• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: طواف اور سعی کے دوران بعض لوگ چپل پہنے ہوتے ہیں، ہمیں بڑوں نے یہی سکھایا ہے کہ مسجد میں جوتوں سمیت داخل ہونا ادب کے خلاف ہے، اس لیے سعی کے دوران پاؤں میں سخت درد کے باوجود ہم چپل نہیں پہنتے تھے، اب بہت لوگ چپل پہن کر سعی کر رہے ہوتے ہیں تو کیا اس میں کوئی نرمی ہے تو بتا دیجیے، تاکہ بوقتِ ضرورت اسے اختیار کیا جاسکے؟

جواب: مسجدِ حرام یا کسی بھی مسجد کی حدود میں جوتے/ چپل پہن کر جانا خلافِ ادب ہے، آپ کے بڑوں نے آپ کو صحیح ادب سکھایا ہے، اور دین نے ہمیں مقدسات کے ادب کی تعلیم دی ہے۔البتہ اگر کسی شخص کے پاؤں میں زخم یا تکلیف ہو یا اس کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو یا کوئی اور مرض ہو، جس کی بناء پر ننگے پیر چلنے میں دشواری ہو تو اس کے لیے نجاست اور گندگی سے پاک و صاف جوتے/ چپل پہننے کی گنجائش ہے۔

تاہم اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ مسجدِ حرام، مطاف اور مسعی (صفا و مروہ) کے لیے جوتوں/ چپل کا ایک پاک صاف علیحدہ جوڑا رکھ لے جو کہیں اور استعمال نہ کرے۔نیز اگر مُحرم (احرام کی حالت والے شخص) کو مذکورہ اعذار کی بناء پر مسجدِ حرام یا مطاف وغیرہ میں چپل پہننے کی ضرورت ہو تو ایسی چپل استعمال کرے جو حالتِ احرام میں پہننا جائز ہو۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ صفا ومروہ چوں کہ حکم کے اعتبار سے مسجدِ حرام میں داخل نہیں ہیں، لہٰذا وہاں پاک صاف جوتے/ چپل پہننے کی بہر حال گنجائش ہے۔ (ردّ المحتار، باب ما يفسد الصلاۃ، وما ويکرہ فيھا، ج:1، ص:657، و کتاب الحج ، ج: 2، ص:490، ط: سعید)

اقراء سے مزید