• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گود بھرائی محض ایک سماجی رسم ہے، اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں

تفہیم المسائل

سوال: گود بھرائی کی رسم کے متعلق شرعی حکم کیا ہے، آج کل ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے جو Baby shower کے نام سے موسوم ہے، اس میں مختلف قسم کے گیمز وغیرہ کھیلے جاتے ہیں، جو اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ پیدا ہونے والا لڑکا ہے یا لڑکی، اِسے Gender Reveal Games کہتے ہیں۔

لڑکی کے گھر والوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ پھلوں کا ٹوکرا، میوہ جات کا ٹوکرا، کپڑے اور مزید جو کچھ دے سکیں، اس رسم میں لے کر آئیں، نیز بچے کی پیدائش کے بعد چھٹی اور پھر سوا مہینہ پورا ہونے پر بھی سامان کا مطالبہ کیا جاتا ہے، یہ سارا پھل اور میوہ لڑکی نہیں کھاسکتی، دوسرے لوگ کھائیں گے، کیا یہ سب جائز ہے؟

جواب: تمہید: گود بھرائی کی رسم میں حاملہ عورت کی گود میں مختلف قسم کے پھل اور خشک میوہ جات ڈالے جاتے ہیں، پھر ان پھلوں کو نیک فال کے طور پر اُن عورتوں میں تقسیم کردیا جاتاہے جن کے گھر اولاد نہ ہو۔ اس طرح کی رسم کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی شرعی ثبوت موجود ہے۔وکی پیڈیا (آزاد دائرۃ المعارف) پر اس حوالے سے جس قدر معلومات درج ہیں، وہ سب ہندوانہ رسوم پر مبنی ہیں، مغربی ممالک میں بھی رائج ہے اور وہاں اسے ’’Baby shower‘‘کہتے ہیں۔

اپنی ہیئت کے اعتبار سے مختلف قبیح ،لغو اور خلافِ شرع اُمور پر مشتمل ہے، ہندوؤں کے ہاں اس کا آغاز اُن کی مذہبی عبادت ’’پوجا‘‘ سے کیاجاتا ہے۔ یہ تقریب برصغیر کے مسلمانوں میں بھی رائج ہے، مسلمانوں میں پوجا کی بجائے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاہم کئی رسوم و رواج ان میں اور ہندو عوام میں مشترک ہیں۔

(۱)عموماًیہ رسم بدعات ومنکرات، بے پردگی، بیہودگی، ناچ گانا اور دیگر منکراتِ شرعیہ پر مشتمل ہوتی ہے، اگر یہ صورت ہو تو ایسی رسم منانا شرعی طور پر ناجائز و گناہ ہے، ان اُمور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس سے اجتناب لازم ہے۔

(جاری ہے)

اقراء سے مزید