تفہیم المسائل
سوال: خواتین کی محافلِ میلاد اگر چار دیواری یا چاروں طرف سے بند شامیانے میں ہوں، آواز عورتوں تک محدود رہے اور بیرونی لاؤڈ اسپیکر نہ ہو، تو جواز اور عدمِ جواز کے بارے میں ان کا شرعی حکم کیا ہے؟ ، ( قاضی احمد نورانی صدیقی ، کراچی)
جواب: خواتین کی مُروّجہ محافلِ میلاد ونعت کسی اعتبار سے شرعی تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں اور اُن کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اور عورتیں اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اس زینت کا لوگوں کو علم ہوجائے جو انہوں نے چھپا رکھی ہے ،( سورۃالنور: 31)‘‘ ۔
علّامہ ابو بکر جصاص حنفی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :’’ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ عورت کو اتنی بلند آواز کے ساتھ کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کو اجنبی مرد سن لیں، کیونکہ پازیب کی آواز سے اس کی اپنی آواز زیادہ فتنہ انگیز ہے، اسی وجہ سے ہمارے فقہاء نے عورت کی اذان کو مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ اس میں آواز بلند کرنی پڑتی ہے اور عورت کو آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے، (احکامِ القرآن جلد 3ص: 319،مطبوعہ: سہیل اکیڈمی، لاہور )۔‘‘
جس طرح قرآن مجید میں عورت کے آواز بلند کرنے کی ممانعت بطور کنایہ اور مبالغہ ہے ،اسی طرح حدیث میں بھی عورت کے آواز بلند کرنے کو کنایہ اور مبالغہ سے منع کیا ہے، امام بخاری روایت کرتے ہیں: ’’ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (امام کو سہو پر مطلع کر نے لیے )مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہنا) اور عورتوں کے لیے تصفیق ( یعنی داہنے ہاتھ کی انگلیاں بائیں ہاتھ کی پشت پر مارنا ) ہے،(صحیح بخاری : 1203)‘‘۔
اسی کی مثل حضرتِ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے (صحیح بخاری :1204) روایت ہے، اس حدیث کو امام مسلم اور امام ابو داؤد نے بھی روایت کیا ہے ۔ (جاری ہے)