تو یہی ہے کہ آپ کے ذمے پانچ تولہ سونا واپس کرنا لازم ہے۔ تاہم اگر وہ شخص سونے کے بجائے رقم لینے پر راضی ہو تو پانچ تولہ سونے کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے آپ کو قرض ادا کرنا ہوگا، کیوں کہ ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز قرض کے طور پر لی جائے، اسی کی جنس میں سے اتنی ہی مقدار واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، اور وہ چیز دستیاب نہ ہو تو اس کی موجودہ قیمت ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
البتہ اگر مذکورہ شخص اپنی خوشی سے سونے کی دس سال پہلے کی قیمت کے مطابق یا موجودہ قیمت میں سے کچھ معاف کرکے اپنا قرض واپس لینے پر راضی ہے تو یہ قرض خواہ کا حق ہے کہ وہ اپنا مکمل قرض یا اس کا کچھ حصہ معاف کردے۔ (ردّ المحتار علیٰ الدرالمختار، ج:5، ص:265 ط: سعید - و ج: 6 ص: 525 ط: دارالفکر)